Archive for 26/10/2011

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ سامراجی طاقتوں کی طرف سےشام پر موجودہ دباؤ کا مقصد ، اسرائيل مخالف محاذ کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اگر بشار اسد آج امریکہ کی طرف چلے جائیں اوراس کے سامنے تسلیم ہوجائیں توفوری طور پر تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ سامراجی طاقتوں کی طرف سےشام پر موجودہ دباؤ کا مقصد ، اسرائيل مخالف محاذ کو کمزور کرناہے اگر بشار اسد آج امریکہ کی طرف چلے جائیں اوراس کے سامنے تسلیم ہوجائیں توفوری طور پر تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔انھوں نے کہا کہ جو کچھ اس وقت شام میں ہورہا ہے یقینی طور پر اس کے اثرات لبنان پر مرتب ہونگے اسی طرح لبنان میں عدم استحکام کا بھی شام پر اثر پڑےگا انھوں نے کہا کہ شام اور لیبیا میں بہب بڑا فرق ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ والے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے خوف کھا رہے ہیں کیونکہ شام کے ساتھ اسرائیل کی سرحد ہے اور امریکہ و یورپ نہیں چاہتے کہ اسرائيل کے لئے کوئي مشکل پیدا ہوانھوں نے کہا کہ شام کے عوام کی اکثریت اصلاحات کی حامی ہے اور شام نے دشوار مرحلے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ لبنان کی موجودہ حکومت قومی نمائندہ حکومت ہے جس نے اپنے مختصر دور میں اہم اور نمایاں کام انجام دیئے ہیں۔

Advertisements

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور حزب اللہ لبنان کے رہنما حاج عماد مغنیہ (حاج رضوان) کے قتل کے متعلق شام کے سرکاری ٹی وی مشرق نیوز پراتوار کے روز ایک ٹیپ ریکارڈ بیان جاری کیا جائے گا جس میں سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور حزب اللہ کے کمانڈر شہید عماد مغنیہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریر ی ١٤ فروری ٢٠٠٥ء میں بیروت میں ایک کار بم حملہ میں شہید ہو گئے تھے جبک حزب اللہ کے سینئر کمانڈر حاج شہید عماد مغنیہ ١٢ فروری ٢٠٠٨ ء کو شام میں ایک کار بم دھماکے میں شہید ہوئے تھے۔ شام کی سیکورٹی فورسز ی طرف سے سعودی شہزادے بندر بن سلطان جو کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں کی گرفتاری کے لئے بڑے پیمانے پر رپورٹ کی ہے۔ بعض عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی شہزادے بندر بن سلطان جو کہ خفیہ طریقہ سے شام میں داخل ہونا چاہتے تھے شام کی سیکورٹی فورسز نے انہیں ائیر پورٹ پر گرفتار کر لیا تھا۔ دوسری جانب لبنان کے روز نامے اتھابت نے پہلی مرتبہ شہید رفیق حریر ی کے قتل کے بارے میں عوام کے لئے معلومات کو شائع کرتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے شام میں یہ اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور شام میں حزب اللہ کے سینئر رہنما کمانڈر شہید عماد مغنیہ کے قتل کے لئے عراق میں موجود القاعدہ اور دہشت گرد گروہوں سے مدد لی تھی

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس میں بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کے محمود عباس کے ساتھ یاسر عرفات کو ہٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ سابق صہیونی وزیراعظم ایرئیل شیرون کی خصوصی ڈائری سے لیا گیا ہے۔  اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ایک خفیہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے موجودہ سربراہ محمود عباس المعروف ابو مازن نے سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کا تختہ الٹنے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی اخبارات میں شائع ایک خفیہ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم ایرئیل شیرون کے دور حکومت میں اس وقت کے فلسطینی وزیراعظم محمود عباس کے اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوتے رہے۔ خیال رہے کہ اس وقت محمود عباس فلسطینی انتظامیہ کے صدر جبکہ شمعون پیریز اسرائیل کے صدر ہیں۔ ان مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کے سابق صدر یاسر عرفات کا تختہ الٹنے اور ان کی جگہ محمود عباس کو فلسطینی انتظامیہ کا سربراہ مقرر کرنے پر بات چیت ہوتی رہی۔  اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس میں بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کے محمود عباس کے ساتھ یاسر عرفات کو ہٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ سابق صہیونی وزیراعظم ایرئیل شیرون کی خصوصی ڈائری سے لیا گیا ہے۔ اس ڈائری میں ایرئیل شیرون کے تحریر کردہ تمام اہم واقعات پر مشتمل ایک کتاب جلد شائع ہو رہی ہے۔ کتاب کی اشاعت شیرون کے بیٹے گیلاد شیرون کر رہے ہیں اور وہ اس کی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ عبرانی زبان میں سامنے والے اس خفیہ مراسلے میں محمود عباس کے اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ اور موجودہ صدر شمعون پیریز کے ساتھ مکالمے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران محمود عباس اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان کے خفیہ مذاکرات کا فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ یاسر عرفات یاس کسی دوسرے عہدیدار کو علم ہو گیا تو یہ ان کی موت کا باعث بنے گا۔ لہذا اسے صیغہ راز میں رکھا جائے۔ محمود عباس کے کہنے پر ان تمام مذاکرات کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ دوران مذاکرات محمود عباس نے یاسر عرفات مرحوم کو “غیرحقیقی” انسان قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ جلد از جلد فلسطینی اتھارٹی کو ان سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ خفیہ مراسلے کے مطابق محمود عباس جو اس وقت فلسطینی حکومت کے وزیراعظم تھے اس بات کے لیے کوشاں تھے کہ ان کی وزارت عظمٰی کے بعد وہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ مقرر ہوں۔ انہوں نے اسرائیل سے اپیل کی تھی کہ وہ انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں اور امریکا سے بھی کہیں کہ اگر میں فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ بن جاوں تو وہ میری بھرپور مالی معاونت کرے۔ محمود عباس کے اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔

اسلام آباد: تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات میں پاکستان میں ایران کے سفیر کا کہنا تھا کہ سابق خاتون اول کی موت پاکستانی عوام کے لئے ایک عظیم صدمہ ہے، ایرانی قوم اور حکومت اس غم میں پاکستان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔  بیگم نصرت بھٹو کے انتقال پر آج ایوان صدر میں مختلف ممالک کے سفیروں نے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ اس موقع پر پاکستان میں ایران کے سفیر ماشاءاللہ شاکری نے بھی تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نصرت بھٹو کی وفات پوری پاکستانی قوم اور بھٹو خاندان کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے ایرانی نژاد بیگم نصرت بھٹو کی دلیرانہ سیاسی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے سابق خاتون اول کی موت کو پاکستانی عوام کے لئے ایک عظیم صدمہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم اور حکومت اس غم میں پاکستان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔

