Archive for October, 2011

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنت میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیش کے رکن نے کہا ہے کہ تیونس میں اسلامی پارٹی النہضۃ کی کامیابی سے اس ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کا امکان بڑھ گيا ہے۔ سید علی آقا زادہ نے تیونس میں اسلامی پارٹیوں کی کامیابی کے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت تیونس نے اس ملک کے ڈکٹیٹر کے خلاف قیام کرکے اپنا کھویا ہوا اسلامی تشخص دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ درایں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تیونس کے انتخابات میں اسلام پسندوں کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملت تیونس اسلام کی طرف رجحان رکھتی ہے۔ڈاکٹر لاریجانی نے تیونس کے عام انتخابات میں اسلامی پارٹیوں کی کامیابی پر انہیں مبارک باد پیش کی اور کہا کہ گذشتہ ایک برس میں اسلامی ملکوں کے حالات اسلامی بیداری کا ثبوت ہیں۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ ان حالات کے آغاز سے ہی رہبرانقلاب اسلامی نے عصر حاضر میں اسلامی بیداری کی بات کی تھی اور تیونس کے عام انتخابات کے نتائج بھی بعض مغربی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے نظریئے کے باطل ہونے پر مہر تائید ثبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ملت تیونس کی نوے فیصد شرکت اور اسلامی پارٹیوں کی کامیابی ملت تیونس کی جانب سے اپنے اسلامی حقوق کے احیاء پر تاکید ہے ۔ تیونس کے عام انتخابات کے غیر رسمی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اسلامی پارٹیوں کو کامیابی ملی ہے اسلامی پارٹی النہضہ کو پینتالیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ شمالی افریقہ اور عرب دنیا میں بیداری کی لہر میں اسلامی عنصر جس سے مغربی دنیا انکاری رہی ہے اب نمایاں ہوکر سامنے آگیاہے لیبیا میں بھی انقلاب کونسل نے کھل کر کہا کہ ملک کا نیا آئین اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر وضع کیا جائےگا۔لیبیا میں تو انقلابی عوام نے اپنی کامیابی کے جشن کے موقع آج لیبیا کل فلسطین کے نعرے لگاکر مغرب ملکوں کی راتوں کی نیند چھین لی ہے اور فرانس نے اس معاملے پر اپنی گہری تشویش بھی ظاہر کی ہے۔ قیصر لیبیا اور تیونس میں اسلامی بنیادوں پر آئین اور حکومتوں کی تشکیل پر سامراجی طاقتوں کے عزائم کو کتنا نقصان پہنچےگا؟ اس کا اندازہ مغربی ملکوں کے حکام کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔  ادہر تیونس کے عام انتخابات پر نگرانی کرنے والے مبصر اور افریقی یونین کے نمائندے احمد ولد سید احمد نے کہا ہےکہ انتخابات کے کارکنوں نے بڑی محنت سے عوام کے ووٹوں کو مفید اور فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی ہے، اور صاف و شفاف انتخابات کروانے میں کارکنوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔جبکہ یورپی یونین نے تونس کے انتخاباتی عمل کےآزاد اور شفاف ہونے کا اعتراف کرتے کہا کہ یورپی یونین، سابق صدر بن علی کے سوئیس بنکوں میں موجود اثاثوں کو واپس لوٹانے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریگی۔واضح رہے کہ سابق صدر بن علی نے تقریبا تیس سالوں پر محیط اپنی حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر قومی دولت کو اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیا ہے۔

Advertisements

لاکھوں افراد نے دمشق میں مظاہرہ کرکے صدر بشار اسد کی حمایت اور قومی اتحاد پر تاکید کی ہے۔ یہ عظیم مظاہرہ دمشق کے اومیہ اسکوائر پر ہوا ۔ مظاہرین صدر بشار اسد اورقومی اتحاد کےحق میں نعرے لگائے ۔مظاہرین نعرہ لگارہےتھےکہ ہم بشاراسدکوہی چاہتےہیں ۔مظاہرین کےپلےکارڈوں پرلکھاتھاوطن اوراس کاقائدزندہ باد۔ دمشق کے علاوہ ایک اور بڑامظاہرہ شہر حسکہ میں ہوا جو دمشق سے پانچ سو پچانوے کلومیٹر کی دوری پرواقع ہے۔ یہ بڑے مظاہرے اس وقت ہوئے جب عرب ليگ کا وفد دمشق میں شامی حکام سے مذاکرات کررہا تھا۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ شہر حما میں دہشتگردوں کے حملوں میں مزید نو سکیورٹی اھلکار مارے گئے ہیں۔ شام کا کہنا ہےکہ مغربی اور بعض عرب ممالک شام میں بدامنی پھیلارہے ہیں اور بلوائیوں کو بیرونی حمایت حاصل ہے۔

صیہونی طیاروں نے آج صبح میں خان یونس کے مشرقی اور مغربی علاقوں پر بمباری کی ہے۔ غاصب صیہونی حکام نے ان حملوں کی تصدیق کرتےہوئے دعوی کیا ہےکہ یہ حملے غزہ سے ہونے والے راکٹ حملوں کےجواب میں کئے گئےہیں۔ غزہ کے حکام نے ان دعوؤں کومستردکردیاہے۔ عینی شاہدین نے کہا ہے کہ ان حملوں میں حماس کا ایک فوجی اڈا نشانہ بنا ہے۔ ابھی تک ان حملوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کوئي رپورٹ نہيں ملی ہے۔ یاد رہے صیہونی حکومت نے دسمبر دوہزار آٹھ سے دوہزار نو تک غزہ جنگ کے بعد سے غزہ پر آئے دن حملے کئے ہیں ۔ یہ حملے غزہ سے راکٹ حملوں کو روکنے کے بہانے انجام پائے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان مہمان پرست نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کاحالیہ سناریو تہران ریاض کے درمیان کشیدگي پیدا کرنے کی غرض سے شروع کیا گيا ہے۔ رامین مہمان پرست نےآئي آر آئی بی کے بین الاقوامی چینل جام جم سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پریہ الزام کہ ایران واشنگٹن میں سعودی سفیر کے قتل کے منصوبے میں ملوث ہے ایک ایسا سناریو ہے جس کا مقصد صیہونی حکومت کے بنیادی خطرے سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام یہ سوچتے ہیں کہ انہیں بے بنیاد اور سفید جھوٹے الزامات لگانے کی کوئي قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گي جبکہ انہیں یہ بھی احساس نہیں ہے کہ وہ اپنا اعتبار کھو رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزار ت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ دنیا کا کوئي بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح انسانی کرامت و وقار اور شان کا احترام نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے اسلامی اعتقادات اور اقدار کی رو سے وہ سارے اقدامات انجام دیتا ہے جو انسانی حقوق کے احترام کے لئے ضروری ہیں۔

عراق کی مجلس اعلائے اسلامی  کے سربراہ سید عمار حکیم نے لیبیا کے حکام سے کہا ہےکہ امام موسی صدر کے لاپتہ ہونے کے مسئلے کا سنجیدگي سے جائزہ لیاجائے۔ بغداد سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سید عمار حکیم نے لیبیاکےعوام کو قذافی کی حکومت کی سرنگونی کی مبارک باد دی اورلیبیا میں عوامی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کیا۔سیدعمارحکیم نےاپنےبیان میں لیبیاکےحکام سےکہاکہ وہ امام موسی صدر کاپتہ لگائيں اور اس کےنتائج سے اس عظیم شخصیت کے عقیدت مندوں کو آگاہ کریں۔ سید عمار حکیم نے عراق کے مختلف صوبوں میں بعثیوں کی گرفتار کا خیرمقدم کرتےہوئےکہا کہ جن لوگوں کے ہاتھ بےگناہ عوام کے خون میں رنگے ہوئے ہیں انہیں عراق کی حکومت میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی جائے ۔ سید عمار حکیم نے کہا کہ عراقی قوم کا اتحاد وہ واحد عامل ہے جس سے بیرونی مداخلت کا سد باب ہوسکتا ہے۔ سید عمار حکیم نے پی کے کے گروہ اور ترک فوج کے درمیان جھڑپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراق سے تمام دہشتگرد گروہوں کے اخراج کی ضرورت پرتاکید کی ۔ انہوں نے کہا کہ عراق نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پر دہشتگرد گروہ موجود رہیں۔

