Archive for 12/10/2011

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ اور مغربی ممالک کی غلط اوردوگانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ اس وقت بدترین شرائط میں گرفتار ہوگیا ہے اور علاقہ کا مستقبل علاقائی قوموں کے ہاتھ میں ہوگا۔نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمانپرست نے ماسکو میں حکومتی یونیورسٹی کے حقوق کے شعبہ میں اپنے خطاب میں امریکہ اور مغربی ممالک کی غلط اوردوگانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ اس وقت بدترین اور سخت شرائط میں گرفتار ہوگیا ہے اور علاقہ کا مستقبل علاقائی قوموں کے ہاتھ میں ہے۔ مہمانپرست نے روس و ایران کے تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں۔انھوں نے علاقہ میں ایران کے اہم نقش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے نقش کو محدود کرنے کے لئے مغربی ممالک کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور ایران سیاسی ، اقتصادی ، فوجی اور انرجی کے شعبوں میں پیشرفت کی سمت بڑھ رہا ہے انھوں نے کہا کہ ایران کی پیشرفت و ترقی پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تشویش لاحق ہے کیونکہ وہ دیگر ممالک کی پیشرفت کے خواہاں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک انسانی حقوق اور جمہوریت سے اپنے مفادات کے لئے استفادہ کرتے ہیں جبکہ مغربی ممالک کو نہ جمہوریت سے کوئي لگاؤ ہے اور نہ ہی وہ انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے آج تک امریکہ نواز ڈکٹیٹروں کی حمایت کی ہے اور آج علاقائی عوام جمہوریت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن پھر بھی مغربی ممالک ڈکٹیٹروں کی حمایت کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطی میں اپنے عرب ڈکٹیٹروں کے ذریعہ علاقہ کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ مہمانپرست نے کہا کہ علاقہ میں عوامی بیداری پیدا ہوچکی ہے اور علاقائي عوام امریکی ڈکٹیٹروں کو نابود کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔

Advertisements

شام کے صدر بشار اسد کی حمایت میں دمشق میں کئی ملین افراد نے مظاہرہ کیا ہے جس سے امریکہ اور اس کے اتحادی مبہوت ہوکر رہ گئے ہیں بشار اسد کی اصلاحات پر شامی عوام نے اپنے صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ شام کی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کی حمایت میں دمشق میں کئی ملین افراد نے السبع بحرات میدان میں مظاہرہ کیا ہے جس سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک مبہوت ہوکر رہ گئے ہیں بشار اسد کی اصلاحات پر شامی عوام نے اپنے صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مظاہرین نے قومی اتحاد و یکجہتی ، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور شام کے بارے میں روس اور چین کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا ہے۔مظاہرین نے استنبول میں عبوری کونسل کی تشکیل کو امریکی سازشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مظاہرین نے شامی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے شام کے قائد و رہنما ، شام کے عوام اور فوج تیرے ساتھ ہیں۔ اسد ہمارا رہبر ہے، امریکہ و اسرائيل اور ان کے اتحادی ہمارے دشمن ہیں۔ مظاہرین نے ترکی کے حکام  کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی منصوبہ کے تحت شام کے معاملات میں مداخلت بند کردیں

افغانستان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ امراللہ صالح نے کہا ہے کہ اعتدال پسند طالبان نام کی کوئی چیز نہیں، سبھی طالبان دہشت گرد اور شدت پسند ہیںاور یہ شوشہ محض اتحادی افواج میں کمی لانے کیلئے چھوڑا گیا۔ نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق  برطانوی ریڈیوسے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ امراللہ صالح نے کہا ہے کہ اعتدال پسند طالبان نام کی کوئی چیز نہیں، سبھی طالبان دہشت گرد اور شدت پسند ہیںاور یہ شوشہ محض اتحادی افواج میں کمی لانے کیلئے چھوڑا گیا۔افغان خفیہ ادارے کے سابق سربراہ نے کہا کہ طالبان میں اعتدال پسند عناصر کا کوئی وجود نہیں، یہ خودساختہ مفروضہ ہے جس کا مغربی ممالک پروپیگنڈاکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروپیگنڈے کا مقصدافغانستان میں اتحادی فوج میں کمی لاناہے۔ امراللہ صالح نے کہا کہ اعتدال پسند طالبان اور القاعدہ کے فلسفے میں کوئی خاص فرق نہیں دونوں کے نظریا ت یکساں ہیں۔اعتدال پسند طالبان کا مفروضہ باقاعدہ تخلیق کیاگیااور یہ شوشہ مغربی ممالک نے چھوڑاہے ایسے طالبان کا کوئی وجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ اعتدال پسند طالبان کی اصطلاح ایک نئی ایجاد ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے اور اس شوشے کا مقصد افغانستان میں فوج کی تعدادمیں کمی لاناہے۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر ربانی کوطالبان نے قتل کیا

اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک اسرائیلی قیدی شالیٹ کے بدلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی آزادی کا سمجھوتا طے پا گيا ہے۔ الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک اسرائیلی قیدی شالیٹ کے بدلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی  قیدیوں کی آزادی کا سمجھوتا طے پا گيا ہے۔ اس سمجھوتے کے مطابق ایک اسرائیلی قیدی کے بدلے ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدی رہا کئے جائیں گے،اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدی کے تبادلے کے سمجھوتے کے بعد غزہ سٹی میں جشن کا سماں ہے،ہزاروں فلسطینی ریلیاں نکال رہے ہیں اور خوشی کا اظہار کررہے ہیں،دوسری طرف اسرائیلی کابینہ نے اس سمجھوتے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکہ میں وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک نے اب امریکی ارب پتیوں کے گھروں کا رخ کرلیا ہے جن کی امریکی حکومت حمایت کررہی ہے امریکی حکومت صہیونی کمپنیوں کے حقوق کو تحفظ پہناتی ہے اور امریکی عوام کے حقوق کو پامال کرتی ہےرائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ میں وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک نے اب امریکی ارب پتیوں کے گھروں کا رخ کرلیا ہے جن کی امریکی حکومت حمایت کررہی ہے امریکی حکومت صہیونی کمپنیوں کے حقوق کو تحفظ پہناتی ہے اور امریکی عوام کے حقوق کو پامال کرتی ہے۔وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کے شرکاء نیویارک میں احتجاج کرتے ہوئے،مین ہٹن کے اس پوش علاقے کا رخ کیا جہاں عالمی میڈیا گروپ کے سربراہ روپرٹ مرڈوک، ڈیوڈ کوچ،جمی ڈائمن سمیت کئی ارب پتی رہتے ہیں،سیکڑوں مظاہرین سینٹرل پارک کے داخلی راستے پر جمع ہوئے اور ان کے خلاف نعرے بازی کی وال اسٹریٹ تحریک میں مزدور یونین بھی شامل ہوگئی ہے یہ تحریک امریکہ کے تمام شہروں تک پھیل گئی ہے اس تحریک میں طلباء یونینیں بھی شامل ہورہی ہیں جس کے بعد یہ تحریک مزيد زور پکڑ جائے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ دہشت گرد تنظیم پاکستانی سیکورٹی حکام کی حراست سے اسامہ کی بیواوٴں اور بچوں کو چھڑانے کے لئے حملے کی سازش کر رہی ہے اسامہ کی بیواؤں کو سعودی عرب اور یمن حکومتیں لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ دہشت گرد تنظیم پاکستانی سیکورٹی حکام کی حراست سے اسامہ کی بیواوٴں اور بچوں کو چھڑانے کے لئے حملے کی سازش کر رہی ہے۔  ذرائع کے مطابق پاکستانی وزارت داخلہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ القاعدہ سرکاری عہدے دار کو اغو ا کرکے تاوان میں اسامہ کی بیواؤں اور بچوں کی رہائی کامطالبہ کرسکتی ہے،سعودی عرب اور یمن کی حکومتوں کی طرف سے اسامہ کے خاندان کو واپس لینے سے انکار کے بعد پاکستانی حکام مشکلات کا شکار ہیں۔ برطانوی اخبار میل کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ اسامہ بن لادن کی بیواوٴں کوپاکستانی سیکورٹی حکام کی حراست سے چھڑانے کے لیے اغوا کی سازش تیار کر رہی ہے،پاکستانی حکام کو خوف ہے کہ القاعدہ پاکستانی حکومتی عہدے دار کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ اسامہ بن لادن کی تین بیواوٴں اور آٹھ بچوں کو ان کے حوالے کرنے پرحکومت پاکستان کو مجبور کیا جا سکے۔ مئی میں امریکی چھاپے کے بعد اسامہ کی تین بیویوں یمن نژاد29سالہ امل الصالح،سعودی نژاد خریرہ صابر اور شیام صابر پاکستانی سیکورٹی اداروں کی حراست میں ہیں۔اگرچہ ان خواتین پر سفر ی پابندیاں اٹھالی گئیں ہیں ،پاکستانی حکام اسامہ خاندان کی واپسی میں مشکلات کا شکار ہے کیونکہ سعودی عرب اور یمن کی حکومتوں نے ان کو واپس لینے سے انکار کردیاہے۔

امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک اور گھناؤنی اور بے بنیاد سازش کرکے عالمی رائے عامہ اور امریکہ میں جاری عوامی احتجاج سے عالمی افکار کو منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی ہےایران نے امریکہ کی اس مضحکہ خیز سازش کو بےبنیاد قراردیتے ہوئے رد کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک اور گھناؤنی اور بے بنیاد سازش کرکے عالمی رائے عامہ اور امریکہ میں جاری عوامی احتجاج سے عالمی افکار کو منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی ہےایران نے امریکہ کی اس مضحکہ خیز سازش کو بےبنیاد قراردیتے ہوئے رد کردیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ میں سعود عرب کے سفیر کو قتل کرنے کی سازش کی ہے  امریکہ نے اس جھوٹی اور بے بنیاد خبر کو بڑے آب و تاب کے ساتھ بیان رکتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اس سلسلے میں  ایران کے ایک ایسے شہری کو گرفتار کیا ہے جس کے پاس امریکی شہریت بھی ہے ایران نے امریکہ کی اس سازش کو بے بنیاد اور گھناؤنا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ یہ سازش بھی اس کی دیگر سازشوں کی طرح جھوٹ اور بے بنیاد الزامات پر مبنی ہے اور امریکہ کی یہ سازش بھی اس کی دیگر سازشوں کی طرح ناکام ہوجائے گی

راولپنڈی: اپنے ردعمل میں اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت بلتستان جیسے پرامن خطے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالی فضا کو مکدر کرنے میں جو فرقہ پرست اور شرپسند عناصر ملوث ہیں انہیں قانون کے شکنجے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔  اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شیعہ ایکشن کمیٹی گلگت اور مرکزی سبیل آرگنائزیشن گلگت پر مبینہ پابندی کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے شہری آزادیوں کی پامالی، اختیارات سے تجاوز اور دیدہ و دانستہ طور پر اپنی ذمہ داریوں سے گریز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے غیرمنصفانہ اقدام اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ طلبہ تنظیموں کا دہشتگردی سے دور کا بھی تعلق نہیں اور وہ ایک عرصہ سے اس خطے میں طلبہ حقوق کے تحفظ اور گلگت بلتستان کے فلاحی و سماجی امور میں مصروف عمل تھیں۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی اور ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے عوام کے آئینی و قانونی حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کرنا کسی طور پر درست اور قرین انصاف نہیں۔ اصل مسئلہ دہشت گردی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت بلتستان جیسے پرامن خطے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالی فضا کو مکدر کرنے میں جو فرقہ پرست اور شرپسند عناصر ملوث ہیں انہیں قانون کے شکنجے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا مگر صورتحال اس کے برعکس ہے۔  اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ پرامن، محب وطن شہریوں کی آزادی کو سلب کرنا اور تنظیموں پر پابندی لگانا درحقیقت ظالم و مظلوم اور قاتل و مقتول کی تمیز کئے بغیر توازن کی ظالمانہ پالیسی کو فروغ دینا اور اصل حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے، جس کی ملک کے تمام باشعور اور محب وطن حلقوں کی طرف سے بھرپور مذمت کی جا رہی ہے اور اس غیرمنصفانہ اور ظالمانہ اقدام کو واپس لے کر بلاجواز پابندی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے۔

ملتان:  شیعہ رہنمائوں کا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں جس طرح بے گناہ ہزارہ قبائل کا قتل عام کیا جا رہا ہے وہ کسی طور پر بھی قابل برداشت نہیں، بلوچستان کے حکمرانوں کی طرح پنجاب کی حکومت نے بھی دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ ملک بھر میں اہل تشیع کی ٹاگٹ کلنگ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کیخلاف ملتان میں مختلف شیعہ تنظیموں نے احتجاجی دھرنا دیا، جعفریہ رابطہ کونسل کی اپیل پر کچہری روڈ پر انجمن حسینیہ، مجلس وحدت مسلمین، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیزیشن، جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، وکلاء اور عوام کی بڑی تعداد نے احتجاج میں بھرپور شرکت کی، لوگ ”لبیک یا حسین ع لبیک یا حسین ع ” کی صدائیں بلند کرتے ہوئے کچہری چوک پر پہنچے، اس موقع پر مظاہرین نے امریکا، دہشتگردوں اور حکومت کیخلاف بھرپور نعرہ بازی کی، مظاہرین نے 2 گھنٹے تک سڑک پر پرامن دھرنا دیا۔ شیعہ رہنمائوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ روکے، ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جس طرح بے گناہ ہزارہ قبائل کا قتل عام کیا جا رہا ہے وہ کسی طور پر بھی قابل برداشت نہیں، بلوچستان کے حکمرانوں کی طرح پنجاب کی حکومت نے بھی دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے علی پور کا واقعہ جس کی واضح مثال ہے، مقررین کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی جانب سے دہشتگردوں کی رہائی کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے اور ملک اور اسلام دشمن عنا صر کو بری کرنے کی بجائے پھانسی کی سزائیں دی جائیں، تمام شیعہ تنظیموں نے مشترکہ طور پر حکومت سے اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ روکنے اوردہشتگردی و فرقہ واریت پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔

لاہور:  ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عامر صدیقی نے گزشتہ دنوں اتحاد امت کے عنوان سے ایران میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی جس سے واپسی پر طالبان نواز قوتیں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں جب کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ نے بھی مولانا عامر صدیقی کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں  ایران کا دورہ کرنا جرم بن گیا، لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عامر صدیقی کو دھمکیاں ملنے لگیں جب کہ لال مسجد انتظامیہ نے بھی انہیں تنگ کرنا شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عامر صدیقی گزشتہ دنوں ایران کے دورہ پر گئے جہاں انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی جس سے واپسی پر انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عامر صدیقی لال مسجد آپریشن سے قبل شدت پسندوں کے کمانڈر تھے جب کہ مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان برقع پوش خواتین کی بریگیڈ کی کمانڈ کر رہی تھیں۔ ام حسان نے بھی مولانا عامر کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی شیعہ مسلک کی مسجد میں جا کر امامت کروائیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مولانا عامر صدیقی لال مسجد آپریشن کے بعد طالبان کی حمایت سے دستبردار ہو چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہیں ان کی حمایت کرنا غیراسلامی فعل ہے جس پر لال مسجد انتظامیہ جو اب بھی طالبان کی سرپرست بتائی جاتی ہے مولانا عامر صدیقی کے خلاف ہو چکی ہے۔ لال مسجد کے موجودہ خطیب مولانا عبدالعزیز نے مولانا عامر کے دورہ ایران کی بھی مذمت کی ہے اور مسجد کی گورننگ باڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ مولانا عامر صدیقی کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔

انتخابات میں خواتین کو شرکت کی اجازت دینے پر مبنی سعودی بادشاہ کے حکم کے چند ہفتے بعد ملک کے معروف مفتی اور علماء کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے کو آ رہا ہے۔  العالم نیوز چینل کے مطابق سعودی عرب کے معروف عالم دین اور مفتی عبدالرحمان البراک نے انتخابات میں خواتین کی شرکت کو شرعی طور پر حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کفار کی کامیابی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات وہ بدترین روش ہے جو کفار کی جانب سے اسلامی معاشروں میں داخل ہوئی ہے۔ البراک نے کہا کہ وزیراعظم یا پارلمانی رکن یا علاقائی کونسل کی نمائندگی کیلئے انتخابات انجام دینا حرام عمل ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ الیکشن کا نظام ایک فاسد نظام ہے جس کی عقلی اور شرعی طور پر کوئی بنیاد نہیں، یہ نظام دشمنان اسلام کی جانب سے اسلامی سرزمینوں پر قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں میں آیا ہے۔ عبدالرحمان البراک نے اس سے قبل اپنے ایک متنازعہ فتوے میں ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے گذشتہ سال 17 جون کو سعودی عرب کی سرگرم خواتین کی جانب سے ملک بھر میں خواتین کو ڈرائیونگ کی کال دینے کے بارے میں کہا کہ انکا یہ فیصلہ “منکر” ہے، انہوں نے اس فیصلے کے ذریعے ملک میں شرپسندی پھیلانے کا زمینہ فراہم کیا ہے۔ البراک کا ایک اور متنازعہ فتوا نعوذ باللہ خانہ کعبہ کو منہدم کرنے اور اسکی جگہ نئی عمارت کی تعمیر پر مبنی تھا تاکہ اس طرح خواتین اور مردوں کا ایک جگہ جمع ہونے کا سدباب کیا جا سکے۔ سعودی عرب کی اعلی سطحی علماء کونسل کے رکن شیخ صالح اللحیدان نے بھی اس سے قبل انتخابات میں خواتین کو شرکت کرنے کی اجازت پر مبنی ملک عبداللہ کے حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یاد رہے سعودی بادشاہ ملک عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ یہ فیصلہ مذہبی علماء سے مشورہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے لیکن اللحیدان نے کہا ان سے اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ شیخ صالح اللحیدان بھی ملک میں پارلمانی انتخابات کے سخت مخالف ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پارلمنٹ کے اراکین کو منصوب کرنے کا اختیار صرف بادشاہ کو حاصل ہے اور اسکا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاسی ماہرین سعودی فرمانروا کے فیصلے کے خلاف دینی علماء کے ردعمل کو ملک پر حاکم سیاسی نظام اور وہابی علماء جو ملک میں گہرے اثر و رسوخ کے حامل ہیں، کے درمیان موجود گہرے شکاف کا ثبوت قرار دیتے ہیں۔

