قادری کو سزا سنانے والے جج کے خاندان کا ترک وطن

Posted: 26/10/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

پاکستانی صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو موت کی سزا سنانے والے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سکیورٹی خطرات کے سبب اپنے اہل خانہ سمیت سعودی عرب منتقل ہو گئے ہیں۔ جج پرویز علی شاہ نے یکم اکتوبر کو سلمان تاثیر کے قاتل اور سابق پولیس اہلکار ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔یہ سزا سنائے جانے کے بعد ممتاز قادری کے حامی وکلاء کے ایک گروپ نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس کے بعد سے جج پرویز علی شاہ طویل رخصت پر تھے۔ اسی مقدمے میں استغاثہ کے وکیل سیف الملوک کے مطابق جان سے مار دیے جانے کی دھمکیوں نے پرویز علی شاہ کو اپنے اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس وکیل کے مطابق حکومت نے متعلقہ جج کو سکیورٹی تو مہیا کر رکھی تھی لیکن خفیہ ایجنسیوں نے ایسی رپورٹیں دی تھیں کہ پرویز علی شاہ کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔سابق وزیر قانون اور سپریم کورٹ کے وکیل اقبال حیدر نے جان کے خطرے کے پیش نظر ایک جج  کے وطن چھوڑ کر بیرون ملک چلے جانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کا نوٹس سپریم کورٹ کو بھی لینا چاہیے کہ اگر اسی طرح سے لوگ عدالتوں پر حملے کرتے رہیں گے تو انصاف کیسے ملے گا؟ اس کا مطلب ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ یہ حکومت کی بہت بڑی نا اہلی ہے کہ اس نے عدالتوں کو اور ججوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ان کو کہہ دیا ہے کہ آپ طویل رخصت پر چلے جائیں۔‘‘خیال رہے کہ اس سے قبل 1997ء میں لاہور ہائی کے ریٹائرڈ جج عارف اقبال بھٹی کو نامعلوم افراد نے ان کے چیمبر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عارف اقبال بھٹی نے پیغمبر اسلام کی شان میں مبینہ گستاخی کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کو رہا کر دیا تھا، جس پر سخت گیر مذہبی حلقے ان سے ناراض تھے۔پنجاب میں حکمران مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ زندگی چلے جانے کے خوف سے کسی بھی شہری کاملک چھوڑ دینا ریاست کے ذمہ دار افراد کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کا، ان کی جائیداد کا، ان کی زندگی کا تحفظ کرے۔ اور اس کا معیار بہترین ہو۔ خاص طور پر آج کل کے حالات میں پاکستان میں جس طرح کی صورتحال بن رہی ہے، لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔‘‘خیال رہے کہ سخت گیر مذہبی تنظیموں نے ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائے جانے کے خلاف جج پرویز علی شاہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا اور بعد ازاں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس جج کو قتل کرنے والے شخص کے لیے انعام کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔ملزم ممتاز قادری نے اپنی سزائے موت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے، جہاں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف ممتاز قادری کی اپیل کی پیروی کر رہے ہیں۔

Comments are closed.