یمن کے نائب صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اعتراف کیا ہےکہ موجودہ بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیاجاسکتا۔ یمن کے نائب صدر نے صنعا میں یورپی یونین کے نمائندے سے ملاقات میں کہا کہ یمن کے بحران کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش ناکام ہوکر رہے گي۔ عبدربہ ہادی منصور نے کہا کہ قومی مذاکرت، اور قومی اتحاد اورامن قائم کرنے کی غرض سے فوج کو بیرکوں میں واپس بھیجنے سے ملک کو سخت حالات سے نجاد دی جاسکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یمن کے نائب صدر کا یہ بیان ایسے حالات میں سامنے آیا ہےکہ ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کے حکم سے فوجیں بدستور مظاہرین کو کچل رہی ہیں۔ ملت یمن نے رواں برس سے علی عبداللہ صالح کی بتیس سالہ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ یمن کے ڈکٹیٹر کو امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے تسلط پسندوں اور قوموں کی دولت لوٹنے والوں کو خبرادار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی حرکتوں سے بازنہ آئے تو قومیں انہیں تخت اقتدار سے گرادیں گي۔ صدر جناب احمدی نژاد نے مشرقی صوبے خراسان جنوبی کے شہر درمیان میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تسلط پسندوں کو عوام کی طرف سے نصیحت کرتاہوں کہ اپنے اقدامات سے دستبردار ہوکر علاقے سے چلے جائيں کیونکہ ان کاہدف اختلافات و تفرقہ پھیلانے اور قوموں کی دولت لوٹنے کےعلاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا آج علاقے اور دنیا کی قومیں بیدار ہوچکی ہیں یہاں تک کہ یہ بیداری یورپ اور امریکہ میں بھی دیکھی جارہی ہے۔ صدرجناب احمدی نژاد نے کہا کہ اس بیداری کے باوجود بھی سامراجی طاقتیں اور تسلط پسند ممالک دھوکہ و فریب سے قوموں کی تقدیر کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن خدا کے فضل و کرم سے ایسا نہيں ہوگا۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ یورپ کی ساٹھ سالہ تاریخ اس علاقے میں مختلف قوموں کے قتل عام اور ان کے خلاف جرائم کی گواہ ہے اور ان ملکوں میں آج جنگ نہ ہونے کی وجہ یہ ہےکہ یورپیوں نے مل کر دوسرے ملکوں پر حملے کرکے ان کی دولت و ثروت لوٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ایسےعالم میں جب بحرین میں عوامی احتجاج کاسلسلہ جاری ہے آل خلیفہ حکومت کے وزیرخارجہ نے واشنگٹن میں امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کی ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ نے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹ کے ساتھ امریکہ کی جانب سے بحرین کے لئے ترپن ملین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت میں تاخیرکے مسئلے پرگفتگو کی ۔ بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں امریکہ سے وضاحت طلب کریں اوربحرین کے مستقبل کے بارے میں بحرین کے دوستوں سے مشورہ کریں۔ قابل ذکرہے امریکہ نے بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں بحرین کے تحقیقاتی کیمشن کی رپورٹ کے بعد بحرین کے لئے ہتھیاروں کی فروخت کو ایک مہینے کے لئے موخر کردی ہے۔ یاد رہے ملت بحرین اپنے جائز حقوق طلب کرنے کےلئے فروری سے تحریک چلارہی ہے ۔ بحرین میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے جنہيں آل خلیفہ نے بنیادی ترین حقوق سے محروم کردیا ہے۔ ملت بحرین کے انقلاب کے بعد سے امریکہ اور سعودی عرب نے بحرین کی کھل کر حمایت کرنا شروع کردی ہے۔ امریکہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو خاموش کرنے کےلئے بحرین کے لئے ہتھیاروں کی فروخت پرعارضی پابندی لگائي ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ یہ ایک حقیقت ہےکہ بعض اوقات جن افراد یا قوموں اور ملکوں پر بھروسہ کرنے کو دل چاہتا ہے وہی دھوکہ دے جاتےہیں اور دین و امت کے ساتھ خیانت کرجاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ حال حرمین شریفین پر قابض سعودی حکومت  کا ہے۔ سعودی عرب اگر امریکی اسلام کو چھوڑ کر حقیقی اسلام کا دامن تھام لیتا تو آج عالم اسلام کی صورتحال ہی کچھ اور ہوتی۔ حرمین شریفین اور ضیوف الرحمان کی خدمت گزاری کے دعویدار اس ملک پر ایک خاندان کی حکومت ہے جو نہ صرف اس ملک کی دولت و ثروت اور ذخائر کو اپنی خاص ملکیت سمجھتا ہے بلکہ اس میں حسب منشا تصرف بھی کرتا ہے۔ اگر سعودی عرب کی قوم کی دولت مغربی بینکوں سے نکال لی جائے تو بڑے بڑے نام نہاد اقتصادی سوپر پاور دیوالیہ ہوجائيں گے اور ان کے بھیک مانگنے کی نوبت آجائے گي لیکن افسوس کہ ملت حجاز کی یہ دولت جو رفاہ عامہ اور امت مسلمہ کے مفادات میں خرچ ہونی چاہیے امریکہ اور یورپ میں بڑے بڑے جوے خانوں اور شراب و شباب پرخرچ ہورہی ہے اور کوئي یہ پوچھنےوالا بھی نہیں ہے کہ عالم اسلام کی قیادت کے اس دعویدار ملک کے شہزادے مغربی ملکوں کے شراب خانوں اور عیاشیوں کے اڈوں میں کیا کررہے ہیں؟ سامعین جب سے سرزمین مکہ و مدینہ پر آل سعود کا قبضہ ہوا ہے عالم اسلام کی حالت ہی بدل گئي ہے۔ اسکے بعد سے عالم اسلام کی سیاسی حالت اچھی نہیں رہی بلکہ روز بروز بری ہوتی چلی گئي، امت اسلامی میں روز بروز اختلاف بڑھتا گيا اور مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو حکم خداوندی سمجھنے لگے ،یہ سعودی عرب پرحاکم انتھا پسندانہ فکر یعنی وہابیت کی ترویج کی بناپر ہوا۔ آج بھی آپ کو اس کے نمونے مل جائيں گے، طالبان اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی فکری رہنما سعودی عرب میں پلنے پھولنےوالی یہی انتھا پسندانہ فکر ہے جس نے اسلام کو اس قدر بدنام کیا ہے جتنا یہودی بھی بدنام نہ کرسکے۔ سعودی اسلام بلکہ امریکی اسلام کے پیروں نے افغانستان اور پاکستان کے ایک بڑے حصے میں اسلام کے نام پر وہ طوفان بدتمیزی پھیلایا ہے جسے دنیا کا کوئي بھی دین دار تو کجا مہذب انسان بھی قبول نہیں کرسکتا۔ ملا‏عام میں عورتوں کو کوڑے مارنا، انہیں گولیاں مار کرہلاک کردینا، انہیں تعلیم سے محروم کردینا اور ضرورت کے لئے بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دینا یہ سب سعودی عرب یا بالفاظ ديگر امریکی اسلام کی دین ہے۔ دینی سطح پر سعودی عرب کا تفرقہ انگيز کردار کسی سے چھپانہیں ہے، حال ہی میں چند دنوں قبل مسجد النبی کے وہابی امام جماعت نے شیعہ مسلمانوں کو اسلام سے خارج قراردیا تھا۔ امام مسجد النبی کے اس گستاخانہ اور نہایت شرمناک بیان کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں یا یہ کہ انہیں اسلام سے ذرا سی واقفیت نہیں ہے یا انہیں دربار کے اشاروں پرچلناپڑتاہے دونوں صورتوں میں ان کی جہالت ثابت ہوجاتی ہے۔ کیا مسجد النبی کے اس امام کو معلوم نہیں ہے شیعہ مسلمان امت اسلامی کا ایک بڑا حصہ تشکیل دیتے ہیں اور خلوص دل سے شہادتین جاری کرتےہیں۔ سعودی عرب نے اپنے مغربی آقاؤں کے حکم پر پاکستان میں وہابیت کی ترویج میں کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔ پاکستان میں مشروم کی طرح اگتے ہوئے مدرسوں کی کہانی کس سے پوشیدہ ہے کیا ان مدرسوں میں سعودی عرب کے پیسے سے طالبان اور القاعدہ کے لئے افرادی قوت تیار نہیں کی گئي جو آج بھی علاقے میں ستم ڈھا رہے ہیں اور وقتا فوقتا نہتے اور بے گناہ لوگوں کو خود کش حملوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ سیاسی سطح پر سعودی عرب کا گھناونا اور منافقانہ کردار سب کے سامنے ہے۔ کیا سعودی حکام اس سوال کا جواب دیے سکتے ہیں کہ کس بناپر اسلامی بیداری کی مخالفت کررہے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس اس کا کوئي جواب نہيں ہے کیونکہ وہ اپنے مغربی آقاوں کی خوشنودی اور اپنے تخت و تاج کی بقا کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچتے۔ آل سعودکی نظرمیں اسلام تو بنی امیہ کی طرح صرف حکومت کا ایک بہانہ ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے سعودی عرب نے جس قدر اسلامی انقلاب کی مخالفت کی ہے اس سے سب واقف ہیں، اسلام کے دعویدار ہونے کا مطلب تو یہی ہے کہ آپ ساری دنیا میں امت اسلامی کی مدد کریں پھر اسلامی انقلاب کی مخالفت کے کیا معنی ہیں؟ یا تو آپ اسلامی نہیں ہیں یا پھر آپ کو اسلامی انقلاب سے خطرہ لاحق ہے اور اگر آپ کو اسلامی انقلاب سے خطرہ لاحق ہے تو آپ امریکہ کے کیمپ میں ہیں اگر آپ امریکہ کے کیمپ میں ہیں تو آپ کا اسلام سے کوئي واسطہ نہیں خواہ آپ ہزاروں ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں سے مسلمان ہونے کی تشہیر کرتے رہیں اور لاکھوں کروڑوں قرآن کے نسخے چھپوا کر ساری دینا میں بٹواتے رہیں اور اپنے قومی پرچم پر شہادت توحید کندہ کروالیں۔ علاقے کے معروضی حالات میں سعودی عرب کے کردار پرایک طائرانہ نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہےکہ ریاض کے حکام کونہ اسلام سے دلچسپی ہے نہ ہی مسلمانوں سے۔ فلسطین کی صورتحال سب سے چیخ چیخ کر کھ رہی ہے کہ اس کے ساتھ عربوں نے سعودی عرب کی سربراہی میں خیانت کی ہے۔ بحرین ، مصر، یمن، پاکستان، افغانستان اور عراق نیز دیگر ملکوں میں سعودی عرب کی مداخلت سے ہی عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور سعودی عرب کو اپنے راستے میں سب سےبڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ایران کےتعلق سے سعودی عرب کا رویہ کبھی بھی مثبت نہیں رہا۔ ریاض نے ہمیشہ ایران کو اپنی راہ میں کانٹا سمجھا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ علاقائي ملکوں کےساتھ مل کر علاقے میں امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی امت اسلامی کے اتحاد پر تاکید کرتا رہتا ہے لیکن یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے سب سے پہلے بیرونی ملکوں کو اپنی سرزمیں پر فوجی اڈے قائم کرنے کی دعوت دی۔ ا سلام کے دعویدار سرزمین وحی پر کفر و شرک کے فوجی اڈے بنواتےہیں یہ ان کا اسلامی تشخص ہے یا اسلام صرف ایک بہانہ ہے جس کے سہارے وہ دنیا کو فریب دے رہے ہیں۔ سعودی حکام لاکھ چاہ لیں وہ اپنا منافقانہ چہرا چھپا نہیں سکتے بلکہ اب ان کا یہ مکروہ چہرہ سب کے سامنے آ گيا ہے اور دنیا سمجھ چکی ہےکہ سعودی حکام گرچہ قبلہ اسلام پر قابض ہیں لیکن ان کاقبلہ واشنگٹن ہے اور وہ اپنے مغربی آقاوں کی مرضی کےبغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاتے۔ اسلامی بیداری سے آل سعود کی وحشت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ آل سعود نے قطیف میں عوامی مظاہروں سے مقابلہ کرنے کےلئے ٹینک اور جنگي توپیں بھیجی ہیں۔ کیا نہتے پرامن مظاہرین کی سرکوبی کےلئے یہ چیزیں ضروری ہیں؟ ایسی بات نہيں ہے بلکہ یہ اس حکومت کے خوف وہراس کو ظاہر کرتی ہے جس کی نظر میں عوام کی کوئي وقعت نہيں ہے بلکہ وہ دوسرے ملکوں کے عوام کو کچلنے کے لئے بھی اپنی فوجیں بھیجتی ہے۔ بحرین اور یمن اس بات کے شاہد ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں میں ایک طرح سے مماثلت پائی جاتی ہے وہ یہ کہ امریکہ اور صیہونی حکومت بھی ڈکٹیٹروں اور ظالموں کےحامی ہیں اور سعودی عرب نے بھی ہمیشہ اپنے ہاں قوموں کےغضب کا شکار ہونے والے آمروں کوپناہ دی ہے۔ اسلامی بیداری کی لہریں اب سعودی عرب کی سرحدوں بلکہ خود سعودی عرب میں پہنچ گئي ہيں ، مشرق علاقوں میں آل سعود کی ظالمانہ حکومت کےخلاف مظاہرے شروع ہوچکے ہیں اور بہت جلد یہ سلسلہ دوسرے شہروں میں بھی شروع ہوجائے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ ابوالحسن فقیہ نے کہا ہے کہ ایران کے مومن اور انسانیت دوست عوام نے صومالیہ کے قحط زدہ لوگوں کو چار سو ارب ریال سے زیادہ کی امداد دی ہے۔ ابوالحسن فقیہ نے کل نامہ نگارو ں سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ یہ امداد ایران کے مختلف علاقوں سے اکٹھی کر کے صومالیہ روانہ کی گئي ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ملت ایران نے رہبر انقلاب اسلامی کے حکم پر لبیک کہتے ہوۓ ثابت کر دکھایا ہےکہ وہ اسلامی اقدار پر عمل درآمد اور دوسروں کی امداد کرنے کے سلسلے میں ہمیشہ پیشرو ہیں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی دینی ، انسانی اور اخلاقی فرض کی بنیاد پر پوری سنجیدگی کے ساتھ تمام ضرورت مندوں کی مدد کے لۓ آمادہ ہے ۔ ابوالحسن فقیہ نے مزید کہا کہ ترکی کے زلزلہ متاثرین کے لۓ امداد روانہ کرنا بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