لاہور: معروف دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کو بھی اس صورتحال کا بخوبی اندازہ ہے اور اسی وجہ سے ہم پر حقانی نیٹ ورک سے تعلقات اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے تعلقات کے الزامات لگائے گئے تھے۔ یہ الزامات اس لئے لگائے گئے تھے کہ ہم نے ”ڈومور“ کو ”مسترد“ کر دیا تھا۔ پاکستان کے سابق سینئر جرنیل اور معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل نصیر اختر نے کہا ہے کہ امریکہ کے اگلے انتخابات کا سب سے اہم ایشو افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہو گا۔ اوباما یہ الیکشن مشکل سے ہی جیت سکیں گے بلکہ ممکن ہے کہ انہیں اپنی امیدواری ہی واپس نہ لینی پڑ جائے۔ افغانستان سے امریکہ نے فوجیں واپس نہ بلائیں تو اس کے لئے حالات ویتنام سے بھی ابتر ہوتے جائیں گے۔ جنرل (ر) نصیر اختر نے کہا کہ امریکی عوام کو احساس ہو گیا ہے کہ افغانستان ویتنام سے بھی بڑی دلدل بن رہا ہے جس میں امریکہ اور اس کی معیشت دھنس رہی ہے۔ امریکی عوام اپنی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ امریکی عوام چاہتی ہے کہ امریکی فوجیوں کو فوراً واپس بلایا جائے کیونکہ امریکی معیشت اب افغان جنگ کا مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہی ہے۔  معروف دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کو بھی اس صورتحال کا بخوبی اندازہ ہے اور اسی وجہ سے ہم پر حقانی نیٹ ورک سے تعلقات اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے تعلقات کے الزامات لگائے گئے تھے۔ یہ الزامات اس لئے لگائے گئے تھے کہ ہم نے ”ڈومور“ کو ”مسترد“ کر دیا تھا۔ امریکی 2014ء تک اپنی فوجیں افغانستان سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ان کے لئے ایسا کرنا مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہوشیاری سے بھارت اور افغانستان کو اسٹرٹیجک معاہدہ کروایا ہے۔ امریکہ کو پاکستان کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ برہان الدین ربانی کی موت سے افغانستان میں امن کا عمل متاثر ہوا ہے۔ پختونوں سے ڈائیلاگ میں پاکستان ہی امریکیوں کی مدد کر سکتا ہے۔ پاکستان کی مدد سے ہی امریکہ افغانستان سے نکل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمارے اوپر بھروسہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر بھروسہ کریں گے تو بہتری ہو گی ورنہ ان کا نقصان ہو گا۔

واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکا نے 10 سال تک افغانستان اور عراق میں بہت زیادہ وسائل کا استعمال کیا اور افغانستان سے فوج کے انخلا کے سلسلے میں واشنگٹن اہم موڑ پر کھڑا ہے۔  امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے تسلیم کیا ہے کہ عراق اور افغان جنگ سے امریکا معاشی مسائل سے دوچار ہوا ہے۔ واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکا نے 10 سال تک افغانستان اور عراق میں بہت زیادہ وسائل کا استعمال کیا اور افغانستان سے فوج کے انخلا کے سلسلے میں واشنگٹن اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ عالمی سیاست کا مرکز افغانستان اور عراق کی بجائے ایشیا ہو گا جس میں امریکا مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن چین، بھارت اور انڈونیشیا سے ترجیحی بنیادوں پر تعلقات استوار کرے گا۔

