مفتی عبدالرحمان البراک: خانہ کعبہ کو منہدم کرنے اور اسکی جگہ نئی عمارت کی تعمیر کی جائےتاکہ حجاج خواتین اور مردوں کا ایک جگہ جمع ہونے کا سدباب کیا جا سکے۔

Posted: 12/10/2011 in All News, Breaking News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

انتخابات میں خواتین کو شرکت کی اجازت دینے پر مبنی سعودی بادشاہ کے حکم کے چند ہفتے بعد ملک کے معروف مفتی اور علماء کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے کو آ رہا ہے۔  العالم نیوز چینل کے مطابق سعودی عرب کے معروف عالم دین اور مفتی عبدالرحمان البراک نے انتخابات میں خواتین کی شرکت کو شرعی طور پر حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کفار کی کامیابی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات وہ بدترین روش ہے جو کفار کی جانب سے اسلامی معاشروں میں داخل ہوئی ہے۔ البراک نے کہا کہ وزیراعظم یا پارلمانی رکن یا علاقائی کونسل کی نمائندگی کیلئے انتخابات انجام دینا حرام عمل ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ الیکشن کا نظام ایک فاسد نظام ہے جس کی عقلی اور شرعی طور پر کوئی بنیاد نہیں، یہ نظام دشمنان اسلام کی جانب سے اسلامی سرزمینوں پر قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں میں آیا ہے۔ عبدالرحمان البراک نے اس سے قبل اپنے ایک متنازعہ فتوے میں ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے گذشتہ سال 17 جون کو سعودی عرب کی سرگرم خواتین کی جانب سے ملک بھر میں خواتین کو ڈرائیونگ کی کال دینے کے بارے میں کہا کہ انکا یہ فیصلہ “منکر” ہے، انہوں نے اس فیصلے کے ذریعے ملک میں شرپسندی پھیلانے کا زمینہ فراہم کیا ہے۔ البراک کا ایک اور متنازعہ فتوا نعوذ باللہ خانہ کعبہ کو منہدم کرنے اور اسکی جگہ نئی عمارت کی تعمیر پر مبنی تھا تاکہ اس طرح خواتین اور مردوں کا ایک جگہ جمع ہونے کا سدباب کیا جا سکے۔ سعودی عرب کی اعلی سطحی علماء کونسل کے رکن شیخ صالح اللحیدان نے بھی اس سے قبل انتخابات میں خواتین کو شرکت کرنے کی اجازت پر مبنی ملک عبداللہ کے حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یاد رہے سعودی بادشاہ ملک عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ یہ فیصلہ مذہبی علماء سے مشورہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے لیکن اللحیدان نے کہا ان سے اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ شیخ صالح اللحیدان بھی ملک میں پارلمانی انتخابات کے سخت مخالف ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پارلمنٹ کے اراکین کو منصوب کرنے کا اختیار صرف بادشاہ کو حاصل ہے اور اسکا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاسی ماہرین سعودی فرمانروا کے فیصلے کے خلاف دینی علماء کے ردعمل کو ملک پر حاکم سیاسی نظام اور وہابی علماء جو ملک میں گہرے اثر و رسوخ کے حامل ہیں، کے درمیان موجود گہرے شکاف کا ثبوت قرار دیتے ہیں۔

Comments are closed.