معروف اسرائیلی محقق یوسی ملمین نے امریکہ کی جانب سے ایران پر سعودی سفیر کے قتل کی سازش تیار کرنے کے الزام کو انتہائی مشکوک اور غیرقابل قبول قرار دیا ہے۔ یوسی ملمین (Yossi Melman) انتہائی معروف اسرائیلی تجزیہ نگار اور محقق ہیں جو اسٹریٹجک اور انٹیلی جنس سے مربوط مسائل اور موضوعات پر اسرائیل کے عبری زبان میں شائع ہونے والے اخبار “ہارٹز” میں کالم لکھتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی اور مغربی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سے انتہائی قریبی تعلقات کی وجہ سے انکے تجزیے اور کالم انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ یوسی ملمین نے حال ہی میں اسرائیلی اخبار ہارٹز (Haaretz) میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف سعودی سفیر کو قتل کرنے اور واشنگٹن میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں پر حملہ کرنے کی سازش بنانے کے الزام کے بارے میں ایک مفصل تجزیہ شائع کیا ہے جس میں اس الزام کو انتہائی بے اساس اور ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ ملمین نے اس کالم میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر واشنگٹن میں سعودی سفیر جناب عادل الجبیر کو قتل کرنے کی سازش بنانے کا الزام انتہائی شکوک و شبہات کا حامل ہے۔ انہوں نے لکھا اس موضوع کے بارے میں فاش ہونے والی انتہائی کم معلومات واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ منصوبہ انتہائی نامنظم انداز میں بنایا گیا اور اسکے بنانے والے انتہائی اناڑی لوگ ہیں، اسی وجہ سے اس میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی دعوے پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معروف اسرائیلی محقق اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں ایران کے سیاسی مسائل کے اکثر محققین جو گری سک [کارٹر دور کے قومی سلامتی کونسل کے اعلی سطحی رکن اور مشیر] کی سربراہی میں “گالف 2000” نامی انٹرنیٹ پراجیکٹ کے حامی بھی ہیں، امریکہ کی جانب سے کئے گئے اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ان میں سے بعض محققین اس عقیدے کے حامی ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما کی حکومت نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مدد سے یہ ڈرامہ رچایا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے حق میں ہموار کیا جا سکے۔ یوسی ملمین نے اپنے اس کالم میں تاکید کی ہے کہ امریکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر اپنا دباو برقرار رکھے گا تاکہ یہ ایجنسی ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کو منظرعام پر لے آئے۔ یاد رہے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انٹیلی جنس ذرائع کے بقول دعوا کیا ہے کہ تہران ایسے آلات کے ذریعے تجربات کرنے میں مصروف ہے جو ایٹمی ہتھیاروں بنانے سے مختص ہیں۔ یوسی ملمین کے بقول یہ مسئلہ جس نے عالمی رائے عامہ کو اپنی جانب مبذول کر رکھا ہے مشرق وسطی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ معروف اسرائیلی محقق اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں بعض افراد اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد کو اس مسئلے میں ملوث ہونے کو ثابت کریں اور اس پر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگائیں، وہ اس بارے میں امریکہ کی جانب سے عراق پر فوجی حملے کا جواز فراہم کرنے میں اسرائیل کے کردار کی مثال بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد سے ہٹ کر جو سازش کے نظریئے کو قبول کرتے ہیں، امریکی قوم اور دنیا بھر کے افراد کو اچھی طرح یاد ہے کہ سابق امریکی صدر جرج بش نے کس طرح ملکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے صدام حسین کی جانب سے ایٹمی، کیمیکل اور بیالوجیکل ہتھیار بنانے سے متعلق غلط معلومات کی بنیاد پر عراق کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا اور ان معلومات کو 2003 میں عراق پر فوجی حملے کا جواز ظاہر کیا۔ یوسی ملمین آخر میں لکھتے ہیں اگر امریکی حکومت کا موقف اپنی انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے فراہم شدہ معلومات کی بنیاد پر ہے تو ماضی میں عراق پر حملے کے وقت انجام پانے والی غلطیوں کے پیش نظر ہم کیسے مطئن ہو سکتے ہیں وہ غلطیوں ایک بار پھر دہرائی نہ گئی ہوں؟۔

کراچی:  واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایسے وقت میں جب کہ ایران کے ساتھ امریکا کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے یہ تہران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا  امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عراق سے امریکی فوج کی واپسی پر انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کا ایران بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اپنی ایک رپورٹ میں اخبار لکھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت اور اس کی مسلح افواج امریکی فوجیوں اور ان کی تربیت کے بغیر بھی اپنا کام چلا سکتی ہیں مگر ایسے میں جب کہ ایران کے ساتھ امریکا کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے یہ تہران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا۔ اخبار نے عراق میں طویل جنگ کے خاتمے کے اعلان اور اس کے بعد کے حالات کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق میں جنگ صحیح معنوں میں صرف امریکی فوجیوں کے لیے ختم ہوگی کیونکہ عراقی باغی، جن میں القاعدہ بھی شامل ہے ملک کی نازک جمہوریت کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ اخبار کے خیال میں ایران اپنی ملیشیاؤں کی مدد جاری رکھے گا، ہزاروں نجی کنٹریکٹر امریکی سفارت کاروں اور تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہیں گے اور شمالی عراق میں جہاں ترکی نے مسلح حملے کا آغاز کر دیا ہے نسلی کردوں اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان تناؤ موجود رہے گا۔

افغان صدارتی محل کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ افغان صدر کے یہ ریمارکس کہ امریکی یا بھارت کے حملے کی صورت میں افغانستان پاکستان کی حمایت کرے گا، سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کئے گئے ہیں۔  افغان صدارتی محل نے کہا ہے کہ ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں صدر کرزئی کے بیان کی غلط تشریح کی گئی۔ صدر کرزئی نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ملک امریکی یا بھارت کے حملے کی صورت میں پاکستان کی حمایت کرے گا۔ ہفتہ کو رات گئے جاری انٹرویو میں صدر کرزئی نے کہا کہ اللہ نہ کرے اگر پاکستان اور امریکہ کے مابین کسی بھی وقت جنگ چھیڑ جاتی ہے تو افغانستان پاکستان کے ساتھ ہو گا۔ صدر کرزئی کے ان خیالات پر کابل میں مغربی حکام نے سخت حیرت کا اظہار کیا تھا۔ صدارتی محل نے کہا ہے کہ صدر کے یہ ریمارکس سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کئے گئے ہیں۔ صدر کے نائب ترجمان سہمک حراوی کا کہنا کہ پاکستانی میڈیا نے بیان کی غلط تشریح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے اسے غلط طور پر پیش کیا ہے۔ انٹرویو میں صرف صدر کے بیان کے پہلے حصے کو دکھایا گیا، جس میں صدر کرزئی نے کہا کہ جنگ کی صورت میں افغانستان پاکستان کی حمایت کرے گا، اسکی بجائے ان کا اشارہ کسی تنازع کی صورت میں پاکستان سے آنے والوں کو پناہ دینے پر افغانستان کی رضا مندی تھا، جس طریقے پاکستان نے لاکھوں افغانوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔ نائب ترجمان نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اگر پاکستان سے کوئی جنگ ہوتی ہے تو افغانستان اسکی حمایت نہیں کرے گا۔

