لال مسجد اسلام آباد کے نائب خطیب کو دورہ ایران سے واپسی پر دھمکیاں ملنے لگیں، عہدہ چھوڑنے کے لئے دباؤ

Posted: 12/10/2011 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

لاہور:  ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عامر صدیقی نے گزشتہ دنوں اتحاد امت کے عنوان سے ایران میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی جس سے واپسی پر طالبان نواز قوتیں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں جب کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ نے بھی مولانا عامر صدیقی کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں  ایران کا دورہ کرنا جرم بن گیا، لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عامر صدیقی کو دھمکیاں ملنے لگیں جب کہ لال مسجد انتظامیہ نے بھی انہیں تنگ کرنا شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عامر صدیقی گزشتہ دنوں ایران کے دورہ پر گئے جہاں انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی جس سے واپسی پر انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عامر صدیقی لال مسجد آپریشن سے قبل شدت پسندوں کے کمانڈر تھے جب کہ مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان برقع پوش خواتین کی بریگیڈ کی کمانڈ کر رہی تھیں۔ ام حسان نے بھی مولانا عامر کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی شیعہ مسلک کی مسجد میں جا کر امامت کروائیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مولانا عامر صدیقی لال مسجد آپریشن کے بعد طالبان کی حمایت سے دستبردار ہو چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہیں ان کی حمایت کرنا غیراسلامی فعل ہے جس پر لال مسجد انتظامیہ جو اب بھی طالبان کی سرپرست بتائی جاتی ہے مولانا عامر صدیقی کے خلاف ہو چکی ہے۔ لال مسجد کے موجودہ خطیب مولانا عبدالعزیز نے مولانا عامر کے دورہ ایران کی بھی مذمت کی ہے اور مسجد کی گورننگ باڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ مولانا عامر صدیقی کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔

Comments are closed.