درباری قاضی کا موقف: جو آل سعود پر تنقید کرے وہ دہشت گرد ہے

Posted: 13/10/2011 in All News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

آل سعود کی حکومت نے مشرقی علاقوں میں اپنی پالیسیوں اور جرائم پر تنقید و احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افراد کو دہشت گرد قرار دیا اور ان پر یہی الزام لگا کر مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک سعودی جج نے انکشاف کیا ہے کہ الشرقیہ کے صوبہ القطیف کے شہر العوامیہ میں مظاہرے کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افراد پر “القاعدہ کے ضالین (گمراہوں) کی مانند” کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
روزنامہ المدینہ نے لکھا: مکہ کے اپیل کورٹ کے جج عبداللہ العیثم نے کہا ہے کہ العوامیہ کے واقعات کے دوران حراست میں لئے گئے افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ مکمل ہونے کے ساتھ ہی ان دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ العیثم کے اعلان سے ظآہر ہوتا ہے کہ تفتیش کے دوران ان پرکوئی جرم ثابت ہوگا تو ان پر مقدمہ چلایا جائے گا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود نے پہلے ہی ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لئے جرم ثابت ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ العیثم نے کہا: ان افراد کا اقدام “دہشت گردی کی ایک قسم ہے کیونکہ انھوں نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا ہے، «ولی امر» (یعنی آل سعود کے بادشاہ) کے حکم سے خارج ہوگئے ہیں اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں”۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ ـ جو بحرین پر سعودی جارحیت کی بھی ذمہ دار ہے ـ کے ایک ذریعے نے تین روز قبل دعوی کیا کہ مظاہرین نے سیکورٹی والوں پر دیسی ساخت کے آتشی بموں سے حملہ کیا اور ان پر گولی چلائی جس سے 11 سیکورٹی اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے؛ اور ایک بیرونی ملک ان واقعات میں ملوث ہے۔ سعودی حکمران عوامی مطالبات منظور کرنے اور عوامی احتجاج کے اصلی اسباب پر غور کرنے کی بجائے ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کی غرض سے بیرونی ممالک پر الزام لگا لگا کر اپنی جگ ہنسائی کے اسباب فراہم کررہے ہیں اور بعض دیگر ممالک اپنی کمزوریاں چھپانے کی نیت سے اپنی کمزوریوں کا الزام بیرونی ممالک پر لگا رہے ہیں جبکہ الزام لگانے والے بھی جانتے ہیں کہ “نجد و حجاز” وہابیت کے آہنی پنجروں میں قید ہے۔ غیرجانبدار ذرائع کے مطابق جو سعودی فورسز کے بعض اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں ان کو اپنےساتھیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں کیونکہ انہیں فوجی چھاؤنی کے اندر ہی گولیاں لگی ہیں۔

Comments are closed.