لندن: سینئر کمانڈر نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا طالبان شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ کمانڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر چکا ہے، لیکن ان کا گروپ ملاعمر کی قیادت میں طالبان کا حصہ ہے۔  حقانی نیٹ ورک کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کا گروپ امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق حقانی گروپ کے ایک سینئر کمانڈر کا کہنا ہے کہ امریکا افغان تنازع کا حل اس وقت تک تلاش نہیں کر سکتا جب تک وہ طالبان شوریٰ سے بات چیت نہ کرے۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک انفرادی طور پر امریکا کے ساتھ بات چیت میں شریک نہیں ہو گا اور کوئی بھی مذاکرات طالبان قیادت کی سربراہی میں ہوں گے۔ سینئر کمانڈر نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا طالبان شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ کمانڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر چکا ہے، لیکن ان کا گروپ ملاعمر کی قیادت میں طالبان کا حصہ ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق حقانی نیٹ ورک نے طالبان کی شرکت کے بغیر افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ افغان حقانی نیٹ ورک کے سینئر کمانڈر نے غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حقانی نیٹ ورک طالبان کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتا۔ سینئر کمانڈر نے بتایا کہ امریکا نے مذاکرات کے لیے حقانی نیٹ ورک سے متعدد بار براہ راست رابطہ کیا ہے۔ مگر انہوں نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ افغانستان میں امن کے لیے طالبان قیادت سے بات کرنی چاہئے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا تھا کہ امریکا نے حقانی نیٹ ورک سے ملاقاتیں کی ہیں۔

رحیم یا رخان: لشکر جھنگوی کے رہنماء کی نظربندی پر شیعہ علماء نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا، مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے ملک اسحاق کی نظر بندی پر اسلام ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے اس اقدام کا مقصد اس دہشتگرد کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔  پنجاب حکومت نے کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے سرغنہ ملک اسحاق اور اس کے نائب غلام رسول کی نظر بندی میں 60 روز کی توسیع کردی ہے، ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے رحیم یار خان جیل کی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ملک اسحاق کی نظر بندی کو مزید 60 دن کے لئے بڑھا دیا گیا ہے، دوسری جانب بہاولنگر جیل میں نظر بند ملک اسحاق کے نائب غلام رسول کی قید میں بھی ساٹھ دن کی توسیع کر دی گئی ہے، واضح رہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی کا رہنماء ملک اسحاق درجنوں مقدمات میں نامزد ہے اور اس کی نظر بندی پر شیعہ علماء نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا، مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے ملک اسحاق کی نظر بندی پر اسلام ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے اس اقدام کا مقصد اس دہشتگرد کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

کراچی: ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع ُ پر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پانچ ملزمان محمد عادل اسلم، ناصر قادری، زین العابدین اور پٹھان خان کو گرفتار کر کے ایک کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحہ برآمد کیا ہے۔  سی آئی ڈی پولیس نے کراچی کے مختلف علاقوں سے تیس افراد کے قتل میں ملوث پانچ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر لیا، ملزموں کا تعلق مذہبی و سیاسی جماعتوں سے ہے۔ سی آئی ڈی پولیس کے مطابق خفیہ اطلاعات پر مختلف علاقوں میں کارروائی کے دوران پانچ ملزموں اسلم، ناصر قادری، نعمان، ضیاء العابدین اور عادل کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، دو ٹی ٹی پستول اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کر لیا۔ گرفتار ملزموں نے ابتدائی تفتیش میں تیس افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ ملزموں میں سے تین کا تعلق مذہبی اور دو کا سیاسی جماعتوں سے ہے، ملزموں سے مزید تفتیش جاری ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع ُ پر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پانچ ملزمان محمد عادل اسلم، ناصر قادری، زین العابدین اور پٹھان خان کو گرفتار کر کے ایک کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحہ برآمد کیا ہے۔ چوہدری اسلم کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے تین کا تعلق ایک مذہبی جماعت اور دو کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان تیس سے زائد افراد کے قتل میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