سعودی عرب میں ولی عہدی کے مسئلے پرشاہی خاندان میں مسلح جھڑپ کی خبریں موصول ہوئي ہیں۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد نائف بن عبدالعزیز کی ولی عہدی کے خلاف سعودی عرب کے شاہی خاندان میں مسلح جھڑپ ہوئی ہے۔ خبروں کے مطابق نائف بن عبدالعزیز کی ولی عہدی کے خلاف ایک سعودی شہزادے نے شاہ عبداللہ کی طرف ہتھیار اٹھا لیا جو شہزادوں کے درمیان جھڑپ اور تنازعہ پیدا ہونے کا سبب بنا۔ شہزادے کو یہ اعتراض تھا کہ وزیر داخلہ کو ولی عہد کیوں بنایا گيا ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ سامراجی طاقتوں کی طرف سےشام پر موجودہ دباؤ کا مقصد ، اسرائيل مخالف محاذ کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اگر بشار اسد آج امریکہ کی طرف چلے جائیں اوراس کے سامنے تسلیم ہوجائیں توفوری طور پر تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ سامراجی طاقتوں کی طرف سےشام پر موجودہ دباؤ کا مقصد ، اسرائيل مخالف محاذ کو کمزور کرناہے اگر بشار اسد آج امریکہ کی طرف چلے جائیں اوراس کے سامنے تسلیم ہوجائیں توفوری طور پر تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔انھوں نے کہا کہ جو کچھ اس وقت شام میں ہورہا ہے یقینی طور پر اس کے اثرات لبنان پر مرتب ہونگے اسی طرح لبنان میں عدم استحکام کا بھی شام پر اثر پڑےگا انھوں نے کہا کہ شام اور لیبیا میں بہب بڑا فرق ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ والے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے خوف کھا رہے ہیں کیونکہ شام کے ساتھ اسرائیل کی سرحد ہے اور امریکہ و یورپ نہیں چاہتے کہ اسرائيل کے لئے کوئي مشکل پیدا ہوانھوں نے کہا کہ شام کے عوام کی اکثریت اصلاحات کی حامی ہے اور شام نے دشوار مرحلے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ لبنان کی موجودہ حکومت قومی نمائندہ حکومت ہے جس نے اپنے مختصر دور میں اہم اور نمایاں کام انجام دیئے ہیں۔

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور حزب اللہ لبنان کے رہنما حاج عماد مغنیہ (حاج رضوان) کے قتل کے متعلق شام کے سرکاری ٹی وی مشرق نیوز پراتوار کے روز ایک ٹیپ ریکارڈ بیان جاری کیا جائے گا جس میں سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور حزب اللہ کے کمانڈر شہید عماد مغنیہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریر ی ١٤ فروری ٢٠٠٥ء میں بیروت میں ایک کار بم حملہ میں شہید ہو گئے تھے جبک حزب اللہ کے سینئر کمانڈر حاج شہید عماد مغنیہ ١٢ فروری ٢٠٠٨ ء کو شام میں ایک کار بم دھماکے میں شہید ہوئے تھے۔ شام کی سیکورٹی فورسز ی طرف سے سعودی شہزادے بندر بن سلطان جو کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں کی گرفتاری کے لئے بڑے پیمانے پر رپورٹ کی ہے۔ بعض عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی شہزادے بندر بن سلطان جو کہ خفیہ طریقہ سے شام میں داخل ہونا چاہتے تھے شام کی سیکورٹی فورسز نے انہیں ائیر پورٹ پر گرفتار کر لیا تھا۔ دوسری جانب لبنان کے روز نامے اتھابت نے پہلی مرتبہ شہید رفیق حریر ی کے قتل کے بارے میں عوام کے لئے معلومات کو شائع کرتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے شام میں یہ اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور شام میں حزب اللہ کے سینئر رہنما کمانڈر شہید عماد مغنیہ کے قتل کے لئے عراق میں موجود القاعدہ اور دہشت گرد گروہوں سے مدد لی تھی

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس میں بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کے محمود عباس کے ساتھ یاسر عرفات کو ہٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ سابق صہیونی وزیراعظم ایرئیل شیرون کی خصوصی ڈائری سے لیا گیا ہے۔  اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ایک خفیہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے موجودہ سربراہ محمود عباس المعروف ابو مازن نے سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کا تختہ الٹنے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی اخبارات میں شائع ایک خفیہ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم ایرئیل شیرون کے دور حکومت میں اس وقت کے فلسطینی وزیراعظم محمود عباس کے اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوتے رہے۔ خیال رہے کہ اس وقت محمود عباس فلسطینی انتظامیہ کے صدر جبکہ شمعون پیریز اسرائیل کے صدر ہیں۔ ان مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کے سابق صدر یاسر عرفات کا تختہ الٹنے اور ان کی جگہ محمود عباس کو فلسطینی انتظامیہ کا سربراہ مقرر کرنے پر بات چیت ہوتی رہی۔  اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسرائیلی کابینہ کے ایک اجلاس میں بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کے محمود عباس کے ساتھ یاسر عرفات کو ہٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ سابق صہیونی وزیراعظم ایرئیل شیرون کی خصوصی ڈائری سے لیا گیا ہے۔ اس ڈائری میں ایرئیل شیرون کے تحریر کردہ تمام اہم واقعات پر مشتمل ایک کتاب جلد شائع ہو رہی ہے۔ کتاب کی اشاعت شیرون کے بیٹے گیلاد شیرون کر رہے ہیں اور وہ اس کی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ عبرانی زبان میں سامنے والے اس خفیہ مراسلے میں محمود عباس کے اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ اور موجودہ صدر شمعون پیریز کے ساتھ مکالمے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران محمود عباس اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان کے خفیہ مذاکرات کا فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ یاسر عرفات یاس کسی دوسرے عہدیدار کو علم ہو گیا تو یہ ان کی موت کا باعث بنے گا۔ لہذا اسے صیغہ راز میں رکھا جائے۔ محمود عباس کے کہنے پر ان تمام مذاکرات کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ دوران مذاکرات محمود عباس نے یاسر عرفات مرحوم کو “غیرحقیقی” انسان قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ جلد از جلد فلسطینی اتھارٹی کو ان سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ خفیہ مراسلے کے مطابق محمود عباس جو اس وقت فلسطینی حکومت کے وزیراعظم تھے اس بات کے لیے کوشاں تھے کہ ان کی وزارت عظمٰی کے بعد وہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ مقرر ہوں۔ انہوں نے اسرائیل سے اپیل کی تھی کہ وہ انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں اور امریکا سے بھی کہیں کہ اگر میں فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ بن جاوں تو وہ میری بھرپور مالی معاونت کرے۔ محمود عباس کے اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔

اسلام آباد: تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات میں پاکستان میں ایران کے سفیر کا کہنا تھا کہ سابق خاتون اول کی موت پاکستانی عوام کے لئے ایک عظیم صدمہ ہے، ایرانی قوم اور حکومت اس غم میں پاکستان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔  بیگم نصرت بھٹو کے انتقال پر آج ایوان صدر میں مختلف ممالک کے سفیروں نے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ اس موقع پر پاکستان میں ایران کے سفیر ماشاءاللہ شاکری نے بھی تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نصرت بھٹو کی وفات پوری پاکستانی قوم اور بھٹو خاندان کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے ایرانی نژاد بیگم نصرت بھٹو کی دلیرانہ سیاسی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے سابق خاتون اول کی موت کو پاکستانی عوام کے لئے ایک عظیم صدمہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم اور حکومت اس غم میں پاکستان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔

معروف اسرائیلی محقق یوسی ملمین نے امریکہ کی جانب سے ایران پر سعودی سفیر کے قتل کی سازش تیار کرنے کے الزام کو انتہائی مشکوک اور غیرقابل قبول قرار دیا ہے۔ یوسی ملمین (Yossi Melman) انتہائی معروف اسرائیلی تجزیہ نگار اور محقق ہیں جو اسٹریٹجک اور انٹیلی جنس سے مربوط مسائل اور موضوعات پر اسرائیل کے عبری زبان میں شائع ہونے والے اخبار “ہارٹز” میں کالم لکھتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی اور مغربی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سے انتہائی قریبی تعلقات کی وجہ سے انکے تجزیے اور کالم انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ یوسی ملمین نے حال ہی میں اسرائیلی اخبار ہارٹز (Haaretz) میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف سعودی سفیر کو قتل کرنے اور واشنگٹن میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں پر حملہ کرنے کی سازش بنانے کے الزام کے بارے میں ایک مفصل تجزیہ شائع کیا ہے جس میں اس الزام کو انتہائی بے اساس اور ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ ملمین نے اس کالم میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر واشنگٹن میں سعودی سفیر جناب عادل الجبیر کو قتل کرنے کی سازش بنانے کا الزام انتہائی شکوک و شبہات کا حامل ہے۔ انہوں نے لکھا اس موضوع کے بارے میں فاش ہونے والی انتہائی کم معلومات واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ منصوبہ انتہائی نامنظم انداز میں بنایا گیا اور اسکے بنانے والے انتہائی اناڑی لوگ ہیں، اسی وجہ سے اس میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی دعوے پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معروف اسرائیلی محقق اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں ایران کے سیاسی مسائل کے اکثر محققین جو گری سک [کارٹر دور کے قومی سلامتی کونسل کے اعلی سطحی رکن اور مشیر] کی سربراہی میں “گالف 2000” نامی انٹرنیٹ پراجیکٹ کے حامی بھی ہیں، امریکہ کی جانب سے کئے گئے اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ان میں سے بعض محققین اس عقیدے کے حامی ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما کی حکومت نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مدد سے یہ ڈرامہ رچایا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے حق میں ہموار کیا جا سکے۔ یوسی ملمین نے اپنے اس کالم میں تاکید کی ہے کہ امریکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر اپنا دباو برقرار رکھے گا تاکہ یہ ایجنسی ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کو منظرعام پر لے آئے۔ یاد رہے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انٹیلی جنس ذرائع کے بقول دعوا کیا ہے کہ تہران ایسے آلات کے ذریعے تجربات کرنے میں مصروف ہے جو ایٹمی ہتھیاروں بنانے سے مختص ہیں۔ یوسی ملمین کے بقول یہ مسئلہ جس نے عالمی رائے عامہ کو اپنی جانب مبذول کر رکھا ہے مشرق وسطی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ معروف اسرائیلی محقق اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں بعض افراد اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد کو اس مسئلے میں ملوث ہونے کو ثابت کریں اور اس پر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگائیں، وہ اس بارے میں امریکہ کی جانب سے عراق پر فوجی حملے کا جواز فراہم کرنے میں اسرائیل کے کردار کی مثال بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد سے ہٹ کر جو سازش کے نظریئے کو قبول کرتے ہیں، امریکی قوم اور دنیا بھر کے افراد کو اچھی طرح یاد ہے کہ سابق امریکی صدر جرج بش نے کس طرح ملکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے صدام حسین کی جانب سے ایٹمی، کیمیکل اور بیالوجیکل ہتھیار بنانے سے متعلق غلط معلومات کی بنیاد پر عراق کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا اور ان معلومات کو 2003 میں عراق پر فوجی حملے کا جواز ظاہر کیا۔ یوسی ملمین آخر میں لکھتے ہیں اگر امریکی حکومت کا موقف اپنی انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے فراہم شدہ معلومات کی بنیاد پر ہے تو ماضی میں عراق پر حملے کے وقت انجام پانے والی غلطیوں کے پیش نظر ہم کیسے مطئن ہو سکتے ہیں وہ غلطیوں ایک بار پھر دہرائی نہ گئی ہوں؟۔

کراچی:  واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایسے وقت میں جب کہ ایران کے ساتھ امریکا کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے یہ تہران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا  امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عراق سے امریکی فوج کی واپسی پر انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کا ایران بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اپنی ایک رپورٹ میں اخبار لکھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت اور اس کی مسلح افواج امریکی فوجیوں اور ان کی تربیت کے بغیر بھی اپنا کام چلا سکتی ہیں مگر ایسے میں جب کہ ایران کے ساتھ امریکا کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے یہ تہران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا۔ اخبار نے عراق میں طویل جنگ کے خاتمے کے اعلان اور اس کے بعد کے حالات کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق میں جنگ صحیح معنوں میں صرف امریکی فوجیوں کے لیے ختم ہوگی کیونکہ عراقی باغی، جن میں القاعدہ بھی شامل ہے ملک کی نازک جمہوریت کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ اخبار کے خیال میں ایران اپنی ملیشیاؤں کی مدد جاری رکھے گا، ہزاروں نجی کنٹریکٹر امریکی سفارت کاروں اور تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہیں گے اور شمالی عراق میں جہاں ترکی نے مسلح حملے کا آغاز کر دیا ہے نسلی کردوں اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان تناؤ موجود رہے گا۔

