یاسر عرفات کا تختہ الٹنے کیلیے محمود عباس کے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کا انکشاف

Posted: 26/10/2011 in All News, Breaking News, Important News, Palestine & Israel, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, USA & Europe

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس میں بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کے محمود عباس کے ساتھ یاسر عرفات کو ہٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ سابق صہیونی وزیراعظم ایرئیل شیرون کی خصوصی ڈائری سے لیا گیا ہے۔  اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ایک خفیہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے موجودہ سربراہ محمود عباس المعروف ابو مازن نے سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کا تختہ الٹنے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی اخبارات میں شائع ایک خفیہ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم ایرئیل شیرون کے دور حکومت میں اس وقت کے فلسطینی وزیراعظم محمود عباس کے اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوتے رہے۔ خیال رہے کہ اس وقت محمود عباس فلسطینی انتظامیہ کے صدر جبکہ شمعون پیریز اسرائیل کے صدر ہیں۔ ان مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کے سابق صدر یاسر عرفات کا تختہ الٹنے اور ان کی جگہ محمود عباس کو فلسطینی انتظامیہ کا سربراہ مقرر کرنے پر بات چیت ہوتی رہی۔  اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس میں بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کے محمود عباس کے ساتھ یاسر عرفات کو ہٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ سابق صہیونی وزیراعظم ایرئیل شیرون کی خصوصی ڈائری سے لیا گیا ہے۔ اس ڈائری میں ایرئیل شیرون کے تحریر کردہ تمام اہم واقعات پر مشتمل ایک کتاب جلد شائع ہو رہی ہے۔ کتاب کی اشاعت شیرون کے بیٹے گیلاد شیرون کر رہے ہیں اور وہ اس کی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ عبرانی زبان میں سامنے والے اس خفیہ مراسلے میں محمود عباس کے اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ اور موجودہ صدر شمعون پیریز کے ساتھ مکالمے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران محمود عباس اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان کے خفیہ مذاکرات کا فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ یاسر عرفات یاس کسی دوسرے عہدیدار کو علم ہو گیا تو یہ ان کی موت کا باعث بنے گا۔ لہذا اسے صیغہ راز میں رکھا جائے۔ محمود عباس کے کہنے پر ان تمام مذاکرات کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ دوران مذاکرات محمود عباس نے یاسر عرفات مرحوم کو “غیرحقیقی” انسان قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ جلد از جلد فلسطینی اتھارٹی کو ان سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ خفیہ مراسلے کے مطابق محمود عباس جو اس وقت فلسطینی حکومت کے وزیراعظم تھے اس بات کے لیے کوشاں تھے کہ ان کی وزارت عظمٰی کے بعد وہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ مقرر ہوں۔ انہوں نے اسرائیل سے اپیل کی تھی کہ وہ انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں اور امریکا سے بھی کہیں کہ اگر میں فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ بن جاوں تو وہ میری بھرپور مالی معاونت کرے۔ محمود عباس کے اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔

Comments are closed.