چکوال: وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد میں یہ خودکش حملہ ہوا تھا، جس متعدد سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔  لال مسجد کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والے خودکش حملے کے ماسٹر مائنڈ کو چکوال سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 2008ء میں وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد میں یہ خودکش حملہ ہوا تھا، جس متعدد سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ واقعہ کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا جس میں محمد زبیر نامی ماسٹر مائنڈ کا نام سامنے آیا تھا، جس کا تعلق غازی فورس نامی جہادی تنظیم سے تھا جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چکوال سے گرفتار کر لیا ہے، تاہم مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایران کی ساز باز سے امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کو بعض ایسے لوگ جو ایران کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، شک و شبہے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔ انٹیلی جنس کے بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ منصوبہ جس میں ایک ایران نژاد امریکی ملوث ہے، قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا ۔ ایران کے امور کے بہت سے ماہرین، سفیر عادل الجبیر کو قتل کرنے کی مبینہ ایرانی سازش کے بارے میں الجھن میں گرفتار ہیں۔ فوجداری رپورٹ کے مطابق، ٹیکساس میں رہنے والے  ایک ایران نژاد امریکی شہری نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے ایران میں مقیم ایک رکن کے ساتھ مل کر سعودی سفیر کو واشنگٹن میں قتل کرنے کی سازش کی ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس قتل کے لیے میکسیکو کے منشیات کا کاروبار کرنے والے ایک  گروہ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امریکی عہدے داروں کا اصرار ہے کہ ان کا کیس بہت مضبوط ہے۔ ایران نے سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔ کانگریشنل ریسرچ سروس میں ایران کے تجزیہ کار، Ken Katzman کہتے ہیں کہ ایران سے اس قسم کی کارروائی کی مطلق  توقع نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق امریکہ میں اس قسم کی سازش پر عمل کرنے کے بارے میں ایرانیوں کو خود اپنے لوگوں پر پورا اعتماد نہ ہوتا، تو وہ ہر گز ایسا نہیں کرتے۔وہ سعودیوں پر کہیں اور حملہ کرتے، جہاں وہ خود اپنے لوگوں پر اعتماد کر سکتے۔ وہ یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ ہمیں امریکہ میں یہ حملہ کرنا ہے جس کے لیے ہمارے پاس اپنے آدمی نہیں ہیں، اس لیے ہم دوسرے لوگوں سے یہ کام لیں گے، جنہیں ہم بالکل نہیں جانتے ۔ جو لوگ ایرانی دہشت گردی کا برسوں سے  مطالعہ کرتے رہے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے ۔ قدس فورس کے کارندوں نے بعض اوقات یورپ اور مشرق وسطیٰ میں حکومت کے مخالف ایرانیوں کو ہلاک کیا ہے ۔ لیکن Katzman کہتے ہیں کہ ایرانی ایک سفیر کو قتل کرنے کا کام کسی باہر کے گروپ کے حوالے کبھی نہیں کریں گے۔ یہ بات قرین قیاس نہیں۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایرانی سعودی سفیر کونشانہ کیوں بنائیں گے، اور وہ بھی امریکہ کی سرزمین پر۔ یہ صحیح ہے کہ شیعہ ایران اور سعودی بادشاہت کے درمیان تعلقات  ایک عرصے سے خراب رہےہیں۔ وکی لیکس نے 2008ء کا ایک سفارتی کیبل جاری کیا ہے جس  کے مطابق  واشنگٹن میں سعودی سفیر عادل الجبیر نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر حملہ کردے۔ لیکن جیسا کہ مشرقِ وسطیٰ میں سی آئی اے کے ریٹائرڈ عہدے دار، چارلس فیڈیز نے کہا، واشنگٹن میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنا، انتہائی خطرناک بلکہ احمقانہ حرکت ہوگی۔ ان کے الفاظ میں امریکہ کی سرزمین پر اتنی اہم شخصیت کو نشانہ بنانا ، جنگی کارروائی ہوگی جس کا مطلب ہوگا جوابی کارروائی کو دعوت دینا۔ ایسے وقت میں جب ہم عراق کو چھوڑ رہےہیں، اور افغانستان میں اپنی فوجیں کم کر ہے ہیں، اور ہم تقریباً دیوالیہ ہو چکے ہیں، ایسا کرنا کس طرح ایران کے مفاد میں ہو سکتا ہے؟ یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آتی۔ پرائیویٹ انٹیلی جنس فرم Stratfor کے تجزیہ کار  کامران بخاری کہتے ہیں کہ امریکہ کے دارالحکومت میں اس قسم کے قتل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ واشنگٹن اور ریاض ایک دوسرے کے اور قریب آ جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے نقطۂ نظر سے ، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی بہت مضبوط تعلق قائم ہے ۔ ایرانیوں کو موجودہ حالات سے نمٹنے میں ہی کافی دقت پیش آ رہی ہے۔ وہ کوئی ایسی حرکت کیوں کریں گے کہ یہ دونوں ملک اور بھی زیادہ قریب آ جائیں؟ جو تھوڑی بہت معلومات ملی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ Ken Katzman کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اصل ملزم، Mansour Arbabsiar نے ایرانی انٹیلی جنس سے رابطہ کیا ہو اور ان کے سامنے ایسا کوئی منصوبہ رکھا ہو جس پر عمل کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہ ہو۔ ان کا کہناہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے القدس فورسز سے کچھ تعلقات تھے۔ ممکن ہے کہ اس نے ان سے رابطہ کیا ہو اور انَھوں نے اسے صاف طور سے یا اتنی سخت سے  منع نہ کیا ہوجتنا انہیں کرنا چاہیئے تھا ۔ لیکن یہ خیال کہ یہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کی خوب جانچ کر لی گئی تھی، مجھے صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ سی آئے اے کے سابق افسر چارلز فیڈیزکہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایرانی  مستقبل میں Mansour Arbabsiar سے کچھ کام لینے کے لیے اسے ٹیسٹ کر رہے ہوں، اور اس عمل میں وہ الجھ کر رہ گئے۔ بقول ان کےیہ بھی ممکن ہے کہ یہ شخص ایرانیوں سے کچھ پیسہ اینٹھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے ایرانیوں سے کہا ہو کہ وہ ان کے لیے کیا کچھ کر سکتا ہے ۔ پھر ایرانیوں نے یہ معلوم کرنے کے لیے یہ شخص کون ہے، کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا، کچھ اقدامات کیے ہوں،  اور اس عمل کے دوران انہیں پتہ چلا ہو کہ یہ ساری کارروائی شروع ہی سے امریکی انٹیلی جنس اور نفاذ قانون کے اداروں کے کنٹرول میں رہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی عہدے داروں نے پتہ چلایا ہے کہ  ایران سے تقریباً ایک لاکھ ڈالر Arbabsiar کو منتقل کیے گئے۔ عہدے دار کہتے ہیں کہ یہ اصل کام کے لیے ابتدائی ادائیگی تھی ۔  لیکن فیڈیز کہتے ہیں کہ ایران میں اقتدار کے لیے بہت سی طاقتوں میں رسہ کشی ہوتی رہتی ہے ۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ یہ ساری کارروائی سرکاری منظوری کے بغیر  چوری چھپے کی جاتی رہی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران میں طاقت کے بہت سے سر چشمے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض افراد نے طے کیا ہو کہ وہ کہیں زیادہ اشتعال انگیز لائحہ عمل اختیار کرنا چاہتے ہیں  جسے اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہو سکے گی ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو حکومت کی مرضی کے بغیر سرگرم ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایرانی حکومت اس سازش میں ملوث ہو یا نہ ہو، صدر اوباما نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت کو ذمہ دار ٹھیرایا جائے گا ۔ ان کے الفاظ ہیں ’ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کی حکومت میں اعلیٰ ترین سطح کے لوگوں کو اس منصوبے کی تفصیلات کا علم نہ ہو تو بھی، ایرانی حکومت میں جو لوگ بھی اس قسم کی سرگرمی میں ملوث تھے ان کی جوابدہی ہونی چاہئیے‘۔ امریکہ محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ اس پلاٹ کے حوالے سے، امریکہ  اور ایران کے درمیان براہ راست رابطہ ہوا ہے، لیکن مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ عبداللہ کے سوتیلے بھائی اور شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز منگل کو سپرد خاک کردیئے گئے۔ ان کی نماز جنازہ ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی جبکہ ان کی تدفین ریاض کے ہی السعود قبرستان میں عمل میں آئی۔ وہ ولی عہد ہونے کے علاوہ نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور شہری ہوابازی کے وزیر بھی تھے۔ ان کی جگہ 77 سالہ شہزادہ نائف کوولی عہد مقرر کئے جانے کا امکان ہے تاہم ابھی اس کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔ سلطان بن عبدالعزیز کو بڑی آنت میں کینسر کی شکایت تھی جس کا کافی عرصے سے علاج چل رہا تھا ۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق اسی مرض نے گزشتہ ہفتے  ان کی جان لے لی۔ وہ نیویارک میں علاج کی غرض سے مقیم تھے ۔ یہیں ان کا انتقال ہوا جبکہ ان کی میت پیر کی رات نیویارک سے ریاض پہنچی تھی۔ اس وقت ریاض کا ائیرپورٹ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ شاہ عبداللہ خود بھی وہیں موجود تھے۔ ان کا جسد خاکی ایک تابوت میں رکھا گیا تھا جسے طیارے سے اتارنے کے بعد ایک ایمبولیس میں رکھ کرمقام مقصود تک پہنچایا گیا۔ سعودی عرب تیل پیداکرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے گہرے روحانی رشتے رکھتا ہے جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہیں مسجد الحرام اور مسجد نبوی ہیں۔ شاہ عبداللہ، مرحوم سلطان بن عبدالعزیز اور نائف 1995ء سے مختلف اوقات میں امور مملکت چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہ عبداللہ 80 کی دہائی کے آخری سالوں میں سعودی عرب کی شاہی حکومت میں شامل ہوئے۔ وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ بیماری کے سبب انہیں تین ماہ سے زیادہ مدت تک ملک سے باہر رہنا پڑا تھا۔ چند ماہ پہلے ان کا امریکہ اور ریاض میں آپریشن ہوا جبکہ ان دنوں بھی وہ ریاض کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی ان کی کمر کی سرجری ہوئی تھی۔  مبصرین کے مطابق اگرچہ مملکت سعودی عرب کے حکومتی امور کا سارا دارو مدار شاہ عبداللہ کے ذمے ہی رہے گا تاہم سلطان بن عبدالعزیز کی موت کے بعد یہ بار کافی حد تک شہزادہ نائف کے کاندھوں پر آجائے گا۔ ادھر ریاض کے گورنر شہزادہ سلمان جو سلطان بن عبدالعزیز اور نائف کے سگے بھائی اور شاہ عبداللہ کے سوتیلے بھائی ہیں ، ان کا کردار بھی اب امور مملکت میں بہت نمایاں ہوجائے گا۔ حکمراں خاندان میں شہزادہ سلمان کو اب انتہائی اہمیت حاصل ہوجائے گی۔شہزادہ نائف سے متعلق باور کیا جاتا ہے کہ شاہ عبداللہ کی نسبت سعودی عرب کے بااختیار اور کٹڑ مذہبی افراد سے ان کا قریبی تعلق ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ شہزادہ نائف اعتدال پسند شخصیت کے مالک ہیں تاہم وہ جمہوریت یا خواتین کے حقوق کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی میں جب وہ وزیر داخلہ تھے انہوں نے بغیر کسی شنوائی کے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت نائف نے اس امر پر شک کا اظہار کیا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق سعودی عرب سے ہے حالانک حقیقت یہ تھی کہ 19 ہائی جیکرز میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔  تاہم کچھ سابق سفیروں، مقامی صحافیوں اور شاہی خاندان سے مخلص لوگ شہزادہ نائف کی تصویر کو اچھا ثابت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہزادہ نائف پچھلے تیس سالوں سے امور مملکت میں اہم فرائض انجام دے چکے ہیں۔ سعودی عرب کے ایک انگریزی اخبار، عرب نیوز، کے مدیر اعلیٰ خالد المینا بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہزادہ نائف کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے مگر وہ ایک نرم دل شخصیت کے مالک ہیں ۔ انہیں مملکت کے امور سے مکمل آگاہی ہے۔  شاہ عبداللہ نے2006ء میں 35 شہزادوں پر مشتمل شوریٰ تشکیل دی تھی جس کو شاہ کے ساتھ مل کر ولی عہد کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،تاہم شاہی حکم کے ذریعے یہ وضاحت کردی گئی تھی کہ شاہ کیلئے اس شوریٰ کے فیصلے کی پابندی لازمی نہیں اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق ولی عہد کا انتخاب کرسکتا ہے۔ شاہ عبداللہ کے پاس سعودی عرب کے وزیراعظم کا منصب بھی ہے انہوں نے2009ء میں شہزادہ نائف کو دوئم نائب وزیراعظم نامزد کیا تھا جبکہ وزیردفاع اور نائب وزیراعظم کا منصب ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز کے پاس تھا۔ شہزادہ سلطان سعودی عرب کے نظام میں ہراول دستے کا کردار ادا کر تے رہے۔ مرحوم 5 جنوری 1928ء کو ریاض میں پیدا ہوئےشہزادہ سلطان کی عمر 83 سال تھی۔ اور قرآن اور عربی زبان کی تعلیم ریاض میں ہی حاصل کی۔ وہ مختلف اوقات میں ریاض کے گورنر، وزیر زراعت، وزیراطلاعات بھی رہے۔ خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بادشاہ بننے کے بعد انہیں ولی عہد مقرر کیا تھا۔