افغان صدارتی محل کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ افغان صدر کے یہ ریمارکس کہ امریکی یا بھارت کے حملے کی صورت میں افغانستان پاکستان کی حمایت کرے گا، سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کئے گئے ہیں۔  افغان صدارتی محل نے کہا ہے کہ ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں صدر کرزئی کے بیان کی غلط تشریح کی گئی۔ صدر کرزئی نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ملک امریکی یا بھارت کے حملے کی صورت میں پاکستان کی حمایت کرے گا۔ ہفتہ کو رات گئے جاری انٹرویو میں صدر کرزئی نے کہا کہ اللہ نہ کرے اگر پاکستان اور امریکہ کے مابین کسی بھی وقت جنگ چھیڑ جاتی ہے تو افغانستان پاکستان کے ساتھ ہو گا۔ صدر کرزئی کے ان خیالات پر کابل میں مغربی حکام نے سخت حیرت کا اظہار کیا تھا۔ صدارتی محل نے کہا ہے کہ صدر کے یہ ریمارکس سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کئے گئے ہیں۔ صدر کے نائب ترجمان سہمک حراوی کا کہنا کہ پاکستانی میڈیا نے بیان کی غلط تشریح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے اسے غلط طور پر پیش کیا ہے۔ انٹرویو میں صرف صدر کے بیان کے پہلے حصے کو دکھایا گیا، جس میں صدر کرزئی نے کہا کہ جنگ کی صورت میں افغانستان پاکستان کی حمایت کرے گا، اسکی بجائے ان کا اشارہ کسی تنازع کی صورت میں پاکستان سے آنے والوں کو پناہ دینے پر افغانستان کی رضا مندی تھا، جس طریقے پاکستان نے لاکھوں افغانوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔ نائب ترجمان نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اگر پاکستان سے کوئی جنگ ہوتی ہے تو افغانستان اسکی حمایت نہیں کرے گا۔

لندن: سینئر کمانڈر نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا طالبان شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ کمانڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر چکا ہے، لیکن ان کا گروپ ملاعمر کی قیادت میں طالبان کا حصہ ہے۔  حقانی نیٹ ورک کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کا گروپ امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق حقانی گروپ کے ایک سینئر کمانڈر کا کہنا ہے کہ امریکا افغان تنازع کا حل اس وقت تک تلاش نہیں کر سکتا جب تک وہ طالبان شوریٰ سے بات چیت نہ کرے۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک انفرادی طور پر امریکا کے ساتھ بات چیت میں شریک نہیں ہو گا اور کوئی بھی مذاکرات طالبان قیادت کی سربراہی میں ہوں گے۔ سینئر کمانڈر نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا طالبان شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ کمانڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر چکا ہے، لیکن ان کا گروپ ملاعمر کی قیادت میں طالبان کا حصہ ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق حقانی نیٹ ورک نے طالبان کی شرکت کے بغیر افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ افغان حقانی نیٹ ورک کے سینئر کمانڈر نے غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حقانی نیٹ ورک طالبان کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتا۔ سینئر کمانڈر نے بتایا کہ امریکا نے مذاکرات کے لیے حقانی نیٹ ورک سے متعدد بار براہ راست رابطہ کیا ہے۔ مگر انہوں نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ افغانستان میں امن کے لیے طالبان قیادت سے بات کرنی چاہئے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا تھا کہ امریکا نے حقانی نیٹ ورک سے ملاقاتیں کی ہیں۔

رحیم یا رخان: لشکر جھنگوی کے رہنماء کی نظربندی پر شیعہ علماء نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا، مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے ملک اسحاق کی نظر بندی پر اسلام ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے اس اقدام کا مقصد اس دہشتگرد کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔  پنجاب حکومت نے کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے سرغنہ ملک اسحاق اور اس کے نائب غلام رسول کی نظر بندی میں 60 روز کی توسیع کردی ہے، ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے رحیم یار خان جیل کی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ملک اسحاق کی نظر بندی کو مزید 60 دن کے لئے بڑھا دیا گیا ہے، دوسری جانب بہاولنگر جیل میں نظر بند ملک اسحاق کے نائب غلام رسول کی قید میں بھی ساٹھ دن کی توسیع کر دی گئی ہے، واضح رہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی کا رہنماء ملک اسحاق درجنوں مقدمات میں نامزد ہے اور اس کی نظر بندی پر شیعہ علماء نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا، مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے ملک اسحاق کی نظر بندی پر اسلام ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے اس اقدام کا مقصد اس دہشتگرد کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

کراچی: ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع ُ پر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پانچ ملزمان محمد عادل اسلم، ناصر قادری، زین العابدین اور پٹھان خان کو گرفتار کر کے ایک کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحہ برآمد کیا ہے۔  سی آئی ڈی پولیس نے کراچی کے مختلف علاقوں سے تیس افراد کے قتل میں ملوث پانچ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر لیا، ملزموں کا تعلق مذہبی و سیاسی جماعتوں سے ہے۔ سی آئی ڈی پولیس کے مطابق خفیہ اطلاعات پر مختلف علاقوں میں کارروائی کے دوران پانچ ملزموں اسلم، ناصر قادری، نعمان، ضیاء العابدین اور عادل کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، دو ٹی ٹی پستول اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کر لیا۔ گرفتار ملزموں نے ابتدائی تفتیش میں تیس افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ ملزموں میں سے تین کا تعلق مذہبی اور دو کا سیاسی جماعتوں سے ہے، ملزموں سے مزید تفتیش جاری ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع ُ پر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پانچ ملزمان محمد عادل اسلم، ناصر قادری، زین العابدین اور پٹھان خان کو گرفتار کر کے ایک کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحہ برآمد کیا ہے۔ چوہدری اسلم کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے تین کا تعلق ایک مذہبی جماعت اور دو کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان تیس سے زائد افراد کے قتل میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

