مذہبی آزادی کو دبانے سے نقصان ہوسکتا ہے، کلنٹن

Posted: 26/10/2011 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Important News, Religious / Celebrating News, Russia & Central Asia, USA & Europe

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور ازبکستان کو مذہبی آزادی کو دبانے کے منفی نتائج سے خبردار کیا ہے۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں استحکام کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے خاصہ اہم خیال کرتا ہے۔ وزیر خارجہ کلنٹن نے تاجک صدر امام علی رحمانوف اور ازبک صدر اسلام کریموف سے ملاقات کے بعد افغانستان کے سلسلے میں ان دونوں ممالک کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ کلنٹن کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی مذہبی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ دوشنبے میں تاجک صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا، ’میں مذہبی آزادی پر قدغن کے خلاف ہوں اور اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات سے متفق ہوں‘۔ امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسی قدغنوں کے باعث جائز مذہبی آزادی دب جاتی ہے اور منفی و سخت گیر نظریات فروغ پاتے ہیں۔ کلنٹن نے ’نئی شاہراہ ریشم‘ کے نام سے ایک منصوبہ کی اہمیت بھی اجاگر کی، جس کے تحت خطے میں معاشی خوشحالی کو ممکن بنانے کی بات کی جارہی ہے۔  تاجکستان اور افغانستان کے درمیان قریب 1300 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جو روایتی تجارت کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہے امریکی حکومتی ذرائع کے مطابق کلنٹن نے اپنے دورہء وسطی ایشیاء میں افغانستان متعین امریکی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے معاملات پر بھی بات کی۔ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ کے باعث اس راہداری کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ ان وسطی ایشیائی سابق سوویت ریاستوں میں دہائیوں سے آمرانہ طرز کی حکومتیں قائم ہیں۔ تاجک صدر رحمانوف 1992ء سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔ صدر رحمانوف کی روس نواز سکیولر حکومت اور مخالفین کے مابین 1992ء تا 1997ء کی خانہ جنگی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مسلم اکثریتی آبادی والی ان وسطی ایشیائی ریاستوں میں مذہبی آزادی محدود ہے۔ قریب 75 لاکھ کی آبادی والے  ملک تاجکستان میں ایسا قانون متعارف کروایا گیا ہے، جس سے نوجوانوں کی مذہبی مقامات میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاجک صدر کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیاں ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ازبک صدر اسلام کریموف بھی مذہبی آزادی کو محدود تر رکھنے پر مصر ہیں۔

Comments are closed.