صدر حامد کرزئی کی طرف سے پاکستان کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہنے کے بعد کہ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان کبھی جنگ ہوتی ہے تو افغانستان اپنے برادر ہمسایہ ملک کا ساتھ دے گا، جہاں ایک طرف افغانستان میں صدارتی  ترجمان اپنے مغربی دوستوں کو  وضاحت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں دوسری طرف پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف  نے افغانستان کے صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھاکہ  میں سب سے پہلے تو صدر کرزئی کا شکر گزار ہوں کہ پہلی دفعہ انہوں نے پاکستان کے حق میں کوئی بات کی ہے۔ لیکن انہوں نے صدر کرزئی  کے خیالات کو بعید ازقیاس بھی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  اس قسم کے خیالات مجھے بہت ہی عجیب اور مضحکہ خیز لگتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کی جنگ ہوگی۔ میرے خیال میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ اور یہ سوچنا کہ پاکستان اور امریکہ کی جنگ ہوگی اور افغانستان ہماری طرف ہوگا، اس قسم کے خیالات مجھے بہت عجیب لگتے ہیں، بہت غیر معقول لگتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ان قیاس آرائیوں کے بعد کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں یک طرفہ آپریشن کر سکتا ہے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ سوال بار بار اٹھایا گیا کہ ایسی صورت میں پاکستان کا رد عمل کیا ہوگا۔ جنرل مشرف کے مطابق اس قسم کی باتیں افغانستان اور پاکستان دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے صدر کرزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں کرزئی صاحب کو یہی مشورہ دینا چاہوں گا کہ وہ پوری توجہ افغانستان کی طرف رکہیں اور  اپنے ملک میں سیاسی استحکام لائیں  اور القاعدہ اور طالبان کا عمل دخل ختم کرنے کا سوچیں۔ اور خیالات کو اس طرف نہ لے جائیں جس کا امکان ہی افغانستان اور پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا یعنی کہ پاکستان اور افغانستان مل کر امریکہ سے جنگ کر رہے ہوں۔ اور اس بات کا امکان بھی نہیں ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر کرزئی نے کوئی ایسا بیان دیا ہو جسے عالمی سطح پر انتہائی متنازعہ قرار دیا گیا ہو۔ لیکن مبصرین کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ صدر کرزئی پاکستان کے خلاف کئی سخت بیانات دینے کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں تھے۔  دوسری طرف امریکہ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اورا مریکہ کے درمیان کسی بھی مسلح  فوجی تنازع کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ترکی کے مشرقی شہر وان اور قریبی علاقوں میں آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چارسو تیس ہوگئی ہے اور تقریباً تیرہ سو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اتوار کو آئے شدید زلزلے سے تقریباً دو ہزار عمارتیں تباہ ہوگئیں ہیں اور اب بھی کئی افراد متاثرہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں تاہم ان کی درست تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔دھ کو امدادی کام کرنے والوں نے ایک رہائشی عمارت کے ملبے سے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد ایک نو زائیدہ بچے، اس کی ماں اور دادی کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ بچے کے باپ کی ہزاروں دیگر لاپتہ افراد کی طرح تلاش جاری ہے۔ زلزلے کے بعد متاثرین نے سرد موسم میں دوسری رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادای کارروائیاں زور شور سے جاری ہیں اور ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل عملہ لوگوں کو باہر نکالنے کے کام میں مشغول ہے جبکہ چھ سو اسّی ڈاکٹروں کی ٹیم طبّی کاموں پر مامور کی گئی ہے۔ سات فضائی ایمبولنس سمیت ایک سو آٹھ ایمبولنس گاڑیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ایرکس شہر کو پہنچا جہاں سب سے زیادہ عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات ہوئے ہیں۔ زلزلے کے بعد رات بھر امدادی کارروائیاں جاری رہیں اور ایسے خدشات ظاہر کیےگئے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ریسکیو اہلکار تمام رات لوگوں کو نکالنے کا کام کرتے رہے لیکن رات میں انہیں روشنی کے لیے بہت کم جنریٹرز میسر تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس یا جھٹکوں کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے انتہائی سرد موسم میں رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ ترکی کے زلزلے سے متعلق سینٹر کے سربراہ مصطفیٰ آردیک کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہزار کے قریب عمارتیں متاثر ہوئی ہیں اور سینکڑوں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ زلزلہ ترکی کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے ایک بج کر اکتالیس منٹ پر آیا اور اس کی سدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ دو تھی۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے بیس کلومیٹر نیچے تھا۔ اتوار کی شام کو بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت چھ اور پانچ اشاریہ چھ تھی۔ ایک بڑی فالٹ لائن پر ہونے کے باعث ترکی میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔ انیس سو ننانوے میں شمال مغربی حصے میں آئے زلزلےسے بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 