چکوال: وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد میں یہ خودکش حملہ ہوا تھا، جس متعدد سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔  لال مسجد کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والے خودکش حملے کے ماسٹر مائنڈ کو چکوال سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 2008ء میں وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد میں یہ خودکش حملہ ہوا تھا، جس متعدد سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ واقعہ کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا جس میں محمد زبیر نامی ماسٹر مائنڈ کا نام سامنے آیا تھا، جس کا تعلق غازی فورس نامی جہادی تنظیم سے تھا جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چکوال سے گرفتار کر لیا ہے، تاہم مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایران کی ساز باز سے امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کو بعض ایسے لوگ جو ایران کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، شک و شبہے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔ انٹیلی جنس کے بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ منصوبہ جس میں ایک ایران نژاد امریکی ملوث ہے، قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا ۔ ایران کے امور کے بہت سے ماہرین، سفیر عادل الجبیر کو قتل کرنے کی مبینہ ایرانی سازش کے بارے میں الجھن میں گرفتار ہیں۔ فوجداری رپورٹ کے مطابق، ٹیکساس میں رہنے والے  ایک ایران نژاد امریکی شہری نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے ایران میں مقیم ایک رکن کے ساتھ مل کر سعودی سفیر کو واشنگٹن میں قتل کرنے کی سازش کی ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس قتل کے لیے میکسیکو کے منشیات کا کاروبار کرنے والے ایک  گروہ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امریکی عہدے داروں کا اصرار ہے کہ ان کا کیس بہت مضبوط ہے۔ ایران نے سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔ کانگریشنل ریسرچ سروس میں ایران کے تجزیہ کار، Ken Katzman کہتے ہیں کہ ایران سے اس قسم کی کارروائی کی مطلق  توقع نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق امریکہ میں اس قسم کی سازش پر عمل کرنے کے بارے میں ایرانیوں کو خود اپنے لوگوں پر پورا اعتماد نہ ہوتا، تو وہ ہر گز ایسا نہیں کرتے۔وہ سعودیوں پر کہیں اور حملہ کرتے، جہاں وہ خود اپنے لوگوں پر اعتماد کر سکتے۔ وہ یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ ہمیں امریکہ میں یہ حملہ کرنا ہے جس کے لیے ہمارے پاس اپنے آدمی نہیں ہیں، اس لیے ہم دوسرے لوگوں سے یہ کام لیں گے، جنہیں ہم بالکل نہیں جانتے ۔ جو لوگ ایرانی دہشت گردی کا برسوں سے  مطالعہ کرتے رہے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے ۔ قدس فورس کے کارندوں نے بعض اوقات یورپ اور مشرق وسطیٰ میں حکومت کے مخالف ایرانیوں کو ہلاک کیا ہے ۔ لیکن Katzman کہتے ہیں کہ ایرانی ایک سفیر کو قتل کرنے کا کام کسی باہر کے گروپ کے حوالے کبھی نہیں کریں گے۔ یہ بات قرین قیاس نہیں۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایرانی سعودی سفیر کونشانہ کیوں بنائیں گے، اور وہ بھی امریکہ کی سرزمین پر۔ یہ صحیح ہے کہ شیعہ ایران اور سعودی بادشاہت کے درمیان تعلقات  ایک عرصے سے خراب رہےہیں۔ وکی لیکس نے 2008ء کا ایک سفارتی کیبل جاری کیا ہے جس  کے مطابق  واشنگٹن میں سعودی سفیر عادل الجبیر نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر حملہ کردے۔ لیکن جیسا کہ مشرقِ وسطیٰ میں سی آئی اے کے ریٹائرڈ عہدے دار، چارلس فیڈیز نے کہا، واشنگٹن میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنا، انتہائی خطرناک بلکہ احمقانہ حرکت ہوگی۔ ان کے الفاظ میں امریکہ کی سرزمین پر اتنی اہم شخصیت کو نشانہ بنانا ، جنگی کارروائی ہوگی جس کا مطلب ہوگا جوابی کارروائی کو دعوت دینا۔ ایسے وقت میں جب ہم عراق کو چھوڑ رہےہیں، اور افغانستان میں اپنی فوجیں کم کر ہے ہیں، اور ہم تقریباً دیوالیہ ہو چکے ہیں، ایسا کرنا کس طرح ایران کے مفاد میں ہو سکتا ہے؟ یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آتی۔ پرائیویٹ انٹیلی جنس فرم Stratfor کے تجزیہ کار  کامران بخاری کہتے ہیں کہ امریکہ کے دارالحکومت میں اس قسم کے قتل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ واشنگٹن اور ریاض ایک دوسرے کے اور قریب آ جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے نقطۂ نظر سے ، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی بہت مضبوط تعلق قائم ہے ۔ ایرانیوں کو موجودہ حالات سے نمٹنے میں ہی کافی دقت پیش آ رہی ہے۔ وہ کوئی ایسی حرکت کیوں کریں گے کہ یہ دونوں ملک اور بھی زیادہ قریب آ جائیں؟ جو تھوڑی بہت معلومات ملی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ Ken Katzman کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اصل ملزم، Mansour Arbabsiar نے ایرانی انٹیلی جنس سے رابطہ کیا ہو اور ان کے سامنے ایسا کوئی منصوبہ رکھا ہو جس پر عمل کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہ ہو۔ ان کا کہناہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے القدس فورسز سے کچھ تعلقات تھے۔ ممکن ہے کہ اس نے ان سے رابطہ کیا ہو اور انَھوں نے اسے صاف طور سے یا اتنی سخت سے  منع نہ کیا ہوجتنا انہیں کرنا چاہیئے تھا ۔ لیکن یہ خیال کہ یہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کی خوب جانچ کر لی گئی تھی، مجھے صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ سی آئے اے کے سابق افسر چارلز فیڈیزکہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایرانی  مستقبل میں Mansour Arbabsiar سے کچھ کام لینے کے لیے اسے ٹیسٹ کر رہے ہوں، اور اس عمل میں وہ الجھ کر رہ گئے۔ بقول ان کےیہ بھی ممکن ہے کہ یہ شخص ایرانیوں سے کچھ پیسہ اینٹھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے ایرانیوں سے کہا ہو کہ وہ ان کے لیے کیا کچھ کر سکتا ہے ۔ پھر ایرانیوں نے یہ معلوم کرنے کے لیے یہ شخص کون ہے، کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا، کچھ اقدامات کیے ہوں،  اور اس عمل کے دوران انہیں پتہ چلا ہو کہ یہ ساری کارروائی شروع ہی سے امریکی انٹیلی جنس اور نفاذ قانون کے اداروں کے کنٹرول میں رہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی عہدے داروں نے پتہ چلایا ہے کہ  ایران سے تقریباً ایک لاکھ ڈالر Arbabsiar کو منتقل کیے گئے۔ عہدے دار کہتے ہیں کہ یہ اصل کام کے لیے ابتدائی ادائیگی تھی ۔  لیکن فیڈیز کہتے ہیں کہ ایران میں اقتدار کے لیے بہت سی طاقتوں میں رسہ کشی ہوتی رہتی ہے ۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ یہ ساری کارروائی سرکاری منظوری کے بغیر  چوری چھپے کی جاتی رہی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران میں طاقت کے بہت سے سر چشمے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض افراد نے طے کیا ہو کہ وہ کہیں زیادہ اشتعال انگیز لائحہ عمل اختیار کرنا چاہتے ہیں  جسے اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہو سکے گی ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو حکومت کی مرضی کے بغیر سرگرم ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایرانی حکومت اس سازش میں ملوث ہو یا نہ ہو، صدر اوباما نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت کو ذمہ دار ٹھیرایا جائے گا ۔ ان کے الفاظ ہیں ’ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کی حکومت میں اعلیٰ ترین سطح کے لوگوں کو اس منصوبے کی تفصیلات کا علم نہ ہو تو بھی، ایرانی حکومت میں جو لوگ بھی اس قسم کی سرگرمی میں ملوث تھے ان کی جوابدہی ہونی چاہئیے‘۔ امریکہ محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ اس پلاٹ کے حوالے سے، امریکہ  اور ایران کے درمیان براہ راست رابطہ ہوا ہے، لیکن مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ عبداللہ کے سوتیلے بھائی اور شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز منگل کو سپرد خاک کردیئے گئے۔ ان کی نماز جنازہ ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی جبکہ ان کی تدفین ریاض کے ہی السعود قبرستان میں عمل میں آئی۔ وہ ولی عہد ہونے کے علاوہ نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور شہری ہوابازی کے وزیر بھی تھے۔ ان کی جگہ 77 سالہ شہزادہ نائف کوولی عہد مقرر کئے جانے کا امکان ہے تاہم ابھی اس کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔ سلطان بن عبدالعزیز کو بڑی آنت میں کینسر کی شکایت تھی جس کا کافی عرصے سے علاج چل رہا تھا ۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق اسی مرض نے گزشتہ ہفتے  ان کی جان لے لی۔ وہ نیویارک میں علاج کی غرض سے مقیم تھے ۔ یہیں ان کا انتقال ہوا جبکہ ان کی میت پیر کی رات نیویارک سے ریاض پہنچی تھی۔ اس وقت ریاض کا ائیرپورٹ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ شاہ عبداللہ خود بھی وہیں موجود تھے۔ ان کا جسد خاکی ایک تابوت میں رکھا گیا تھا جسے طیارے سے اتارنے کے بعد ایک ایمبولیس میں رکھ کرمقام مقصود تک پہنچایا گیا۔ سعودی عرب تیل پیداکرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے گہرے روحانی رشتے رکھتا ہے جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہیں مسجد الحرام اور مسجد نبوی ہیں۔ شاہ عبداللہ، مرحوم سلطان بن عبدالعزیز اور نائف 1995ء سے مختلف اوقات میں امور مملکت چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہ عبداللہ 80 کی دہائی کے آخری سالوں میں سعودی عرب کی شاہی حکومت میں شامل ہوئے۔ وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ بیماری کے سبب انہیں تین ماہ سے زیادہ مدت تک ملک سے باہر رہنا پڑا تھا۔ چند ماہ پہلے ان کا امریکہ اور ریاض میں آپریشن ہوا جبکہ ان دنوں بھی وہ ریاض کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی ان کی کمر کی سرجری ہوئی تھی۔  مبصرین کے مطابق اگرچہ مملکت سعودی عرب کے حکومتی امور کا سارا دارو مدار شاہ عبداللہ کے ذمے ہی رہے گا تاہم سلطان بن عبدالعزیز کی موت کے بعد یہ بار کافی حد تک شہزادہ نائف کے کاندھوں پر آجائے گا۔ ادھر ریاض کے گورنر شہزادہ سلمان جو سلطان بن عبدالعزیز اور نائف کے سگے بھائی اور شاہ عبداللہ کے سوتیلے بھائی ہیں ، ان کا کردار بھی اب امور مملکت میں بہت نمایاں ہوجائے گا۔ حکمراں خاندان میں شہزادہ سلمان کو اب انتہائی اہمیت حاصل ہوجائے گی۔شہزادہ نائف سے متعلق باور کیا جاتا ہے کہ شاہ عبداللہ کی نسبت سعودی عرب کے بااختیار اور کٹڑ مذہبی افراد سے ان کا قریبی تعلق ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ شہزادہ نائف اعتدال پسند شخصیت کے مالک ہیں تاہم وہ جمہوریت یا خواتین کے حقوق کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی میں جب وہ وزیر داخلہ تھے انہوں نے بغیر کسی شنوائی کے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت نائف نے اس امر پر شک کا اظہار کیا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق سعودی عرب سے ہے حالانک حقیقت یہ تھی کہ 19 ہائی جیکرز میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔  تاہم کچھ سابق سفیروں، مقامی صحافیوں اور شاہی خاندان سے مخلص لوگ شہزادہ نائف کی تصویر کو اچھا ثابت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہزادہ نائف پچھلے تیس سالوں سے امور مملکت میں اہم فرائض انجام دے چکے ہیں۔ سعودی عرب کے ایک انگریزی اخبار، عرب نیوز، کے مدیر اعلیٰ خالد المینا بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہزادہ نائف کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے مگر وہ ایک نرم دل شخصیت کے مالک ہیں ۔ انہیں مملکت کے امور سے مکمل آگاہی ہے۔  شاہ عبداللہ نے2006ء میں 35 شہزادوں پر مشتمل شوریٰ تشکیل دی تھی جس کو شاہ کے ساتھ مل کر ولی عہد کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،تاہم شاہی حکم کے ذریعے یہ وضاحت کردی گئی تھی کہ شاہ کیلئے اس شوریٰ کے فیصلے کی پابندی لازمی نہیں اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق ولی عہد کا انتخاب کرسکتا ہے۔ شاہ عبداللہ کے پاس سعودی عرب کے وزیراعظم کا منصب بھی ہے انہوں نے2009ء میں شہزادہ نائف کو دوئم نائب وزیراعظم نامزد کیا تھا جبکہ وزیردفاع اور نائب وزیراعظم کا منصب ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز کے پاس تھا۔ شہزادہ سلطان سعودی عرب کے نظام میں ہراول دستے کا کردار ادا کر تے رہے۔ مرحوم 5 جنوری 1928ء کو ریاض میں پیدا ہوئےشہزادہ سلطان کی عمر 83 سال تھی۔ اور قرآن اور عربی زبان کی تعلیم ریاض میں ہی حاصل کی۔ وہ مختلف اوقات میں ریاض کے گورنر، وزیر زراعت، وزیراطلاعات بھی رہے۔ خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بادشاہ بننے کے بعد انہیں ولی عہد مقرر کیا تھا۔

صدر حامد کرزئی کی طرف سے پاکستان کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہنے کے بعد کہ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان کبھی جنگ ہوتی ہے تو افغانستان اپنے برادر ہمسایہ ملک کا ساتھ دے گا، جہاں ایک طرف افغانستان میں صدارتی  ترجمان اپنے مغربی دوستوں کو  وضاحت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں دوسری طرف پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف  نے افغانستان کے صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھاکہ  میں سب سے پہلے تو صدر کرزئی کا شکر گزار ہوں کہ پہلی دفعہ انہوں نے پاکستان کے حق میں کوئی بات کی ہے۔ لیکن انہوں نے صدر کرزئی  کے خیالات کو بعید ازقیاس بھی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  اس قسم کے خیالات مجھے بہت ہی عجیب اور مضحکہ خیز لگتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کی جنگ ہوگی۔ میرے خیال میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ اور یہ سوچنا کہ پاکستان اور امریکہ کی جنگ ہوگی اور افغانستان ہماری طرف ہوگا، اس قسم کے خیالات مجھے بہت عجیب لگتے ہیں، بہت غیر معقول لگتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ان قیاس آرائیوں کے بعد کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں یک طرفہ آپریشن کر سکتا ہے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ سوال بار بار اٹھایا گیا کہ ایسی صورت میں پاکستان کا رد عمل کیا ہوگا۔ جنرل مشرف کے مطابق اس قسم کی باتیں افغانستان اور پاکستان دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے صدر کرزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں کرزئی صاحب کو یہی مشورہ دینا چاہوں گا کہ وہ پوری توجہ افغانستان کی طرف رکہیں اور  اپنے ملک میں سیاسی استحکام لائیں  اور القاعدہ اور طالبان کا عمل دخل ختم کرنے کا سوچیں۔ اور خیالات کو اس طرف نہ لے جائیں جس کا امکان ہی افغانستان اور پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا یعنی کہ پاکستان اور افغانستان مل کر امریکہ سے جنگ کر رہے ہوں۔ اور اس بات کا امکان بھی نہیں ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر کرزئی نے کوئی ایسا بیان دیا ہو جسے عالمی سطح پر انتہائی متنازعہ قرار دیا گیا ہو۔ لیکن مبصرین کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ صدر کرزئی پاکستان کے خلاف کئی سخت بیانات دینے کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں تھے۔  دوسری طرف امریکہ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اورا مریکہ کے درمیان کسی بھی مسلح  فوجی تنازع کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ترکی کے مشرقی شہر وان اور قریبی علاقوں میں آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چارسو تیس ہوگئی ہے اور تقریباً تیرہ سو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اتوار کو آئے شدید زلزلے سے تقریباً دو ہزار عمارتیں تباہ ہوگئیں ہیں اور اب بھی کئی افراد متاثرہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں تاہم ان کی درست تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔دھ کو امدادی کام کرنے والوں نے ایک رہائشی عمارت کے ملبے سے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد ایک نو زائیدہ بچے، اس کی ماں اور دادی کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ بچے کے باپ کی ہزاروں دیگر لاپتہ افراد کی طرح تلاش جاری ہے۔ زلزلے کے بعد متاثرین نے سرد موسم میں دوسری رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادای کارروائیاں زور شور سے جاری ہیں اور ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل عملہ لوگوں کو باہر نکالنے کے کام میں مشغول ہے جبکہ چھ سو اسّی ڈاکٹروں کی ٹیم طبّی کاموں پر مامور کی گئی ہے۔ سات فضائی ایمبولنس سمیت ایک سو آٹھ ایمبولنس گاڑیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ایرکس شہر کو پہنچا جہاں سب سے زیادہ عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات ہوئے ہیں۔ زلزلے کے بعد رات بھر امدادی کارروائیاں جاری رہیں اور ایسے خدشات ظاہر کیےگئے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ریسکیو اہلکار تمام رات لوگوں کو نکالنے کا کام کرتے رہے لیکن رات میں انہیں روشنی کے لیے بہت کم جنریٹرز میسر تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس یا جھٹکوں کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے انتہائی سرد موسم میں رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ ترکی کے زلزلے سے متعلق سینٹر کے سربراہ مصطفیٰ آردیک کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہزار کے قریب عمارتیں متاثر ہوئی ہیں اور سینکڑوں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ زلزلہ ترکی کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے ایک بج کر اکتالیس منٹ پر آیا اور اس کی سدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ دو تھی۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے بیس کلومیٹر نیچے تھا۔ اتوار کی شام کو بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت چھ اور پانچ اشاریہ چھ تھی۔ ایک بڑی فالٹ لائن پر ہونے کے باعث ترکی میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔ انیس سو ننانوے میں شمال مغربی حصے میں آئے زلزلےسے بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 

