Archive for 13/10/2011

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ‘بلیک نائیٹ’ کے نام سے القاعدہ کے لئے کام کرنے والا ایک عسکریت پسند گروہ ابھر رہا ہے، جو جرائم کے ذریعے فنڈ ریزنگ میں ملوث ہے۔ پاکستان میں القاعدہ کے لیے فنڈز جمع کرنے کا ایک نیا طریقہ تیزی سے رفتار پکڑ رہا ہے، جس کی مدد سے عسکریت پسند اسلحے اور دیگر ساز و سامان کے اخراجات کے لئے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ گروہ بیرونی امداد سے زیادہ اندرون ملک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان اور جبری بھتہ وصولی جیسے جرائم پر انحصار کر رہے ہیں۔چند ماہ قبل خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں چار طالبان عسکریت پسند پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔ یہ واقعہ تب پیش آیا جب یہ چاروں ایک نجی بنک سے ایک لاکھ 38 ہزار ڈالر لوٹ کر افغان سرحد کی جانب فرار ہو رہے تھے۔اس واقعے کے 10 روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں ہی طالبان کی طرف سے ایک پولیس اسٹیشن پر کیے جانے والے ایک خودکش حملے میں 9 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے جبکہ پولیس اسٹیشن بری طرح سے تباہ ہو گیا۔ ان دونوں واقعات کی ذمہ داری بھی ‘بلیک نائیٹ’ ہی نے قبول کی۔انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک سرکاری افسر نےاپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کی ایک وجہ گزشتہ کچھ برسوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پاکستانی اور امریکی حملے بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی وجہ شمالی پاکستان میں امریکی ڈرون میزائل حملے اور پاکستانی فوج  کی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے کئی سینئر کمانڈر کی ہلاکت بھی مانی جاتی ہے، جو مشرق وسطٰی کے فنڈنگ نیٹ ورکس سے رابطہ رکھتے تھے۔ اس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کا اندرونی ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنے کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ امریکی اور عراقی حکام کے مطابق عراق میں بھی پچھلے کئی برسوں میں اسی طرح کے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی طالبان کا نیٹ ورک ملک کے شمال مغربی علاقے اور وسطی پنجاب سے لے کر تجارتی دارالحکومت کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔پاکستان میں عسکریت پسندوں کے مسائل کے ایک ماہر عامر رانا کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کے لئے ان عسکریت پسندوں کا مطالبہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے لے کر 1 ملین ڈالر تک ہوتا ہے۔ اسی گروہ نے سوئٹزرلینڈ کے ایک جوڑے کو رواں برس جولائی میں اغوا کر کے افغان سرحد پر قید رکھنے کی ذمہ داری قبول کی اور یہی گروہ مبینہ طور پر پنجاب کے مقتول سابق گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کےاگست میں اغوا کئے جانے کے واقعے میں بھی ملوث ہے۔ ماہرین کے مطابق شہباز کو وزیرستان کے علاقے میں افغان سرحد کے قریب رکھا گیا ہے۔اسی گروہ کے ایک رکن نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے بتایا کہ ‘بلیک نائیٹ’ کی سربراہی حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان محسود کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ با اثر پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو اغوا کرنا ان کا اولین ایجنڈا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ “ہم پاکستان آرمی کے خلاف ہیں، نہ نیٹو فورسز کے۔ ہمارا اولین مقصد صرف اور صرف جہاد کرنا ہے۔” کراچی میں 2011ء میں ابھی تک کی گئی 2.3 ملین ڈاالر کی چار بنک ڈکیتیوں میں سے تین کا شبہ طالبان عسکریت پسندوں پر کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے ایک دولتمند پشتون تاجر سے طالبان نے 20 ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اسے اور اس کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔ ایک اور واقعے میں عسکریت پسندوں نے کراچی کے ہی ایک پشتون تاجر سے اس کے سات سالہ بیٹے کی رہائی کے عوض 80 ہزار ڈالر وصول کئے۔ پاکستانی طالبان کے ایک رکن محمد یوسف کے مطابق کراچی سے فنڈ ریزنگ المنصور اور المختار نامی گروہوں کے ذمے ہے، جن کا کام کراچی میں دیگر دہشت گرد سرگرمیوں کے علاوہ افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے بھیجے جانے والے ٹینکروں پر حملے کرنا ہے۔

