طالبان کا حصہ ہیں، امریکا سے براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے، حقانی نیٹ ورک

Posted: 26/10/2011 in Afghanistan & India, All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

لندن: سینئر کمانڈر نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا طالبان شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ کمانڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر چکا ہے، لیکن ان کا گروپ ملاعمر کی قیادت میں طالبان کا حصہ ہے۔  حقانی نیٹ ورک کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کا گروپ امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق حقانی گروپ کے ایک سینئر کمانڈر کا کہنا ہے کہ امریکا افغان تنازع کا حل اس وقت تک تلاش نہیں کر سکتا جب تک وہ طالبان شوریٰ سے بات چیت نہ کرے۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک انفرادی طور پر امریکا کے ساتھ بات چیت میں شریک نہیں ہو گا اور کوئی بھی مذاکرات طالبان قیادت کی سربراہی میں ہوں گے۔ سینئر کمانڈر نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا طالبان شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ کمانڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر چکا ہے، لیکن ان کا گروپ ملاعمر کی قیادت میں طالبان کا حصہ ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق حقانی نیٹ ورک نے طالبان کی شرکت کے بغیر افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ افغان حقانی نیٹ ورک کے سینئر کمانڈر نے غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حقانی نیٹ ورک طالبان کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتا۔ سینئر کمانڈر نے بتایا کہ امریکا نے مذاکرات کے لیے حقانی نیٹ ورک سے متعدد بار براہ راست رابطہ کیا ہے۔ مگر انہوں نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ افغانستان میں امن کے لیے طالبان قیادت سے بات کرنی چاہئے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا تھا کہ امریکا نے حقانی نیٹ ورک سے ملاقاتیں کی ہیں۔

Comments are closed.