خفیہ راز افشاں کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے مالی مشکلات کے سبب خفیہ دستاویزات کی اشاعت فی الوقت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔وکی لیکس کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ مستقبل میں اپنی بقاء کے لیے فنڈز جمع کرنے پر توجہ دیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکی مالی کمپنیوں کی طرف سے پابندیوں کے سبب وہ ایسا کرنے پر مجوبر ہیں۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے کہا ہے کہ گزشتہ دسمبر سے بینک آ‌ف امریکہ، ویزا، ماسٹر کارڈ، پے پال اور ویسٹرن یونین نے غیر قانونی طور پر مالی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا’اس حملے نے ہماری آمدنی کے پچانوے فیصد حصے کو تباہ کر دیا ہے۔ جولین اشانژ کے مطابق تنظیم کو چلانے پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے اور اس دوران لاکھوں ڈالر کا اسے نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا’محض چند امریکی مالی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ پوری دنیا انہیں کی حمایت میں کھڑی ہو جائے۔ جولین اسانژ نے کہا کہ وکی لیکس کے لیے ضروری ہے کہ’وہ اپنے مخالفین اور ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز سے فنڈز جمع کرنے میں لگ جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وکی لیکس ان پابندیوں کے خلاف آئس لینڈ، ڈنمارک، برطانیہ، برسلز، امریکہ اور آ‎سٹریلیا میں پیشگي قانونی چارہ جوئی کر رہی ہے اور یورپی کمیشن میں بھی’اینٹی ٹرسٹ‘ شکایت درج کی گئي ہے۔ دنیا بھر میں امریکی سفارتی دستاویزات کو افشاء کرنے والی ویب سائٹ کے سربراہ جولین اسانژ سویڈن کواپنی حوالگی سے متعلق لندن کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ سوئیڈن نے اسانژ کی ملک بدری کی درخواست کی ہے جہاں ان پر جنسی حملے کرنے کا الزام ہے۔ تاہم جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف یہ کیس سیاسی وجوہات کی بنا پر بنایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے حساس نوعیت کی فوجی اور سفارتی دستاویزات کو اپنی ویب سائٹ کے ذریعے افشاء کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی جو اس ہفتے سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس صدی کے آخر تک آبادی دگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔دنیا کی آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی وجہ سے زمینی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے جس سے غربت اور بھوک بڑھے گی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی میں ہر سال آٹھ کروڑ انسانوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار نے بہت سے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ دنیا کی آبادی میں اضافہ ان کی توقعات سے کہیں زیادہ رفتار سے ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پرانے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی اکیسویں صدی کے اختتام تک دس ارب تک پہنچنے کی توقع تھی۔ تازہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق ادارے یو این ایف پی اے کی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں جو دنیا کی آبادی کے سات ارب تک پہنچنے کے تاریخی موقع کی مناسبت سے شائع کی جانی ہے۔ یہ رپورٹ ’دی اسٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن 2011‘ دنیا کے کئی شہروں میں بیک وقت شائع کی جانی ہے جب اکتیس اکتوبر کو دنیا میں کہیں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کی کل آبادی سات ارب کے ہندسے کو چھو جائے گی۔ چیئرمین آف پاپولیشن میٹرز راجر مارٹن کا جو دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک ہیں کہنا ہے کہ دنیا تباہی کے ایک نئے حصے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہماری دنیا ایک خطرناک طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی اور تیل کی پیدوار اپنے انتہائی درجے پر پہنچ کر کم ہونا شروع ہو گی۔ انیس سو ساٹھ سے اب تک دنیا کی آبادی دگنی ہو گئی ہے جس کی بڑی وجہ ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پیدائش کی شرح میں اضافہ اور بچوں کے لیے اچھی اور بہتر ادوایات کی دستیابی ہے جس سے بچوں کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکہ نے شام سے اور شام  نے امریکہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکی سفیر رابرٹ فورڈ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر دمشق چھوڑ چکے ہیں۔ اس امریکی اعلان کے بعد دمشق حکومت کا کہنا تھا کہ امریکہ میں تعینات سفیر عماد مصطفیٰ کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔ امریکی سفیر فورڈ کئی مرتبہ صدر بشارالاسد کی مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ سے شروع  ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم از کم تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستانی صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو موت کی سزا سنانے والے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سکیورٹی خطرات کے سبب اپنے اہل خانہ سمیت سعودی عرب منتقل ہو گئے ہیں۔ جج پرویز علی شاہ نے یکم اکتوبر کو سلمان تاثیر کے قاتل اور سابق پولیس اہلکار ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔یہ سزا سنائے جانے کے بعد ممتاز قادری کے حامی وکلاء کے ایک گروپ نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس کے بعد سے جج پرویز علی شاہ طویل رخصت پر تھے۔ اسی مقدمے میں استغاثہ کے وکیل سیف الملوک کے مطابق جان سے مار دیے جانے کی دھمکیوں نے پرویز علی شاہ کو اپنے اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس وکیل کے مطابق حکومت نے متعلقہ جج کو سکیورٹی تو مہیا کر رکھی تھی لیکن خفیہ ایجنسیوں نے ایسی رپورٹیں دی تھیں کہ پرویز علی شاہ کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔سابق وزیر قانون اور سپریم کورٹ کے وکیل اقبال حیدر نے جان کے خطرے کے پیش نظر ایک جج  کے وطن چھوڑ کر بیرون ملک چلے جانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کا نوٹس سپریم کورٹ کو بھی لینا چاہیے کہ اگر اسی طرح سے لوگ عدالتوں پر حملے کرتے رہیں گے تو انصاف کیسے ملے گا؟ اس کا مطلب ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ یہ حکومت کی بہت بڑی نا اہلی ہے کہ اس نے عدالتوں کو اور ججوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ان کو کہہ دیا ہے کہ آپ طویل رخصت پر چلے جائیں۔‘‘خیال رہے کہ اس سے قبل 1997ء میں لاہور ہائی کے ریٹائرڈ جج عارف اقبال بھٹی کو نامعلوم افراد نے ان کے چیمبر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عارف اقبال بھٹی نے پیغمبر اسلام کی شان میں مبینہ گستاخی کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کو رہا کر دیا تھا، جس پر سخت گیر مذہبی حلقے ان سے ناراض تھے۔پنجاب میں حکمران مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ زندگی چلے جانے کے خوف سے کسی بھی شہری کاملک چھوڑ دینا ریاست کے ذمہ دار افراد کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کا، ان کی جائیداد کا، ان کی زندگی کا تحفظ کرے۔ اور اس کا معیار بہترین ہو۔ خاص طور پر آج کل کے حالات میں پاکستان میں جس طرح کی صورتحال بن رہی ہے، لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔‘‘خیال رہے کہ سخت گیر مذہبی تنظیموں نے ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائے جانے کے خلاف جج پرویز علی شاہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا اور بعد ازاں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس جج کو قتل کرنے والے شخص کے لیے انعام کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔ملزم ممتاز قادری نے اپنی سزائے موت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے، جہاں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف ممتاز قادری کی اپیل کی پیروی کر رہے ہیں۔

اگر سب سے زيادہ آبادی والا ملک چين خاندانی منصوبہ بندی کے سخت اقدامات نہ کرتا تو آج عالمی آبادی يقيناً کئی سو ملين زيادہ ہوتی۔ ليکن چين کی فی گھرانہ ايک بچے کی سرکاری پاليسی نے بہت سے سماجی مسائل بھی پيدا کيے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ايک اندازے کے مطابق اس ماہ کے آخر تک عالمی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ سن 1970 کے عشرے کے آخر ميں چين کے 10 سالہ ’ثقافتی انقلاب‘ کے بعد چينی معيشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ غربت کا راج تھا، رہائشی مکانات کی قلت اور افرادی قوت کی زيادتی تھی۔ چينی حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر آبادی اتنی ہی تيز رفتاری سے بڑھتی رہی تو عوام کی غذائی ضروريات پوری نہيں ہو سکيں گی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے ليے حکومت نے سن 1979 ميں پيدائش پر رياستی کنٹرول کا ضابطہ جاری کيا۔ بيجنگ کی رينمن يونيورسٹی کے سماجی علوم کے پروفيسرجو سياؤ جينگ نے کہا: ’’ماؤزے تنگ کا اس پر پورا يقين تھا کہ آبادی جتنی زيادہ ہو گی اتنا ہی ملک طاقتور ہو گا۔ ليکن ثقافتی انقلاب کے خاتمے اور ماؤ کی وفات کے بعد چين نے اس کے بالکل مخالف پاليسی اپنا لی۔‘‘  اب نئے جاری کردہ ضابطے کے تحت شہروں ميں رہنے والا ہر گھرانہ صرف ايک بچہ پيدا کر سکتا تھا۔ چين کے بڑے شہروں ميں فی گھرانہ صرف ايک بچے کی پيدائش کے ضابطے کی آج بھی بڑی حد تک پابندی کی جا رہی ہے۔ پہلے بچے کے معذور ہونے يا مر جانے کی صورت ہی ميں دوسرے بچے کو جنم دينے کی اجازت ہے۔ ديہی علاقوں ميں بھی صرف وہی گھرانے دو بچے پيدا کر سکتے ہيں، جن کی پہلی اولاد لڑکی ہو کيونکہ ديہی آبادی روايتی طور پر خاندان کے سربراہ کی حيثيت سے مرد کو ترجيح ديتی ہے۔ چين کی اقليتوں پر بچوں کی پيدائش کے سلسلے ميں کسی قسم کی پابندی نہيں ہے۔ چينی حکام فی گھرانہ ايک بچے کی پاليسی پر عمل کرانے کے سلسلے ميں جبری اسقاط حمل کا طريقہ بھی اختيار کرتے ہيں۔ اخبار ’ چائنا ڈيلی ‘ کے مطابق جبری اسقاط حمل کے واقعات کی تعداد کئی ملين تک پہنچتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظيم ویمينز رائٹس ودآؤٹ بارڈرز کی بانی ريگی لٹل جون نے کہا: ’’انسانوں کو آبادی کم کرنے کی تعليم دينا ايک الگ بات ہے ليکن عورتوں کو حمل گرانے اور رحم مادر ميں بچوں کو ہلاک کرنے پر مجبور کرنا اس سے بالکل مختلف بات ہے۔ چينی حکومت کی ايک بچے کی پاليسی ايک جبر اور عورتوں کے حقوق کی شديد خلاف ورزی ہے۔‘‘لٹل جون نے کہا کہ جبری اسقاط حمل نجی زندگی کے دائرے اور عورتوں کے حقوق ميں زبردست مداخلت ہے۔ پروفيسر سياؤ جينگ نے ايک بچے کی پاليسی کے خاتمے کی اپيل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پورے چينی معاشرے پر برے اثرات پڑ رہے ہيں۔ بہن بھائيوں کے ساتھ مل جل کر بڑا ہونے کے مقابلے ميں بہت سے اکلوتے بچوں ميں معاشرتی ميل جول کی صلاحيت بہت کم ہوتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور ازبکستان کو مذہبی آزادی کو دبانے کے منفی نتائج سے خبردار کیا ہے۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں استحکام کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے خاصہ اہم خیال کرتا ہے۔ وزیر خارجہ کلنٹن نے تاجک صدر امام علی رحمانوف اور ازبک صدر اسلام کریموف سے ملاقات کے بعد افغانستان کے سلسلے میں ان دونوں ممالک کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ کلنٹن کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی مذہبی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ دوشنبے میں تاجک صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا، ’میں مذہبی آزادی پر قدغن کے خلاف ہوں اور اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات سے متفق ہوں‘۔ امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسی قدغنوں کے باعث جائز مذہبی آزادی دب جاتی ہے اور منفی و سخت گیر نظریات فروغ پاتے ہیں۔ کلنٹن نے ’نئی شاہراہ ریشم‘ کے نام سے ایک منصوبہ کی اہمیت بھی اجاگر کی، جس کے تحت خطے میں معاشی خوشحالی کو ممکن بنانے کی بات کی جارہی ہے۔  تاجکستان اور افغانستان کے درمیان قریب 1300 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جو روایتی تجارت کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہے امریکی حکومتی ذرائع کے مطابق کلنٹن نے اپنے دورہء وسطی ایشیاء میں افغانستان متعین امریکی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے معاملات پر بھی بات کی۔ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ کے باعث اس راہداری کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ ان وسطی ایشیائی سابق سوویت ریاستوں میں دہائیوں سے آمرانہ طرز کی حکومتیں قائم ہیں۔ تاجک صدر رحمانوف 1992ء سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔ صدر رحمانوف کی روس نواز سکیولر حکومت اور مخالفین کے مابین 1992ء تا 1997ء کی خانہ جنگی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مسلم اکثریتی آبادی والی ان وسطی ایشیائی ریاستوں میں مذہبی آزادی محدود ہے۔ قریب 75 لاکھ کی آبادی والے  ملک تاجکستان میں ایسا قانون متعارف کروایا گیا ہے، جس سے نوجوانوں کی مذہبی مقامات میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاجک صدر کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیاں ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ازبک صدر اسلام کریموف بھی مذہبی آزادی کو محدود تر رکھنے پر مصر ہیں۔

