کھلاڑیوں پر الزامات کے خلاف کرکٹ آسٹریلیا کی برہمی

Posted: 13/10/2011 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Health & Sports News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سودرلینڈ نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے خلاف میچ فکسنگ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن کی عدالت میں یہ الزامات ایک ایسے شخص نے لگائے ہیں، جس کی اپنی حیثیت مشکوک ہے۔ سودرلینڈ نے منگل کو ایک بیان میں ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ الزامات بے بنیاد دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بلاوجہ بدنام کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو آسٹریلوی حکام تفتیش کریں گے۔ سودر لینڈ نے کہا کہ ان کے کسی بھی کھلاڑی پر ایسے الزامات ثابت ہوئے تو ان کے خلاف تاحیات پابندی لگانے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑی ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہوتے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انہیں (سودرلینڈ کو) اس حوالے سے آگاہ کر چکی ہوتی۔ سودر لینڈ نے کہا کہ آئی سی سی اپنے کرپشن یونٹ کے ساتھ تمام بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوتی ہے، جن کی جانب سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی گئی۔لندن کی ایک عدالت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر پیر کو مقدمے کی سماعت کے چوتھے روز ان کے ایجنٹ مظہر مجید کا آڈیو بیان سنا گیا۔ اس میں مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے متعدد نامور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ آسڑیلوی کھلاڑی بھی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے آسڑیلوی کھلاڑیوں کے نام ظاہر نہیں  یے۔مظہر مجید کی یہ باتیں برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ کے انڈر کور صحافی مظہر محمود نے ریکارڈ کی تھی۔ یہ اخبار اب بند ہو چکا ہے۔ مظہر محمود اب اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہ ہیں۔مجید نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو دنیائے کرکٹ کے میچ فکسنگ کے سب سے بڑے کردار قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حوالے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اس حوالے سے آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ پال مارش کا کہنا ہے کہ مجید قابلِ بھروسہ شخص نہیں۔ انہوں نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ریڈیو سے گفتگو میں کہا: ’’مجھے یہ بات بہت دلچسپ لگی کہ وہ (مجید) بعض پاکستانی کھلاڑیوں کے نام لینے پر تو تیار تھا لیکن اس نے کسی آسٹریلوی کھلاڑی کا نام نہیں لیا۔‘‘

Comments are closed.