Advertisements

کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سودرلینڈ نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے خلاف میچ فکسنگ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن کی عدالت میں یہ الزامات ایک ایسے شخص نے لگائے ہیں، جس کی اپنی حیثیت مشکوک ہے۔ سودرلینڈ نے منگل کو ایک بیان میں ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ الزامات بے بنیاد دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بلاوجہ بدنام کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو آسٹریلوی حکام تفتیش کریں گے۔ سودر لینڈ نے کہا کہ ان کے کسی بھی کھلاڑی پر ایسے الزامات ثابت ہوئے تو ان کے خلاف تاحیات پابندی لگانے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑی ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہوتے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انہیں (سودرلینڈ کو) اس حوالے سے آگاہ کر چکی ہوتی۔ سودر لینڈ نے کہا کہ آئی سی سی اپنے کرپشن یونٹ کے ساتھ تمام بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوتی ہے، جن کی جانب سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی گئی۔لندن کی ایک عدالت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر پیر کو مقدمے کی سماعت کے چوتھے روز ان کے ایجنٹ مظہر مجید کا آڈیو بیان سنا گیا۔ اس میں مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے متعدد نامور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ آسڑیلوی کھلاڑی بھی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے آسڑیلوی کھلاڑیوں کے نام ظاہر نہیں  یے۔مظہر مجید کی یہ باتیں برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ کے انڈر کور صحافی مظہر محمود نے ریکارڈ کی تھی۔ یہ اخبار اب بند ہو چکا ہے۔ مظہر محمود اب اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہ ہیں۔مجید نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو دنیائے کرکٹ کے میچ فکسنگ کے سب سے بڑے کردار قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حوالے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اس حوالے سے آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ پال مارش کا کہنا ہے کہ مجید قابلِ بھروسہ شخص نہیں۔ انہوں نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ریڈیو سے گفتگو میں کہا: ’’مجھے یہ بات بہت دلچسپ لگی کہ وہ (مجید) بعض پاکستانی کھلاڑیوں کے نام لینے پر تو تیار تھا لیکن اس نے کسی آسٹریلوی کھلاڑی کا نام نہیں لیا۔‘‘

پاکستانی کھلاڑیوں محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف لندن میں جاری اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ کرکٹ میں جوئے بازی کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور’اسپاٹ فکسنگ‘ میں آسٹریلوی کھلاڑی سب سے آگے ہیں۔ پیر کے دن لندن کی ساؤتھ وارک  کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران کرکٹزر کے ایجنٹ مظہر مجید اور نیوز آف دی ورلڈ کے سابق صحافی کے مابین ہونے والی گفتگو کی ویڈیو ریکاڈنگ دکھائی گئی۔ ’انڈر کور‘ صحافی نے یہ ریکارڈنگ خفیہ طور پر کی تھی۔اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستانی کرکٹ کے نامور نام جوئے بازی میں ملوث رہے ہیں اور وہ میچ کے مختلف حصوں کو پہلے سے ہی فکس کرتے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں صحافی نے خود کو ایک جوئے باز کی طرح پیش کیا اور مظہر مجید سے میچ فکس کروانے کی بات کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ یہ ریکارڈنگ گزشتہ برس اٹھارہ اگست کو کی گئی، جب پاکستان اور انگلینڈ کے مابین اوول ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹیم کے چھ کھلاڑی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ جو چاہے ان سے کروا سکتا ہے،’ میرے پاس اہم کھلاڑی ہیں۔ میرے پاس بولرز، بلے باز اور آل راؤنڈرز ہیں‘۔ مظہر مجید نے مزید کہا،’ ہم نے میچوں کے کچھ نتائج پہلے سے ہی طے کر لیے ہیں، جس کے مطابق پاکستانی ٹیم اپنے آئندہ تین میچوں میں شکست سے دوچار ہو گی‘۔مظہر مجید نے پاکستان کرکٹ کے سابقہ کئی نامور کھلاڑیوں کے نام لیتے ہوئے کہا،’ کرکٹ میں سٹہ بازی زمانے سے ہو رہی ہے، یہ برسوں سے جاری ہے۔ وسیم، وقار، اعجاز احمد اور معین خان سبھی یہ کرتے رہے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ آسٹریلوی کھلاڑی میچوں کے مختلف حصوں کو فکس کرتے ہیں،’ آسٹریلوی کرکٹرز، وہ سب سے آگے ہیں، وہ ہر میچ میں دس حصوں پر اسپاٹ فکنسگ کرتے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ ہر حصے پر پچاس ہزار سے 80 ہزار پاؤنڈز تک کا سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ تاہم آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی ٹیم کو کوئی کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہے۔مظہر مجید کے بقول ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کے نتائج کو فکس کرنے کے لیے چار لاکھ پاؤنڈ ، ون ڈے میچ کو فکس کرنے کے لیے ساڑھے چار لاکھ پاؤنڈ جبکہ ٹیسٹ میچ کے نتیجے کو پہلے سے طے کرنے کے لیے ایک ملین پاؤنڈ لگتے ہیں۔ مظہر مجید نے کہا کہ کرکٹ میں سٹہ بازی کے دوران بڑی بڑی رقوم داؤ پر لگائی جاتی ہیں تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کو ہمیشہ ہی بہت کم پیسہ دیا جاتا ہے۔پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر پر الزام ہے کہ انہوں نے سازش کرتے ہوئے پاکستان اور انگلینڈ کے مابین لارڈز ٹیسٹ کے کچھ حصوں  کو پہلے ہی فکس کر لیا تھا۔ تاہم اس کیس کے دوران محمد عامر پیش نہیں ہوئے ہیں۔

سلفی مسلمانوں نے کہا کہ تیونس کے ایک نجی ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں اسلام کے بارے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مذہبی امور کی وزارت نے مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔تیونس کی مذہبی امور کے وفاقی وزیر لاروسی میزروی نے ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ نشر کیے جانے والے پروگراموں میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کسی کے بھی  مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔ میزروی کے بقول ’’عوام، نجی ٹیلی وژن چینل اور ہر طرح کے ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور ساتھ ہی مذہب سے متعلق موضوعات کے بارے میں پروگرام پیش کرتے وقت خاص احتیاط سے کام لیا جائے۔‘‘ ان کے بقول یہ بہت ہی نازک اور سنجیدہ معاملات ہوتے ہیں اور ایک چھوٹی سی غلطی کے بھی بہت شدید نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ تیونس میں سلفی مسلمانوں نے 1979ء میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بارے میں دکھائی جانے والی فلم   Persepolis کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیسما ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ سلفی کا شمار مسلمانوں کے انتہائی قدامت پسند اور بنیاد پرست مسلکوں میں ہوتا ہے۔ “Persepolis” فرانس اور ایران کی مشترکہ پیش کش ہے۔ یہ اینیمیشن فلم ایرانی نژاد فرانسیسی مصنفہ مرجان ساتراپی کی سوانح حیات پر مبنی ہے۔ ساتراپی گرافگ ناولسٹ ہیں۔ اس فلم میں ایران میں شاہ کے دور کے آخری ایام اور آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے ابتدائی دن کی منظر کشی کی گئی ہے۔ نیسما ٹی وی چینل کے سربراہ نبیل کروئی نے بتایا کہ تقریباً 200 سلفیوں نے ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے انہیں منتشر کر دیا۔ تیونس میں ذرائع ابلاغ کے نگران ادارےINRIC نے اس حملے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تیونس میں اظہار کی آزادی ہے اور میڈیا کو ڈرانے دھمکانے کے ہر حربے کو ناکام بنایا جائے گا۔