خفیہ راز افشاں کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے مالی مشکلات کے سبب خفیہ دستاویزات کی اشاعت فی الوقت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔وکی لیکس کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ مستقبل میں اپنی بقاء کے لیے فنڈز جمع کرنے پر توجہ دیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکی مالی کمپنیوں کی طرف سے پابندیوں کے سبب وہ ایسا کرنے پر مجوبر ہیں۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے کہا ہے کہ گزشتہ دسمبر سے بینک آ‌ف امریکہ، ویزا، ماسٹر کارڈ، پے پال اور ویسٹرن یونین نے غیر قانونی طور پر مالی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا’اس حملے نے ہماری آمدنی کے پچانوے فیصد حصے کو تباہ کر دیا ہے۔ جولین اشانژ کے مطابق تنظیم کو چلانے پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے اور اس دوران لاکھوں ڈالر کا اسے نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا’محض چند امریکی مالی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ پوری دنیا انہیں کی حمایت میں کھڑی ہو جائے۔ جولین اسانژ نے کہا کہ وکی لیکس کے لیے ضروری ہے کہ’وہ اپنے مخالفین اور ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز سے فنڈز جمع کرنے میں لگ جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وکی لیکس ان پابندیوں کے خلاف آئس لینڈ، ڈنمارک، برطانیہ، برسلز، امریکہ اور آ‎سٹریلیا میں پیشگي قانونی چارہ جوئی کر رہی ہے اور یورپی کمیشن میں بھی’اینٹی ٹرسٹ‘ شکایت درج کی گئي ہے۔ دنیا بھر میں امریکی سفارتی دستاویزات کو افشاء کرنے والی ویب سائٹ کے سربراہ جولین اسانژ سویڈن کواپنی حوالگی سے متعلق لندن کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ سوئیڈن نے اسانژ کی ملک بدری کی درخواست کی ہے جہاں ان پر جنسی حملے کرنے کا الزام ہے۔ تاہم جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف یہ کیس سیاسی وجوہات کی بنا پر بنایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے حساس نوعیت کی فوجی اور سفارتی دستاویزات کو اپنی ویب سائٹ کے ذریعے افشاء کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی جو اس ہفتے سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس صدی کے آخر تک آبادی دگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔دنیا کی آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی وجہ سے زمینی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے جس سے غربت اور بھوک بڑھے گی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی میں ہر سال آٹھ کروڑ انسانوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار نے بہت سے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ دنیا کی آبادی میں اضافہ ان کی توقعات سے کہیں زیادہ رفتار سے ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پرانے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی اکیسویں صدی کے اختتام تک دس ارب تک پہنچنے کی توقع تھی۔ تازہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق ادارے یو این ایف پی اے کی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں جو دنیا کی آبادی کے سات ارب تک پہنچنے کے تاریخی موقع کی مناسبت سے شائع کی جانی ہے۔ یہ رپورٹ ’دی اسٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن 2011‘ دنیا کے کئی شہروں میں بیک وقت شائع کی جانی ہے جب اکتیس اکتوبر کو دنیا میں کہیں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کی کل آبادی سات ارب کے ہندسے کو چھو جائے گی۔ چیئرمین آف پاپولیشن میٹرز راجر مارٹن کا جو دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک ہیں کہنا ہے کہ دنیا تباہی کے ایک نئے حصے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہماری دنیا ایک خطرناک طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی اور تیل کی پیدوار اپنے انتہائی درجے پر پہنچ کر کم ہونا شروع ہو گی۔ انیس سو ساٹھ سے اب تک دنیا کی آبادی دگنی ہو گئی ہے جس کی بڑی وجہ ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پیدائش کی شرح میں اضافہ اور بچوں کے لیے اچھی اور بہتر ادوایات کی دستیابی ہے جس سے بچوں کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکہ نے شام سے اور شام  نے امریکہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکی سفیر رابرٹ فورڈ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر دمشق چھوڑ چکے ہیں۔ اس امریکی اعلان کے بعد دمشق حکومت کا کہنا تھا کہ امریکہ میں تعینات سفیر عماد مصطفیٰ کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔ امریکی سفیر فورڈ کئی مرتبہ صدر بشارالاسد کی مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ سے شروع  ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم از کم تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستانی صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو موت کی سزا سنانے والے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سکیورٹی خطرات کے سبب اپنے اہل خانہ سمیت سعودی عرب منتقل ہو گئے ہیں۔ جج پرویز علی شاہ نے یکم اکتوبر کو سلمان تاثیر کے قاتل اور سابق پولیس اہلکار ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔یہ سزا سنائے جانے کے بعد ممتاز قادری کے حامی وکلاء کے ایک گروپ نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس کے بعد سے جج پرویز علی شاہ طویل رخصت پر تھے۔ اسی مقدمے میں استغاثہ کے وکیل سیف الملوک کے مطابق جان سے مار دیے جانے کی دھمکیوں نے پرویز علی شاہ کو اپنے اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس وکیل کے مطابق حکومت نے متعلقہ جج کو سکیورٹی تو مہیا کر رکھی تھی لیکن خفیہ ایجنسیوں نے ایسی رپورٹیں دی تھیں کہ پرویز علی شاہ کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔سابق وزیر قانون اور سپریم کورٹ کے وکیل اقبال حیدر نے جان کے خطرے کے پیش نظر ایک جج  کے وطن چھوڑ کر بیرون ملک چلے جانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کا نوٹس سپریم کورٹ کو بھی لینا چاہیے کہ اگر اسی طرح سے لوگ عدالتوں پر حملے کرتے رہیں گے تو انصاف کیسے ملے گا؟ اس کا مطلب ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ یہ حکومت کی بہت بڑی نا اہلی ہے کہ اس نے عدالتوں کو اور ججوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ان کو کہہ دیا ہے کہ آپ طویل رخصت پر چلے جائیں۔‘‘خیال رہے کہ اس سے قبل 1997ء میں لاہور ہائی کے ریٹائرڈ جج عارف اقبال بھٹی کو نامعلوم افراد نے ان کے چیمبر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عارف اقبال بھٹی نے پیغمبر اسلام کی شان میں مبینہ گستاخی کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کو رہا کر دیا تھا، جس پر سخت گیر مذہبی حلقے ان سے ناراض تھے۔پنجاب میں حکمران مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ زندگی چلے جانے کے خوف سے کسی بھی شہری کاملک چھوڑ دینا ریاست کے ذمہ دار افراد کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کا، ان کی جائیداد کا، ان کی زندگی کا تحفظ کرے۔ اور اس کا معیار بہترین ہو۔ خاص طور پر آج کل کے حالات میں پاکستان میں جس طرح کی صورتحال بن رہی ہے، لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔‘‘خیال رہے کہ سخت گیر مذہبی تنظیموں نے ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائے جانے کے خلاف جج پرویز علی شاہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا اور بعد ازاں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس جج کو قتل کرنے والے شخص کے لیے انعام کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔ملزم ممتاز قادری نے اپنی سزائے موت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے، جہاں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف ممتاز قادری کی اپیل کی پیروی کر رہے ہیں۔

