سعودی سفیر قتل سازش ایران کا کام نہیں، معروف اسرائیلی محقق

Posted: 26/10/2011 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Articles and Reports, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Palestine & Israel, USA & Europe

معروف اسرائیلی محقق یوسی ملمین نے امریکہ کی جانب سے ایران پر سعودی سفیر کے قتل کی سازش تیار کرنے کے الزام کو انتہائی مشکوک اور غیرقابل قبول قرار دیا ہے۔ یوسی ملمین (Yossi Melman) انتہائی معروف اسرائیلی تجزیہ نگار اور محقق ہیں جو اسٹریٹجک اور انٹیلی جنس سے مربوط مسائل اور موضوعات پر اسرائیل کے عبری زبان میں شائع ہونے والے اخبار “ہارٹز” میں کالم لکھتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی اور مغربی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سے انتہائی قریبی تعلقات کی وجہ سے انکے تجزیے اور کالم انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ یوسی ملمین نے حال ہی میں اسرائیلی اخبار ہارٹز (Haaretz) میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف سعودی سفیر کو قتل کرنے اور واشنگٹن میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں پر حملہ کرنے کی سازش بنانے کے الزام کے بارے میں ایک مفصل تجزیہ شائع کیا ہے جس میں اس الزام کو انتہائی بے اساس اور ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ ملمین نے اس کالم میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر واشنگٹن میں سعودی سفیر جناب عادل الجبیر کو قتل کرنے کی سازش بنانے کا الزام انتہائی شکوک و شبہات کا حامل ہے۔ انہوں نے لکھا اس موضوع کے بارے میں فاش ہونے والی انتہائی کم معلومات واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ منصوبہ انتہائی نامنظم انداز میں بنایا گیا اور اسکے بنانے والے انتہائی اناڑی لوگ ہیں، اسی وجہ سے اس میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی دعوے پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معروف اسرائیلی محقق اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں ایران کے سیاسی مسائل کے اکثر محققین جو گری سک [کارٹر دور کے قومی سلامتی کونسل کے اعلی سطحی رکن اور مشیر] کی سربراہی میں “گالف 2000” نامی انٹرنیٹ پراجیکٹ کے حامی بھی ہیں، امریکہ کی جانب سے کئے گئے اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ان میں سے بعض محققین اس عقیدے کے حامی ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما کی حکومت نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مدد سے یہ ڈرامہ رچایا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے حق میں ہموار کیا جا سکے۔ یوسی ملمین نے اپنے اس کالم میں تاکید کی ہے کہ امریکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر اپنا دباو برقرار رکھے گا تاکہ یہ ایجنسی ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کو منظرعام پر لے آئے۔ یاد رہے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انٹیلی جنس ذرائع کے بقول دعوا کیا ہے کہ تہران ایسے آلات کے ذریعے تجربات کرنے میں مصروف ہے جو ایٹمی ہتھیاروں بنانے سے مختص ہیں۔ یوسی ملمین کے بقول یہ مسئلہ جس نے عالمی رائے عامہ کو اپنی جانب مبذول کر رکھا ہے مشرق وسطی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ معروف اسرائیلی محقق اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں بعض افراد اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد کو اس مسئلے میں ملوث ہونے کو ثابت کریں اور اس پر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگائیں، وہ اس بارے میں امریکہ کی جانب سے عراق پر فوجی حملے کا جواز فراہم کرنے میں اسرائیل کے کردار کی مثال بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد سے ہٹ کر جو سازش کے نظریئے کو قبول کرتے ہیں، امریکی قوم اور دنیا بھر کے افراد کو اچھی طرح یاد ہے کہ سابق امریکی صدر جرج بش نے کس طرح ملکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے صدام حسین کی جانب سے ایٹمی، کیمیکل اور بیالوجیکل ہتھیار بنانے سے متعلق غلط معلومات کی بنیاد پر عراق کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا اور ان معلومات کو 2003 میں عراق پر فوجی حملے کا جواز ظاہر کیا۔ یوسی ملمین آخر میں لکھتے ہیں اگر امریکی حکومت کا موقف اپنی انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے فراہم شدہ معلومات کی بنیاد پر ہے تو ماضی میں عراق پر حملے کے وقت انجام پانے والی غلطیوں کے پیش نظر ہم کیسے مطئن ہو سکتے ہیں وہ غلطیوں ایک بار پھر دہرائی نہ گئی ہوں؟۔

Comments are closed.