معروف کمپیوٹر ساز ادارے ایپل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اسے اپنے نئے آئی فون فور ایس کی فروخت شروع ہونے کے پہلے ہی دن ریکارڈ 10 لاکھ یونٹس کے آرڈرز ملے ہیں۔فروخت کا یہ ریکارڈ ایسی خبروں کے باوجود سامنے آیا کہ آئی فون فینز ایپل کے نئے فون متعارف کرانے سے کافی حد تک مایوس تھے۔ دراصل ایسے لوگ آئی فون فائیو کے منتظر تھے، کیونکہ ٹیکنالوجی ماہرین اور میڈیا کے خیال میں ایپل کی طرف سے نیا متعارف کرایا جانے والا اسمارٹ فون دراصل آئی فون فائیو ہی ہوگا، جو اپنے پیشرو کی نسبت نہ صرف فیچرز میں بہت بہتر ہوگا بلکہ اپنے ڈیزائن میں بھی مختلف ہوگا۔ تاہم چار اکتوبر کو ایپل کی جانب سے جب نیا آئی فون متعارف کرایا گیا تو اس میں سابق ڈیزائن کو ہی برقرار رکھا گیا تھا، حالانکہ یہ فون ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور دیگر فیچرز کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔دوسری طرف ٹیکنالوجی انڈسٹری پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس ریکارڈ فروخت کے پیچھے دراصل ایپل کمپنی کے سابق بانی سربراہ اسٹیو جابز کے انتقال کی خبر کو دی جانے والی بہت زیادہ میڈیا کوریج کا ہاتھ ہے۔گزشتہ برس یعنی 2010ء کے وسط میں جب آئی فون فور کی فروخت کا آغاز ہوا تو ایک دن میں چھ لاکھ یونٹس فروخت ہوئے تھےاس سے قبل کسی فون کی ریکارڈ فروخت کا اعزاز بھی آئی فون ہی کے پاس تھا۔ گزشتہ برس یعنی 2010ء کے وسط میں جب آئی فون فور کی فروخت کا آغاز ہوا تو ایک دن میں چھ لاکھ یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ایپل کمپنی کے بین الاقوامی سطح پر مارکیٹنگ کے شعبے کے سینئر وائس پریزیڈنٹ فلپ شِلر کا اس ریکارڈ فروخت کے حوالے سے کہنا تھا: ’’آئی فون فور ایس کے لیے لوگوں کے رد عمل سے ہم حیران رہ گئے ہیں۔ ایپل آئی فون فور ایس خریدنے کے لیے آرڈرز کی تعداد آج تک کسی بھی ایسی پراڈکٹ کے ایک دن میں موصول ہونے والے آرڈرز سے زیادہ ہے جو ایپل کی طرف سے پیش کی گئی ہو۔ ہم اس بات پر انتہائی پرجوش ہیں کہ لوگ بھی آئی فون فور ایس کو اسی حد تک پسند کر رہے ہیں جتنا ہم خود۔‘‘

انھوں نے پاکستان کے علماء کو مشورہ دیا کہ وہ سنجیدہ اقدام کریں اور تکفیری گروہوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی مذمت کریں اور عالمی سیکورٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچائیں۔رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید «حضرت آیت‌الله العظمی سید محمد علی حسینی علوی گرگانی» نے کل بروز منگل ملاقات کے لئے آنے والے حوزہ علمیہ قم کے علماء اور فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے ائمہ اہل بیت (ع)، خاص طور پر امام زمانہ (عج) اور شیعیان اہل بیت (ع) کی شان میں مسجد النبی (ص) کے خطیب الحذیفی کی بے ادبی اور گستاخی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ افراد امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ وہابیت کے کٹھ پتلی ہیں۔ عراق اور پاکستان میں وہابیت اور تکفیری ٹولوں کے جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ شیعہ جن کا خون اسلامی ممالک میں وہابیت کے ہاتھوں بہایا جاتا ہے، امام زمانہ (عج) کے لائے دلی صدمے کا سبب ہے، کیونکہ وہ آنحضرت (عج) کے پیروکاروں کو نہایت مظلومیت میں شہید کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: جب پاکستان، عراق اور دوسرے علاقوں میں شیعیان اہل بیت (ع) کو تکلیف ہو اور وہ مصائب اور مشکلات میں مبتلا ہوں تو گویا ایران کے شیعہ بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا ہیں کیونکہ انسان سارے ایک ہی جسم کے اعضاء کی مانند ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے علماء کو مشورہ دیا کہ وہ سنجیدہ اقدام کریں اور تکفیری گروہوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی مذمت کریں اور عالمی سیکورٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچائیں۔ آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے پاکستان میں اہل تشیع کی عظیم آبادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم میں زیر تعلیم طلاب اور فضلاء کو ہدایت کی کہ وہ جاکر اپنے ملک کے حکام اور اعلی اہلکاروں سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا: ان تکفیری ٹولوں کی باگ ڈور امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے اور عالمی استکبار کی جانب سے اس ٹولے کی حمایت اس لئے نہیں ہے کہ اس کو اسلام عزیز ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اہل تشیع کو مسلمانوں کے ہاتھوں نابود کروادے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور انتشار ڈال دے۔ آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے کہا: استکبار کو معلوم ہے کہ اگر شیعیان اہل بیت (ع) کا خاتمہ ہوجائے تو اس کے بعد مسلمانان عالم متحرک نہیں رہیں گے اور استکباری طاقتیں آسانی سے اپنے مفادات حاصل کرسکیں گے۔ حوزہ علمیہ کے خارج فقہ و اصول کے اس استاد نے کہا: “تشیع اسلام کی قوت محرکہ ہے” اسی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کی سازش یہ ہے کہ وہ دوسرے مسلم مکاتب کے پیروکاروں کے توسط سے اہل تشیع کے خلاف لڑیں اسی بنا پر وہ وہابیت کی حمایت کررہے ہیں چنانچہ ہماری اصل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اس سلسلے کی اصل جڑوں کو سوکھا دیں۔ حضرت آیت‌الله العظمی حسینی علوی گرگانی نے ائمہ اہل بیت (ع)، خاص طور پر امام زمانہ (عج) اور شیعیان اہل بیت (ع) کی شان میں مسجد النبی (ص) کے خطیب الحذیفی کی بے ادبی اور گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ وہابیت کے کٹھ پتلی ہیں۔ انھوں نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای اور تمام مراجع تقلید کی جانب سے وہابیت کی بجائے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد پر زور اس لئے دیتے ہیں کہ وہ وہابیت کی جڑیں سوکھانے کے درپے ہیں کیونکہ اسرائیل اور امریکہ اس فرقے کو تقویت پہنچارہے ہیں اور یہی قوتیں وہابیت کی اصل جڑیں ہیں ورنہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رہبر انقلاب اور دوسرے مراجع تقلید دنیا کے تمام علاقوں کے شیعیان اہل بیت (ع) کی صورت حال پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد علی حسینی علوی گرگانی نے بین الاقوامی سطح کے موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: رہبر معظم کو تمام مسلمانوں کی فکر ہے اور بعض اسلامی ممالک میں رونما ہونے والے ناگوار حادثات رہبر انقلاب اور مراجع عظام کے لئے صدمے کا باعث بنتے ہیں

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے بی جا امید ، باطل فکر ، مغربی ثقافت ، نئی تلاش ، غلط فہمی و بد بینی کو شادی کی کمی اور طلاق میں اضافہ کی علت جانا ہے اور اس بیان کے ساتھ کہ تحقیق ہونی چاہیئے کہ جوان شادی سے کیوں دوری اختیار کر رہے ہیں اور طلاق زیادہ ہو رہا ہے ، علماء و اخلاق کے استاد اور تحقیقدانوں سے ان مشکلات کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے ۔آیت ‌الله مکارم شیرازی نے آج صبح مسجد اعظم قم ایران میں اپنے فقہ کے درس خارج کے درمیان شادی سے دوری اور طلاق میں اضافہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : طلاق میں اضافہ اور شادی میں کمی معاشریے و خانوادہ میں خلل کی وجہ ہے اس سلسلہ میں اچھی طرح تحقیقی ضروری ہے ۔انہوں نے اپنی تقیریر میں اخلاقی مطالب بیان کرتے ہوئے مومنین کے صفت بیان کی اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : کچھ لوگ اس سے پہلے کہ ھدایت حاصل کریں اس دنیا سے چلے گئے حالانکہ وہ فکر کرتے تھے کہ ایمان لا چکے ہیں لیکن وہ گمراہ اور مشرک تھے یہ وہ گروہ ہیں جو قرآن و اھل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازہ سے داخل نہی ہوئے ہیں ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی اس اشارہ کے ساتھ کہ بیداری کی لہر یورپ کے دوسرے ممالک میں سرایت کر رہی ہے تاکید کی : امریکا و مغرب ممالک کی عوام سرمایہ داروں کے ذریعہ پایمال ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں ۔حضرت آیت الله حسین نوری همدانی مرجع تقلید نے سپاہ پاسدار اسلامی انقلاب ایران کے ممبر سے ملاقات میں اسلامی بیداری لہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس تبدیلی کو امام خمینی (ره) کی رھبری میں اسلامی ایران کے انقلاب سے متاثر جانا ہے ۔ حضرت آیت الله نوری همدانی نے تاکید کی : اس وقت ایران کی نقش آفرین برکت سے دنیا کے مختلف گوشہ میں مسلمان بیدار ہو گئے ہیں اور آمیروں اور اس کی پیروی کرنے والی حکومتوں کے مقابلہ میں قیام کی ہے ۔ مرجع تقلید نے یاد دہانی کرتے ہوئے بیان کیا : علاقہ کی قوم ایران کی پیروی کرتے ہوئے «آل» حکاموں اور مغرب و سامراج کے نوکر حکومتوں کے مقابلہ میں کھڑی ہو گئی ہیں اور ایک کے بعد دوسرے کا تختہ الٹ رہی ہیں ۔ انہوں نے اس بیان کے ساتھ : اسلامی بیداری کی لہر اس بھی زیادہ وسیع ہو گی اور ھم لوگ آج اس بیداری کے نمونہ کو یورپ کے مختلف ممالک میں دیکھ رہے ہیں جنہوں نے سرمایہ داری نظام کے مقابلہ میں قیام کیا ہے اور اس کے اعتراض میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں

آل سعود کی حکومت نے مشرقی علاقوں میں اپنی پالیسیوں اور جرائم پر تنقید و احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افراد کو دہشت گرد قرار دیا اور ان پر یہی الزام لگا کر مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک سعودی جج نے انکشاف کیا ہے کہ الشرقیہ کے صوبہ القطیف کے شہر العوامیہ میں مظاہرے کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افراد پر “القاعدہ کے ضالین (گمراہوں) کی مانند” کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
روزنامہ المدینہ نے لکھا: مکہ کے اپیل کورٹ کے جج عبداللہ العیثم نے کہا ہے کہ العوامیہ کے واقعات کے دوران حراست میں لئے گئے افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ مکمل ہونے کے ساتھ ہی ان دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ العیثم کے اعلان سے ظآہر ہوتا ہے کہ تفتیش کے دوران ان پرکوئی جرم ثابت ہوگا تو ان پر مقدمہ چلایا جائے گا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود نے پہلے ہی ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لئے جرم ثابت ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ العیثم نے کہا: ان افراد کا اقدام “دہشت گردی کی ایک قسم ہے کیونکہ انھوں نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا ہے، «ولی امر» (یعنی آل سعود کے بادشاہ) کے حکم سے خارج ہوگئے ہیں اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں”۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ ـ جو بحرین پر سعودی جارحیت کی بھی ذمہ دار ہے ـ کے ایک ذریعے نے تین روز قبل دعوی کیا کہ مظاہرین نے سیکورٹی والوں پر دیسی ساخت کے آتشی بموں سے حملہ کیا اور ان پر گولی چلائی جس سے 11 سیکورٹی اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے؛ اور ایک بیرونی ملک ان واقعات میں ملوث ہے۔ سعودی حکمران عوامی مطالبات منظور کرنے اور عوامی احتجاج کے اصلی اسباب پر غور کرنے کی بجائے ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کی غرض سے بیرونی ممالک پر الزام لگا لگا کر اپنی جگ ہنسائی کے اسباب فراہم کررہے ہیں اور بعض دیگر ممالک اپنی کمزوریاں چھپانے کی نیت سے اپنی کمزوریوں کا الزام بیرونی ممالک پر لگا رہے ہیں جبکہ الزام لگانے والے بھی جانتے ہیں کہ “نجد و حجاز” وہابیت کے آہنی پنجروں میں قید ہے۔ غیرجانبدار ذرائع کے مطابق جو سعودی فورسز کے بعض اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں ان کو اپنےساتھیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں کیونکہ انہیں فوجی چھاؤنی کے اندر ہی گولیاں لگی ہیں۔

چین کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود امریکی سینیٹ نے سامراجی ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے چین پر پابندیاں لگانے کی قرار داد منظور کر لی ہے۔امریکی سنیٹ نے دعوی کیا ہے کہ چين کے خلاف قرارداد چین کی مالیاتی پالیسیوں کی بنا پر منظور کی گئي ہے۔ دوسری طرف امریکی کانگریس نے فی الحال اس قرارداد کا جائزہ لینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس سے امریکہ اور چین کے درمیاں تجارت کی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق چين کے خلاف پابندیوں کے طرفدار امریکی سینیٹروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی بیشتر اقتصادی مشکلات چین کی مالیاتی پالیسیوں کی بنا پر ہیں۔