اگر سب سے زيادہ آبادی والا ملک چين خاندانی منصوبہ بندی کے سخت اقدامات نہ کرتا تو آج عالمی آبادی يقيناً کئی سو ملين زيادہ ہوتی۔ ليکن چين کی فی گھرانہ ايک بچے کی سرکاری پاليسی نے بہت سے سماجی مسائل بھی پيدا کيے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ايک اندازے کے مطابق اس ماہ کے آخر تک عالمی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ سن 1970 کے عشرے کے آخر ميں چين کے 10 سالہ ’ثقافتی انقلاب‘ کے بعد چينی معيشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ غربت کا راج تھا، رہائشی مکانات کی قلت اور افرادی قوت کی زيادتی تھی۔ چينی حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر آبادی اتنی ہی تيز رفتاری سے بڑھتی رہی تو عوام کی غذائی ضروريات پوری نہيں ہو سکيں گی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے ليے حکومت نے سن 1979 ميں پيدائش پر رياستی کنٹرول کا ضابطہ جاری کيا۔ بيجنگ کی رينمن يونيورسٹی کے سماجی علوم کے پروفيسرجو سياؤ جينگ نے کہا: ’’ماؤزے تنگ کا اس پر پورا يقين تھا کہ آبادی جتنی زيادہ ہو گی اتنا ہی ملک طاقتور ہو گا۔ ليکن ثقافتی انقلاب کے خاتمے اور ماؤ کی وفات کے بعد چين نے اس کے بالکل مخالف پاليسی اپنا لی۔‘‘  اب نئے جاری کردہ ضابطے کے تحت شہروں ميں رہنے والا ہر گھرانہ صرف ايک بچہ پيدا کر سکتا تھا۔ چين کے بڑے شہروں ميں فی گھرانہ صرف ايک بچے کی پيدائش کے ضابطے کی آج بھی بڑی حد تک پابندی کی جا رہی ہے۔ پہلے بچے کے معذور ہونے يا مر جانے کی صورت ہی ميں دوسرے بچے کو جنم دينے کی اجازت ہے۔ ديہی علاقوں ميں بھی صرف وہی گھرانے دو بچے پيدا کر سکتے ہيں، جن کی پہلی اولاد لڑکی ہو کيونکہ ديہی آبادی روايتی طور پر خاندان کے سربراہ کی حيثيت سے مرد کو ترجيح ديتی ہے۔ چين کی اقليتوں پر بچوں کی پيدائش کے سلسلے ميں کسی قسم کی پابندی نہيں ہے۔ چينی حکام فی گھرانہ ايک بچے کی پاليسی پر عمل کرانے کے سلسلے ميں جبری اسقاط حمل کا طريقہ بھی اختيار کرتے ہيں۔ اخبار ’ چائنا ڈيلی ‘ کے مطابق جبری اسقاط حمل کے واقعات کی تعداد کئی ملين تک پہنچتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظيم ویمينز رائٹس ودآؤٹ بارڈرز کی بانی ريگی لٹل جون نے کہا: ’’انسانوں کو آبادی کم کرنے کی تعليم دينا ايک الگ بات ہے ليکن عورتوں کو حمل گرانے اور رحم مادر ميں بچوں کو ہلاک کرنے پر مجبور کرنا اس سے بالکل مختلف بات ہے۔ چينی حکومت کی ايک بچے کی پاليسی ايک جبر اور عورتوں کے حقوق کی شديد خلاف ورزی ہے۔‘‘لٹل جون نے کہا کہ جبری اسقاط حمل نجی زندگی کے دائرے اور عورتوں کے حقوق ميں زبردست مداخلت ہے۔ پروفيسر سياؤ جينگ نے ايک بچے کی پاليسی کے خاتمے کی اپيل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پورے چينی معاشرے پر برے اثرات پڑ رہے ہيں۔ بہن بھائيوں کے ساتھ مل جل کر بڑا ہونے کے مقابلے ميں بہت سے اکلوتے بچوں ميں معاشرتی ميل جول کی صلاحيت بہت کم ہوتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور ازبکستان کو مذہبی آزادی کو دبانے کے منفی نتائج سے خبردار کیا ہے۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں استحکام کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے خاصہ اہم خیال کرتا ہے۔ وزیر خارجہ کلنٹن نے تاجک صدر امام علی رحمانوف اور ازبک صدر اسلام کریموف سے ملاقات کے بعد افغانستان کے سلسلے میں ان دونوں ممالک کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ کلنٹن کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی مذہبی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ دوشنبے میں تاجک صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا، ’میں مذہبی آزادی پر قدغن کے خلاف ہوں اور اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات سے متفق ہوں‘۔ امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسی قدغنوں کے باعث جائز مذہبی آزادی دب جاتی ہے اور منفی و سخت گیر نظریات فروغ پاتے ہیں۔ کلنٹن نے ’نئی شاہراہ ریشم‘ کے نام سے ایک منصوبہ کی اہمیت بھی اجاگر کی، جس کے تحت خطے میں معاشی خوشحالی کو ممکن بنانے کی بات کی جارہی ہے۔  تاجکستان اور افغانستان کے درمیان قریب 1300 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جو روایتی تجارت کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہے امریکی حکومتی ذرائع کے مطابق کلنٹن نے اپنے دورہء وسطی ایشیاء میں افغانستان متعین امریکی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے معاملات پر بھی بات کی۔ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ کے باعث اس راہداری کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ ان وسطی ایشیائی سابق سوویت ریاستوں میں دہائیوں سے آمرانہ طرز کی حکومتیں قائم ہیں۔ تاجک صدر رحمانوف 1992ء سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔ صدر رحمانوف کی روس نواز سکیولر حکومت اور مخالفین کے مابین 1992ء تا 1997ء کی خانہ جنگی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مسلم اکثریتی آبادی والی ان وسطی ایشیائی ریاستوں میں مذہبی آزادی محدود ہے۔ قریب 75 لاکھ کی آبادی والے  ملک تاجکستان میں ایسا قانون متعارف کروایا گیا ہے، جس سے نوجوانوں کی مذہبی مقامات میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاجک صدر کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیاں ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ازبک صدر اسلام کریموف بھی مذہبی آزادی کو محدود تر رکھنے پر مصر ہیں۔