تیونس، جو خواتین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے معاملے میں شمالی افریقہ کے سب سے آزاد خیال ممالک میں شامل ہے، آج بھی خواتین کی سیاسی نمائندگی سے متعلقہ مسائل سے دو چار ہے۔ تیونس میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے تاریخی انتخابات کے بعد بننے والی نئی آئین ساز اسمبلی میں متوقع طور پر مشرق وسطیٰ کی کسی بھی دوسری قومی پارلیمنٹ کے مقابلے میں خواتین ارکان کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ لیکن تیونس میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنوں کے لیے یہ بھی کافی نہیں ہو گا کیونکہ انہوں نے خود کو اپنی ترقی پسندانہ پالیسیوں کی بنا پر عرب دنیا کے باقی حصوں سے ہمیشہ ہی ممتاز سمجھا ہے۔ ملک کے پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے حکومت نے امیدواروں کی انتخابی فہرست میں عورتیں کی تعداد کم از کم نصف رکھنا لازمی قرار دیا تھا۔ تاہم مختلف انتخابی حلقوں کی اُن ایک ہزار سے زائد انتخابی فہرستوں میں سے صرف چھ فیصد میں ہی خواتین کو اعلیٰ ترین سیاسی امیدواروں کی حیثیت حاصل رہی۔ چونکہ معمول کے مطابق ہر فہرست میں پہلی پوزیشن والے امیدوار کو ہی سیٹ ملنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر نئی آئین ساز اسمبلی میں حالیہ الیکشن کے بعد بھی مرد اراکین کی تعداد خواتین سے زیادہ ہی ہوگی۔  تیونس میں ڈیموکریٹ خواتین کی ملکی ایسوسی ایشن کی چند اراکین نےاس حوالے سے اپنے ایک بیان میں ملک میں خواتین سیاستدانوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس ایسوسی ایشن کی رہنما ثنا بن عاشور نے، جو ایک جج ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘سیاسی معاشرہ ابھی تک ہمارے عزائم کی سطح پر نہیں پہنچا ہے۔’’ تیونس عرب دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین عدلیہ سے لے کر طب، تعلیم، حکومتی امور اور سکیورٹی فورسز سمیت بہت سے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ملک کی یونیورسٹیوں میں طالبات کی شرح پچپن فیصد ہے جبکہ آئین ساز اسمبلی میں یہ شرح اگر 20 اور 30 فیصد کے درمیان بھی رہی، تو بھی یہ شرح مصر، اردن، مراکش اور دیگر عرب ممالک میں خواتین کوحاصل پارلیمانی نمائندگی سے کہیںزیادہ ہو گی۔ اس صورتحال پر اظہارخیال کرتے ہوئے پروگریسو ڈیموکریٹکپارٹی کی رہنما میہ الجریبی نے کہا کہ “اس خلا کو پُر کرنے کے لئے ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔فی الحال ہمارا سب سے بڑا مقصد انتخابات میں نمایاں فتح حاصل کرنا ہے۔” ملک کے قدامت پسند علاقوں میں اب بھی خواتین امیدواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ قصرین کے شہر میں بائیں بازو کی ڈیموکریٹکموومنٹپارٹیسے تعلق رکھنے والی اُمیدوار مُنیرہ علاوی کا کہنا ہے کہ “ان علاقوں میں سماجی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کی کافی کمی ہے کیونکہ صرف خواتین کی اقلیت ان کاموں میں حصہ لینا چاہتی ہے اور اکثریت کو دلچسپی نہیں۔” ورکرز کمیونسٹ پارٹی کے حما حمامی کا کہنا ہے کہ “معاشرے میں ایسے مردوں کی کمی نہیں ہے جو اعلیٰ ترین عہدوں پر خواتین کو برداشت نہیں کر سکتے۔”

نیٹو نے پاکستان سے ملحق افغانستان کی مشرقی سرحد پر ایک بڑی فوجی کارروائی کرتے ہوئے حقانی گروپ کے بیس جنگجؤوں کو بھی ہلاک یا گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مطابق اس فوجی کارروائی کا ہدف طالبان عسکریت پسند تھے۔ نیٹو کا کہنا ہے کارروائی میں عسکری گروپ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے بیس جنگجو گرفتار یا ہلاک کر لیے گئے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور نیٹو کا مؤقف ہے کہ حقانی گروپ کو پاکستان کے بعض سرکاری حلقوں، بالخصوص خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا تعاون حاصل ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے دورہء پاکستان میں پاکستانی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کریں۔ نیٹو کی اس کارروائی کے بعد بریگیڈیئر جنرل کارسٹین جیکبسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ آئی سیف کی کمانڈ میں ہونے والی اس کارروائی میں حقانی گروپ کے بیس افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں یا انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ جنرل جیکبسن کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن موسم سرما کی آمد سے قبل عسکریت پسندی کو روکنے کے لیے ایک مرکزی کارروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ’’عسکریت پسندوں کے لیے موسم سرما آسان نہیں ہوگا۔‘‘ خیال رہے کہ ہلیری کلنٹن اپنے دورہء پاکستان میں حقانی گروپ کے خلاف افغان سرحدی حدود کے اندر ایک بڑی کارروائی کا عندیہ دے چکی تھیں۔ پاکستان میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف از خود کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بہر حال کہنا ہے کہ امریکہ ایسا کرنے سے اجتناب کرے گا۔

لیبیا کی عبوری حکومت کے مطابق معمر قذافی، ان کے بیٹے معتصم اور سابق وزیر دفاع کی تدفین منگل کے روز صحرا میں نا معلوم مقام پر کر دی گئی ہے۔ سرکاری طور پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ کھلے صحرا میں ایک نامعلوم مقام پر اس (قذافی) کی تدفین آج انتہائی سادہ طریقے سے کی گی اور اس میں صرف شیوخ نے شرکت کی۔ تمام اسلامی رسومات کا خیال رکھتے ہوئے ان تینوں کو سپرد خاک کیا گیا۔ قومی عبوری کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قذافی کی لاش کی حالت ’انتہائی خراب‘ ہو چکی تھی اور اسے مزید نہیں رکھا جا سکتا۔  مصراتہ شہر کے ایک کمرشل سرد خانے کے محافظ نے بتایا ہے کہ قذافی اور ان کے بیٹے متعصم قذافی کی لاشیں سرد خانے سے نکال کر عبوری کونسل کے حوالے کر دی گئی تیھں۔ قذافی کی لاش گزشتہ چار روز سے مصراتہ کے ایک سرد خانے میں سر عام نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔ قومی عبوری کونسل کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کی تدفین کے وقت  موجود  گواہان سے قرآن پر حلف لیا جائے گا کہ وہ اس جگہ کے بارے میں کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔ قبل ازیں عبوری کونسل نے قذافی کی ہلاکت کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا تھا۔  دریں اثناء انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے قذافی کے حامیوں کے مبینہ قتل عام کی اطلاع دی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق قذافی کے مضبوط گڑھ سرت میں میں 53 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جنہیں بظاہر پھانسی دی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق، ’’یہ لاشیں مہاری ہوٹل سے ملی ہیں اور بعض ہلاک شدگان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔‘‘ انسانی حقوق کی اس تنظیم کے ایک نمائندے Peter Bouckaert کا کہنا تھا، ’’لاشیں ملنے سے پہلے یہ ہوٹل انقلابی دستوں کے زیر قبضہ تھا۔‘‘  دوسری جانب قومی عبوری کونسل کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق معمر قذافی کے مفرور بیٹے سیف الاسلام نائیجر اور الجزائر کی سرحد کے قریب ہیں اور جعلی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کا علم ایک سیٹلائٹ ٹیلی فون کال سنتے ہوئے لگایا گیا ہے۔  عہدیدار کے مطابق یہ منصوبہ قذافی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی نے تیار کیا ہے۔ دریں اثناء سرت میں ایندھن سٹوریج یونٹ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دھماکے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ‘بلیک نائیٹ’ کے نام سے القاعدہ کے لئے کام کرنے والا ایک عسکریت پسند گروہ ابھر رہا ہے، جو جرائم کے ذریعے فنڈ ریزنگ میں ملوث ہے۔ پاکستان میں القاعدہ کے لیے فنڈز جمع کرنے کا ایک نیا طریقہ تیزی سے رفتار پکڑ رہا ہے، جس کی مدد سے عسکریت پسند اسلحے اور دیگر ساز و سامان کے اخراجات کے لئے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ گروہ بیرونی امداد سے زیادہ اندرون ملک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان اور جبری بھتہ وصولی جیسے جرائم پر انحصار کر رہے ہیں۔چند ماہ قبل خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں چار طالبان عسکریت پسند پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔ یہ واقعہ تب پیش آیا جب یہ چاروں ایک نجی بنک سے ایک لاکھ 38 ہزار ڈالر لوٹ کر افغان سرحد کی جانب فرار ہو رہے تھے۔اس واقعے کے 10 روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں ہی طالبان کی طرف سے ایک پولیس اسٹیشن پر کیے جانے والے ایک خودکش حملے میں 9 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے جبکہ پولیس اسٹیشن بری طرح سے تباہ ہو گیا۔ ان دونوں واقعات کی ذمہ داری بھی ‘بلیک نائیٹ’ ہی نے قبول کی۔انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک سرکاری افسر نےاپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کی ایک وجہ گزشتہ کچھ برسوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پاکستانی اور امریکی حملے بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی وجہ شمالی پاکستان میں امریکی ڈرون میزائل حملے اور پاکستانی فوج  کی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے کئی سینئر کمانڈر کی ہلاکت بھی مانی جاتی ہے، جو مشرق وسطٰی کے فنڈنگ نیٹ ورکس سے رابطہ رکھتے تھے۔ اس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کا اندرونی ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنے کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ امریکی اور عراقی حکام کے مطابق عراق میں بھی پچھلے کئی برسوں میں اسی طرح کے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی طالبان کا نیٹ ورک ملک کے شمال مغربی علاقے اور وسطی پنجاب سے لے کر تجارتی دارالحکومت کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔پاکستان میں عسکریت پسندوں کے مسائل کے ایک ماہر عامر رانا کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کے لئے ان عسکریت پسندوں کا مطالبہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے لے کر 1 ملین ڈالر تک ہوتا ہے۔ اسی گروہ نے سوئٹزرلینڈ کے ایک جوڑے کو رواں برس جولائی میں اغوا کر کے افغان سرحد پر قید رکھنے کی ذمہ داری قبول کی اور یہی گروہ مبینہ طور پر پنجاب کے مقتول سابق گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کےاگست میں اغوا کئے جانے کے واقعے میں بھی ملوث ہے۔ ماہرین کے مطابق شہباز کو وزیرستان کے علاقے میں افغان سرحد کے قریب رکھا گیا ہے۔اسی گروہ کے ایک رکن نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے بتایا کہ ‘بلیک نائیٹ’ کی سربراہی حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان محسود کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ با اثر پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو اغوا کرنا ان کا اولین ایجنڈا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ “ہم پاکستان آرمی کے خلاف ہیں، نہ نیٹو فورسز کے۔ ہمارا اولین مقصد صرف اور صرف جہاد کرنا ہے۔” کراچی میں 2011ء میں ابھی تک کی گئی 2.3 ملین ڈاالر کی چار بنک ڈکیتیوں میں سے تین کا شبہ طالبان عسکریت پسندوں پر کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے ایک دولتمند پشتون تاجر سے طالبان نے 20 ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اسے اور اس کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔ ایک اور واقعے میں عسکریت پسندوں نے کراچی کے ہی ایک پشتون تاجر سے اس کے سات سالہ بیٹے کی رہائی کے عوض 80 ہزار ڈالر وصول کئے۔ پاکستانی طالبان کے ایک رکن محمد یوسف کے مطابق کراچی سے فنڈ ریزنگ المنصور اور المختار نامی گروہوں کے ذمے ہے، جن کا کام کراچی میں دیگر دہشت گرد سرگرمیوں کے علاوہ افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے بھیجے جانے والے ٹینکروں پر حملے کرنا ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سودرلینڈ نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے خلاف میچ فکسنگ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن کی عدالت میں یہ الزامات ایک ایسے شخص نے لگائے ہیں، جس کی اپنی حیثیت مشکوک ہے۔ سودرلینڈ نے منگل کو ایک بیان میں ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ الزامات بے بنیاد دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بلاوجہ بدنام کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو آسٹریلوی حکام تفتیش کریں گے۔ سودر لینڈ نے کہا کہ ان کے کسی بھی کھلاڑی پر ایسے الزامات ثابت ہوئے تو ان کے خلاف تاحیات پابندی لگانے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑی ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہوتے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انہیں (سودرلینڈ کو) اس حوالے سے آگاہ کر چکی ہوتی۔ سودر لینڈ نے کہا کہ آئی سی سی اپنے کرپشن یونٹ کے ساتھ تمام بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوتی ہے، جن کی جانب سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی گئی۔لندن کی ایک عدالت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر پیر کو مقدمے کی سماعت کے چوتھے روز ان کے ایجنٹ مظہر مجید کا آڈیو بیان سنا گیا۔ اس میں مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے متعدد نامور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ آسڑیلوی کھلاڑی بھی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے آسڑیلوی کھلاڑیوں کے نام ظاہر نہیں  یے۔مظہر مجید کی یہ باتیں برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ کے انڈر کور صحافی مظہر محمود نے ریکارڈ کی تھی۔ یہ اخبار اب بند ہو چکا ہے۔ مظہر محمود اب اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہ ہیں۔مجید نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو دنیائے کرکٹ کے میچ فکسنگ کے سب سے بڑے کردار قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حوالے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اس حوالے سے آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ پال مارش کا کہنا ہے کہ مجید قابلِ بھروسہ شخص نہیں۔ انہوں نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ریڈیو سے گفتگو میں کہا: ’’مجھے یہ بات بہت دلچسپ لگی کہ وہ (مجید) بعض پاکستانی کھلاڑیوں کے نام لینے پر تو تیار تھا لیکن اس نے کسی آسٹریلوی کھلاڑی کا نام نہیں لیا۔‘‘