امریکی سینیٹ اس قرارداد کو منظوری دے کر وزارت خزانہ کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ چین پر دباو ڈالے اور چین کو اپنی کرنسی یوان کی قدر میں کمی لانے پر مجبور کرے۔ادھر چین نے امریکی کانگریس سے کہا ہے کہ وہ سینیٹ کی اس قرارداد کو مسترد کردے۔ چین کی وزات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ نہيں دینا چاہیے اور واشنگٹن اور بیجنگ کے صحت مند اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔دوسری جانب چین کی وزارت اقتصاد کے ترجمان نے بھی امریکی سینیٹ میں چین کےخلاف قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یہ قرارداد منظور کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ چین کےخلاف امریکی سینیٹ میں قرارداد کی منظوری سے اسلامی جمہوریہ ایران کی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے لئے اپنے دوستوں کو بھی قربان کر دیتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح کرمانشاہ کے آزادی اسٹیڈیم میں عوام کے ایک عظیم الشان اور ولولہ انگیزاجتماع میں فرمایا: وال اسٹریٹ تحریک مغربی ممالک کے سرمایہ دارانہ نظام کی مکمل شکست و ناکامی کا مظہر اور بحران کا آغاز ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) کرمانشاہ کے آزادی اسٹیڈیم میں عوام کے ایک عظیم الشان اور ولولہ انگیزاجتماع میں اپنے اہم خطاب میں اسلامی نظام میں عوام کے عزم و ارادہ ،عوام کے مقام و منزلت اور عوام کے نقش و کردار کی اصلی اور مؤثر معیار کے عنوان سےتشریح کی اور دشمنوں کی ظاہری و باطنی سازشوں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کی ممتاز و عمدہ توانائیوں اور علمی ، اقتصادی، صنعتی اور زرعی ترقی و پیشرفت میں سرعت کے ساتھ حرکت کرنے پر تاکید کی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےحالات کی وسعت و کامیابی اور گوناگوں سماجی تحریکوں کو عوام سے قریب اور عوام سے وابستہ و منسلک قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران کی معاصر تاریخ میں تیل کی صنعت کے قومی ہونے اور مشروطیت کے دو تجربے موجود ہیں اور ان دونوں تجربات و واقعات کی ابتدائی کامیابی میں عوام کا نقش و کردار بہت ہی مؤثر اور بے نظیر تھا لیکن چونکہ ان دونوں حرکتوں کا عوام سےفاصلہ ہوگيا جس کی وجہ سے ان دونوں واقعات  و تجربات کاسرانجام رضاخان کے استبداد اور 28 مرداد کے کودتا پر منتج ہوا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایران کی تاریخ میں انقلاب اسلامی ہی وہ واحد واقعہ ہےجس میں عوام نے اس کی کامیابی اور اس کو جاری رکھنے میں براہ راست اور بنیادی نقش ایفا کیا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی اور اس میں پیہم عوامی نقش کو انقلاب اسلامی کی سب سے اہم خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد عوام کی موجودگی اور عوام کا نقش حضرت امام (خمینی رہ) کی حکمت ، تدبیر اور گہری نگاہ کا مظہر تھا انھوں نے ایرانی قوم کو اچھی طرح پہچان اور درک کرلیا تھا اور ان کا ایرانی عوام کی توانائیوں اور ان کے پختہ عزم پر پکا ایمان اور پختہ یقین تھا

اکتوبر12کی تاریخ کرمانشاہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی کیونکہ آج کی تاریخ میں ولایت کی خوشبو سے یہ شہر معطر ہوا ہے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کرمان شاہ پہنچ گئے ہیں جہاں عوام نے ان کا عظیم ،شاندار ، تاریخی اور والہانہ استقبال کیاہے۔ رپورٹ کے مطابق کرمانشاہ کے عوام کی انتظار کے لمحات ختم ہوگئے ہیں،   20 مہر مطابق 12 اکتوبر کی تاریخ کرمانشاہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی کیونکہ آج کی تاریخ میں ولایت کی خوشبو سے یہ شہر معطر ہوا ہے  رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت  آیت اللہ العظمی خامنہ ای کرمان شاہ پہنچ گئے ہیں جہاں عوام نے ان کا  عظیم ،شاندار ، تاریخی اور والہانہ استقبال کیاہے۔ کرمان شاہ کے میدان آزادی سے لیکر آزادی اسٹیڈیم اوراس کے اطراف میں عوام کی کثیر تعداد موجود ہے جو اپنے محبوب رہبراور قائد کا والہانہ استقبال کررہے ہیں عوام  رہبر معظم انقلاب اسلامی پر اپنی محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور کررہے ہیں۔