تیونس، جو خواتین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے معاملے میں شمالی افریقہ کے سب سے آزاد خیال ممالک میں شامل ہے، آج بھی خواتین کی سیاسی نمائندگی سے متعلقہ مسائل سے دو چار ہے۔ تیونس میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے تاریخی انتخابات کے بعد بننے والی نئی آئین ساز اسمبلی میں متوقع طور پر مشرق وسطیٰ کی کسی بھی دوسری قومی پارلیمنٹ کے مقابلے میں خواتین ارکان کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ لیکن تیونس میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنوں کے لیے یہ بھی کافی نہیں ہو گا کیونکہ انہوں نے خود کو اپنی ترقی پسندانہ پالیسیوں کی بنا پر عرب دنیا کے باقی حصوں سے ہمیشہ ہی ممتاز سمجھا ہے۔ ملک کے پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے حکومت نے امیدواروں کی انتخابی فہرست میں عورتیں کی تعداد کم از کم نصف رکھنا لازمی قرار دیا تھا۔ تاہم مختلف انتخابی حلقوں کی اُن ایک ہزار سے زائد انتخابی فہرستوں میں سے صرف چھ فیصد میں ہی خواتین کو اعلیٰ ترین سیاسی امیدواروں کی حیثیت حاصل رہی۔ چونکہ معمول کے مطابق ہر فہرست میں پہلی پوزیشن والے امیدوار کو ہی سیٹ ملنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر نئی آئین ساز اسمبلی میں حالیہ الیکشن کے بعد بھی مرد اراکین کی تعداد خواتین سے زیادہ ہی ہوگی۔  تیونس میں ڈیموکریٹ خواتین کی ملکی ایسوسی ایشن کی چند اراکین نےاس حوالے سے اپنے ایک بیان میں ملک میں خواتین سیاستدانوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس ایسوسی ایشن کی رہنما ثنا بن عاشور نے، جو ایک جج ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘سیاسی معاشرہ ابھی تک ہمارے عزائم کی سطح پر نہیں پہنچا ہے۔’’ تیونس عرب دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین عدلیہ سے لے کر طب، تعلیم، حکومتی امور اور سکیورٹی فورسز سمیت بہت سے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ملک کی یونیورسٹیوں میں طالبات کی شرح پچپن فیصد ہے جبکہ آئین ساز اسمبلی میں یہ شرح اگر 20 اور 30 فیصد کے درمیان بھی رہی، تو بھی یہ شرح مصر، اردن، مراکش اور دیگر عرب ممالک میں خواتین کوحاصل پارلیمانی نمائندگی سے کہیںزیادہ ہو گی۔ اس صورتحال پر اظہارخیال کرتے ہوئے پروگریسو ڈیموکریٹکپارٹی کی رہنما میہ الجریبی نے کہا کہ “اس خلا کو پُر کرنے کے لئے ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔فی الحال ہمارا سب سے بڑا مقصد انتخابات میں نمایاں فتح حاصل کرنا ہے۔” ملک کے قدامت پسند علاقوں میں اب بھی خواتین امیدواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ قصرین کے شہر میں بائیں بازو کی ڈیموکریٹکموومنٹپارٹیسے تعلق رکھنے والی اُمیدوار مُنیرہ علاوی کا کہنا ہے کہ “ان علاقوں میں سماجی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کی کافی کمی ہے کیونکہ صرف خواتین کی اقلیت ان کاموں میں حصہ لینا چاہتی ہے اور اکثریت کو دلچسپی نہیں۔” ورکرز کمیونسٹ پارٹی کے حما حمامی کا کہنا ہے کہ “معاشرے میں ایسے مردوں کی کمی نہیں ہے جو اعلیٰ ترین عہدوں پر خواتین کو برداشت نہیں کر سکتے۔”

نیٹو نے پاکستان سے ملحق افغانستان کی مشرقی سرحد پر ایک بڑی فوجی کارروائی کرتے ہوئے حقانی گروپ کے بیس جنگجؤوں کو بھی ہلاک یا گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مطابق اس فوجی کارروائی کا ہدف طالبان عسکریت پسند تھے۔ نیٹو کا کہنا ہے کارروائی میں عسکری گروپ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے بیس جنگجو گرفتار یا ہلاک کر لیے گئے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور نیٹو کا مؤقف ہے کہ حقانی گروپ کو پاکستان کے بعض سرکاری حلقوں، بالخصوص خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا تعاون حاصل ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے دورہء پاکستان میں پاکستانی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کریں۔ نیٹو کی اس کارروائی کے بعد بریگیڈیئر جنرل کارسٹین جیکبسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ آئی سیف کی کمانڈ میں ہونے والی اس کارروائی میں حقانی گروپ کے بیس افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں یا انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ جنرل جیکبسن کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن موسم سرما کی آمد سے قبل عسکریت پسندی کو روکنے کے لیے ایک مرکزی کارروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ’’عسکریت پسندوں کے لیے موسم سرما آسان نہیں ہوگا۔‘‘ خیال رہے کہ ہلیری کلنٹن اپنے دورہء پاکستان میں حقانی گروپ کے خلاف افغان سرحدی حدود کے اندر ایک بڑی کارروائی کا عندیہ دے چکی تھیں۔ پاکستان میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف از خود کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بہر حال کہنا ہے کہ امریکہ ایسا کرنے سے اجتناب کرے گا۔

لیبیا کی عبوری حکومت کے مطابق معمر قذافی، ان کے بیٹے معتصم اور سابق وزیر دفاع کی تدفین منگل کے روز صحرا میں نا معلوم مقام پر کر دی گئی ہے۔ سرکاری طور پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ کھلے صحرا میں ایک نامعلوم مقام پر اس (قذافی) کی تدفین آج انتہائی سادہ طریقے سے کی گی اور اس میں صرف شیوخ نے شرکت کی۔ تمام اسلامی رسومات کا خیال رکھتے ہوئے ان تینوں کو سپرد خاک کیا گیا۔ قومی عبوری کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قذافی کی لاش کی حالت ’انتہائی خراب‘ ہو چکی تھی اور اسے مزید نہیں رکھا جا سکتا۔  مصراتہ شہر کے ایک کمرشل سرد خانے کے محافظ نے بتایا ہے کہ قذافی اور ان کے بیٹے متعصم قذافی کی لاشیں سرد خانے سے نکال کر عبوری کونسل کے حوالے کر دی گئی تیھں۔ قذافی کی لاش گزشتہ چار روز سے مصراتہ کے ایک سرد خانے میں سر عام نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔ قومی عبوری کونسل کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کی تدفین کے وقت  موجود  گواہان سے قرآن پر حلف لیا جائے گا کہ وہ اس جگہ کے بارے میں کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔ قبل ازیں عبوری کونسل نے قذافی کی ہلاکت کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا تھا۔  دریں اثناء انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے قذافی کے حامیوں کے مبینہ قتل عام کی اطلاع دی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق قذافی کے مضبوط گڑھ سرت میں میں 53 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جنہیں بظاہر پھانسی دی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق، ’’یہ لاشیں مہاری ہوٹل سے ملی ہیں اور بعض ہلاک شدگان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔‘‘ انسانی حقوق کی اس تنظیم کے ایک نمائندے Peter Bouckaert کا کہنا تھا، ’’لاشیں ملنے سے پہلے یہ ہوٹل انقلابی دستوں کے زیر قبضہ تھا۔‘‘  دوسری جانب قومی عبوری کونسل کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق معمر قذافی کے مفرور بیٹے سیف الاسلام نائیجر اور الجزائر کی سرحد کے قریب ہیں اور جعلی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کا علم ایک سیٹلائٹ ٹیلی فون کال سنتے ہوئے لگایا گیا ہے۔  عہدیدار کے مطابق یہ منصوبہ قذافی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی نے تیار کیا ہے۔ دریں اثناء سرت میں ایندھن سٹوریج یونٹ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دھماکے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