اورکزئی ایجنسی میں گورنر مسعود کوثر کے جلسے پر راکٹوں سے حملہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق گورنر کے جلسے پر نامعلوم سمت سے تین راکٹ فائر کیے گئے جس میں ایک شخص ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم گورنر محفوظ ہیں کیونکہ وہ ضروی مٹینگ میں ہونے کی وجہ سے جلسہ گاہ نہیں پہنچے تھے۔ راکٹوں کے فائر ہونے کے بعد جلسہ گاہ میں بگدڑ مچ گئی جب کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جلسہ گاہ کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ سرکاری زرائع نے مزید بتایاکہ پہلا راکٹ ہیلی کاپٹر جبکہ دو عوام کے درمیان جلسہ گاہ میں گرے۔

دبئی: شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون نے کہا ہے کہ اگر مغربی طاقتوں نے ان کے ملک پر حملہ کیا تو خودکش بمبار امریکا، فرانس اور برطانیہ پر حملوں کیلئے تیار ہیں۔ انھوں نے یہ دھمکی یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دی ہے۔ شیخ احمد حسون نے کہا کہ میں تمام یورپ اور امریکا سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم خودکش بمبار تیار کریں گے۔ اگر آپ نے شام اور لبنان پر حملہ کیا تو بمبار پہلے ہی آپ کے ممالک میں حملوں کیلئے موجود ہیں۔ آج کے دن کے بعد آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کا بدلہ دانت سے لیا جائے گا اور پہل کرنے والا جارح ہوگا۔ مفتی اعظم نے کہا کہ جب شام پر پہلا راکٹ گرے گا تو لبنانی اور شامی بچوں کو یورپ اور (مقبوضہ) فلسطین روانہ کر دیا جائے گا جہاں وہ شہید ہوں گے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے شیخ احمد حسون کے ایک بیٹے کو ادلب اور حلب کے درمیان واقع شاہراہ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ شامی حکام نے دہشت گرد گروپوں پر ان کے قتل کا الزام عائد کیا تھا جبکہ آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ انھیں حزب مخالف کے انتہا پسندوں یا شامی صدر کے وفاداروں نے قتل کیا تھا۔ واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف کے سرکردہ لیڈروں نے اگست کے آخر میں ترکی کے شہر استنبول میں لیبیا کی طرز پر قومی کونسل تشکیل دی تھی۔ اس میں شام میں موجود اور بیرون ملک مقیم اپوزیشن لیڈر شامل ہیں۔ کونسل میں شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے والی مقامی رابطہ کمیٹیاں اور بعث پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد پابندیوں کا شکار اسلامی جماعت اخوان المسلمون اور کرد جماعتوں سمیت متعدد اپوزیشن گروپوں کے نمائندے شامل ہیں۔

امریکہ میں دو ایرانی نژاد شہریوں پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے جن کو سعودی اور اسرائیلی سفارتخانوں پر حملے کرنے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا کہ ایرانی حکومت نے اس سازش کیلئے رقم فراہم کی ہوگی اور ایرانی حکام کو اس سازش کا ضرور علم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی سفیر کو قتل کرنے کی سازش بہت بڑے منصوبے کا حصہ تھی جس کے تحت امریکہ کے سعودی عرب سے تعلقات خراب کرنا تھے۔

اسلام آباد:  سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہائیکورٹ کے دور کنی بنچ نے کی، جس نے فیصلے کے خلاف اپیل کو سماعت کے لئے منظور کر لیا۔ ممتاز قادری کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ خواجہ شریف کا کہنا ہے کہ مجرم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے اور وفاق کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔   گورنر پنجاب کے قتل کی پاداش میں انسداد دہشتگردی عدالت نے ملک ممتاز قادری کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف ممتاز قادری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ تازہ تریں موصولہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل کو سماعت کے لئے منظور کر کے سزا موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس کو سرکار کی طرف سے ماہر ترین وکلاء کا پینل لڑے گا جسمیں خواجہ شکیل جو کہ سابق چیف جسٹس بھی ہیں اس کیس میں حصہ لے رہے ہیں۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ممتاز قادری کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق سے جواب طلب کرنے کے ساتھ ساتھ پیپر بک کی تیاری تک سماعت ملتوی کر دی ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہائیکورٹ کے دور کنی بنچ نے کی، جس نے فیصلے کے خلاف اپیل کو سماعت کے لئے منظور کر لیا۔ ممتاز قادری کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ خواجہ شریف کا کہنا ہے کہ مجرم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے اور وفاق کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو دو مرتبہ موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