تیونس میں انتخابات: خواتین کو بھاری نمائندگی ملنے کا امکان

Posted: 26/10/2011 in All News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

تیونس، جو خواتین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے معاملے میں شمالی افریقہ کے سب سے آزاد خیال ممالک میں شامل ہے، آج بھی خواتین کی سیاسی نمائندگی سے متعلقہ مسائل سے دو چار ہے۔ تیونس میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے تاریخی انتخابات کے بعد بننے والی نئی آئین ساز اسمبلی میں متوقع طور پر مشرق وسطیٰ کی کسی بھی دوسری قومی پارلیمنٹ کے مقابلے میں خواتین ارکان کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ لیکن تیونس میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنوں کے لیے یہ بھی کافی نہیں ہو گا کیونکہ انہوں نے خود کو اپنی ترقی پسندانہ پالیسیوں کی بنا پر عرب دنیا کے باقی حصوں سے ہمیشہ ہی ممتاز سمجھا ہے۔ ملک کے پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے حکومت نے امیدواروں کی انتخابی فہرست میں عورتیں کی تعداد کم از کم نصف رکھنا لازمی قرار دیا تھا۔ تاہم مختلف انتخابی حلقوں کی اُن ایک ہزار سے زائد انتخابی فہرستوں میں سے صرف چھ فیصد میں ہی خواتین کو اعلیٰ ترین سیاسی امیدواروں کی حیثیت حاصل رہی۔ چونکہ معمول کے مطابق ہر فہرست میں پہلی پوزیشن والے امیدوار کو ہی سیٹ ملنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر نئی آئین ساز اسمبلی میں حالیہ الیکشن کے بعد بھی مرد اراکین کی تعداد خواتین سے زیادہ ہی ہوگی۔  تیونس میں ڈیموکریٹ خواتین کی ملکی ایسوسی ایشن کی چند اراکین نےاس حوالے سے اپنے ایک بیان میں ملک میں خواتین سیاستدانوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس ایسوسی ایشن کی رہنما ثنا بن عاشور نے، جو ایک جج ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘سیاسی معاشرہ ابھی تک ہمارے عزائم کی سطح پر نہیں پہنچا ہے۔’’ تیونس عرب دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین عدلیہ سے لے کر طب، تعلیم، حکومتی امور اور سکیورٹی فورسز سمیت بہت سے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ملک کی یونیورسٹیوں میں طالبات کی شرح پچپن فیصد ہے جبکہ آئین ساز اسمبلی میں یہ شرح اگر 20 اور 30 فیصد کے درمیان بھی رہی، تو بھی یہ شرح مصر، اردن، مراکش اور دیگر عرب ممالک میں خواتین کوحاصل پارلیمانی نمائندگی سے کہیںزیادہ ہو گی۔ اس صورتحال پر اظہارخیال کرتے ہوئے پروگریسو ڈیموکریٹکپارٹی کی رہنما میہ الجریبی نے کہا کہ “اس خلا کو پُر کرنے کے لئے ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔فی الحال ہمارا سب سے بڑا مقصد انتخابات میں نمایاں فتح حاصل کرنا ہے۔” ملک کے قدامت پسند علاقوں میں اب بھی خواتین امیدواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ قصرین کے شہر میں بائیں بازو کی ڈیموکریٹکموومنٹپارٹیسے تعلق رکھنے والی اُمیدوار مُنیرہ علاوی کا کہنا ہے کہ “ان علاقوں میں سماجی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کی کافی کمی ہے کیونکہ صرف خواتین کی اقلیت ان کاموں میں حصہ لینا چاہتی ہے اور اکثریت کو دلچسپی نہیں۔” ورکرز کمیونسٹ پارٹی کے حما حمامی کا کہنا ہے کہ “معاشرے میں ایسے مردوں کی کمی نہیں ہے جو اعلیٰ ترین عہدوں پر خواتین کو برداشت نہیں کر سکتے۔”

Comments are closed.