پابندی قبول نہیں، شیعہ ایکشن کمیٹی اور مرکزی سبیل آرگنائزیشن گلگت فلاحی تنظیمیں ہیں، دہشتگرد نہیں، علامہ ساجد نقوی

Posted: 12/10/2011 in All News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

راولپنڈی: اپنے ردعمل میں اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت بلتستان جیسے پرامن خطے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالی فضا کو مکدر کرنے میں جو فرقہ پرست اور شرپسند عناصر ملوث ہیں انہیں قانون کے شکنجے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔  اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شیعہ ایکشن کمیٹی گلگت اور مرکزی سبیل آرگنائزیشن گلگت پر مبینہ پابندی کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے شہری آزادیوں کی پامالی، اختیارات سے تجاوز اور دیدہ و دانستہ طور پر اپنی ذمہ داریوں سے گریز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے غیرمنصفانہ اقدام اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ طلبہ تنظیموں کا دہشتگردی سے دور کا بھی تعلق نہیں اور وہ ایک عرصہ سے اس خطے میں طلبہ حقوق کے تحفظ اور گلگت بلتستان کے فلاحی و سماجی امور میں مصروف عمل تھیں۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی اور ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے عوام کے آئینی و قانونی حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کرنا کسی طور پر درست اور قرین انصاف نہیں۔ اصل مسئلہ دہشت گردی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت بلتستان جیسے پرامن خطے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالی فضا کو مکدر کرنے میں جو فرقہ پرست اور شرپسند عناصر ملوث ہیں انہیں قانون کے شکنجے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا مگر صورتحال اس کے برعکس ہے۔  اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ پرامن، محب وطن شہریوں کی آزادی کو سلب کرنا اور تنظیموں پر پابندی لگانا درحقیقت ظالم و مظلوم اور قاتل و مقتول کی تمیز کئے بغیر توازن کی ظالمانہ پالیسی کو فروغ دینا اور اصل حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے، جس کی ملک کے تمام باشعور اور محب وطن حلقوں کی طرف سے بھرپور مذمت کی جا رہی ہے اور اس غیرمنصفانہ اور ظالمانہ اقدام کو واپس لے کر بلاجواز پابندی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے۔

Comments are closed.