ایران: لاریجانی; لیبیا اور تونس کا نیا آئین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بنا یا جائے گا

Posted: 28/10/2011 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنت میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیش کے رکن نے کہا ہے کہ تیونس میں اسلامی پارٹی النہضۃ کی کامیابی سے اس ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کا امکان بڑھ گيا ہے۔ سید علی آقا زادہ نے تیونس میں اسلامی پارٹیوں کی کامیابی کے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت تیونس نے اس ملک کے ڈکٹیٹر کے خلاف قیام کرکے اپنا کھویا ہوا اسلامی تشخص دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ درایں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تیونس کے انتخابات میں اسلام پسندوں کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملت تیونس اسلام کی طرف رجحان رکھتی ہے۔ڈاکٹر لاریجانی نے تیونس کے عام انتخابات میں اسلامی پارٹیوں کی کامیابی پر انہیں مبارک باد پیش کی اور کہا کہ گذشتہ ایک برس میں اسلامی ملکوں کے حالات اسلامی بیداری کا ثبوت ہیں۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ ان حالات کے آغاز سے ہی رہبرانقلاب اسلامی نے عصر حاضر میں اسلامی بیداری کی بات کی تھی اور تیونس کے عام انتخابات کے نتائج بھی بعض مغربی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے نظریئے کے باطل ہونے پر مہر تائید ثبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ملت تیونس کی نوے فیصد شرکت اور اسلامی پارٹیوں کی کامیابی ملت تیونس کی جانب سے اپنے اسلامی حقوق کے احیاء پر تاکید ہے ۔ تیونس کے عام انتخابات کے غیر رسمی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اسلامی پارٹیوں کو کامیابی ملی ہے اسلامی پارٹی النہضہ کو پینتالیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ شمالی افریقہ اور عرب دنیا میں بیداری کی لہر میں اسلامی عنصر جس سے مغربی دنیا انکاری رہی ہے اب نمایاں ہوکر سامنے آگیاہے لیبیا میں بھی انقلاب کونسل نے کھل کر کہا کہ ملک کا نیا آئین اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر وضع کیا جائےگا۔لیبیا میں تو انقلابی عوام نے اپنی کامیابی کے جشن کے موقع آج لیبیا کل فلسطین کے نعرے لگاکر مغرب ملکوں کی راتوں کی نیند چھین لی ہے اور فرانس نے اس معاملے پر اپنی گہری تشویش بھی ظاہر کی ہے۔ قیصر لیبیا اور تیونس میں اسلامی بنیادوں پر آئین اور حکومتوں کی تشکیل پر سامراجی طاقتوں کے عزائم کو کتنا نقصان پہنچےگا؟ اس کا اندازہ مغربی ملکوں کے حکام کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔  ادہر تیونس کے عام انتخابات پر نگرانی کرنے والے مبصر اور افریقی یونین کے نمائندے احمد ولد سید احمد نے کہا ہےکہ انتخابات کے کارکنوں نے بڑی محنت سے عوام کے ووٹوں کو مفید اور فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی ہے، اور صاف و شفاف انتخابات کروانے میں کارکنوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔جبکہ یورپی یونین نے تونس کے انتخاباتی عمل کےآزاد اور شفاف ہونے کا اعتراف کرتے کہا کہ یورپی یونین، سابق صدر بن علی کے سوئیس بنکوں میں موجود اثاثوں کو واپس لوٹانے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریگی۔واضح رہے کہ سابق صدر بن علی نے تقریبا تیس سالوں پر محیط اپنی حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر قومی دولت کو اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیا ہے۔

Comments are closed.