پاکستانی کھلاڑیوں محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف لندن میں جاری اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ کرکٹ میں جوئے بازی کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور’اسپاٹ فکسنگ‘ میں آسٹریلوی کھلاڑی سب سے آگے ہیں۔ پیر کے دن لندن کی ساؤتھ وارک  کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران کرکٹزر کے ایجنٹ مظہر مجید اور نیوز آف دی ورلڈ کے سابق صحافی کے مابین ہونے والی گفتگو کی ویڈیو ریکاڈنگ دکھائی گئی۔ ’انڈر کور‘ صحافی نے یہ ریکارڈنگ خفیہ طور پر کی تھی۔اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستانی کرکٹ کے نامور نام جوئے بازی میں ملوث رہے ہیں اور وہ میچ کے مختلف حصوں کو پہلے سے ہی فکس کرتے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں صحافی نے خود کو ایک جوئے باز کی طرح پیش کیا اور مظہر مجید سے میچ فکس کروانے کی بات کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ یہ ریکارڈنگ گزشتہ برس اٹھارہ اگست کو کی گئی، جب پاکستان اور انگلینڈ کے مابین اوول ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹیم کے چھ کھلاڑی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ جو چاہے ان سے کروا سکتا ہے،’ میرے پاس اہم کھلاڑی ہیں۔ میرے پاس بولرز، بلے باز اور آل راؤنڈرز ہیں‘۔ مظہر مجید نے مزید کہا،’ ہم نے میچوں کے کچھ نتائج پہلے سے ہی طے کر لیے ہیں، جس کے مطابق پاکستانی ٹیم اپنے آئندہ تین میچوں میں شکست سے دوچار ہو گی‘۔مظہر مجید نے پاکستان کرکٹ کے سابقہ کئی نامور کھلاڑیوں کے نام لیتے ہوئے کہا،’ کرکٹ میں سٹہ بازی زمانے سے ہو رہی ہے، یہ برسوں سے جاری ہے۔ وسیم، وقار، اعجاز احمد اور معین خان سبھی یہ کرتے رہے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ آسٹریلوی کھلاڑی میچوں کے مختلف حصوں کو فکس کرتے ہیں،’ آسٹریلوی کرکٹرز، وہ سب سے آگے ہیں، وہ ہر میچ میں دس حصوں پر اسپاٹ فکنسگ کرتے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ ہر حصے پر پچاس ہزار سے 80 ہزار پاؤنڈز تک کا سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ تاہم آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی ٹیم کو کوئی کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہے۔مظہر مجید کے بقول ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کے نتائج کو فکس کرنے کے لیے چار لاکھ پاؤنڈ ، ون ڈے میچ کو فکس کرنے کے لیے ساڑھے چار لاکھ پاؤنڈ جبکہ ٹیسٹ میچ کے نتیجے کو پہلے سے طے کرنے کے لیے ایک ملین پاؤنڈ لگتے ہیں۔ مظہر مجید نے کہا کہ کرکٹ میں سٹہ بازی کے دوران بڑی بڑی رقوم داؤ پر لگائی جاتی ہیں تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کو ہمیشہ ہی بہت کم پیسہ دیا جاتا ہے۔پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر پر الزام ہے کہ انہوں نے سازش کرتے ہوئے پاکستان اور انگلینڈ کے مابین لارڈز ٹیسٹ کے کچھ حصوں  کو پہلے ہی فکس کر لیا تھا۔ تاہم اس کیس کے دوران محمد عامر پیش نہیں ہوئے ہیں۔

سلفی مسلمانوں نے کہا کہ تیونس کے ایک نجی ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں اسلام کے بارے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مذہبی امور کی وزارت نے مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔تیونس کی مذہبی امور کے وفاقی وزیر لاروسی میزروی نے ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ نشر کیے جانے والے پروگراموں میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کسی کے بھی  مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔ میزروی کے بقول ’’عوام، نجی ٹیلی وژن چینل اور ہر طرح کے ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور ساتھ ہی مذہب سے متعلق موضوعات کے بارے میں پروگرام پیش کرتے وقت خاص احتیاط سے کام لیا جائے۔‘‘ ان کے بقول یہ بہت ہی نازک اور سنجیدہ معاملات ہوتے ہیں اور ایک چھوٹی سی غلطی کے بھی بہت شدید نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ تیونس میں سلفی مسلمانوں نے 1979ء میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بارے میں دکھائی جانے والی فلم   Persepolis کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیسما ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ سلفی کا شمار مسلمانوں کے انتہائی قدامت پسند اور بنیاد پرست مسلکوں میں ہوتا ہے۔ “Persepolis” فرانس اور ایران کی مشترکہ پیش کش ہے۔ یہ اینیمیشن فلم ایرانی نژاد فرانسیسی مصنفہ مرجان ساتراپی کی سوانح حیات پر مبنی ہے۔ ساتراپی گرافگ ناولسٹ ہیں۔ اس فلم میں ایران میں شاہ کے دور کے آخری ایام اور آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے ابتدائی دن کی منظر کشی کی گئی ہے۔ نیسما ٹی وی چینل کے سربراہ نبیل کروئی نے بتایا کہ تقریباً 200 سلفیوں نے ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے انہیں منتشر کر دیا۔ تیونس میں ذرائع ابلاغ کے نگران ادارےINRIC نے اس حملے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تیونس میں اظہار کی آزادی ہے اور میڈیا کو ڈرانے دھمکانے کے ہر حربے کو ناکام بنایا جائے گا۔

معروف کمپیوٹر ساز ادارے ایپل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اسے اپنے نئے آئی فون فور ایس کی فروخت شروع ہونے کے پہلے ہی دن ریکارڈ 10 لاکھ یونٹس کے آرڈرز ملے ہیں۔فروخت کا یہ ریکارڈ ایسی خبروں کے باوجود سامنے آیا کہ آئی فون فینز ایپل کے نئے فون متعارف کرانے سے کافی حد تک مایوس تھے۔ دراصل ایسے لوگ آئی فون فائیو کے منتظر تھے، کیونکہ ٹیکنالوجی ماہرین اور میڈیا کے خیال میں ایپل کی طرف سے نیا متعارف کرایا جانے والا اسمارٹ فون دراصل آئی فون فائیو ہی ہوگا، جو اپنے پیشرو کی نسبت نہ صرف فیچرز میں بہت بہتر ہوگا بلکہ اپنے ڈیزائن میں بھی مختلف ہوگا۔ تاہم چار اکتوبر کو ایپل کی جانب سے جب نیا آئی فون متعارف کرایا گیا تو اس میں سابق ڈیزائن کو ہی برقرار رکھا گیا تھا، حالانکہ یہ فون ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور دیگر فیچرز کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔دوسری طرف ٹیکنالوجی انڈسٹری پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس ریکارڈ فروخت کے پیچھے دراصل ایپل کمپنی کے سابق بانی سربراہ اسٹیو جابز کے انتقال کی خبر کو دی جانے والی بہت زیادہ میڈیا کوریج کا ہاتھ ہے۔گزشتہ برس یعنی 2010ء کے وسط میں جب آئی فون فور کی فروخت کا آغاز ہوا تو ایک دن میں چھ لاکھ یونٹس فروخت ہوئے تھےاس سے قبل کسی فون کی ریکارڈ فروخت کا اعزاز بھی آئی فون ہی کے پاس تھا۔ گزشتہ برس یعنی 2010ء کے وسط میں جب آئی فون فور کی فروخت کا آغاز ہوا تو ایک دن میں چھ لاکھ یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ایپل کمپنی کے بین الاقوامی سطح پر مارکیٹنگ کے شعبے کے سینئر وائس پریزیڈنٹ فلپ شِلر کا اس ریکارڈ فروخت کے حوالے سے کہنا تھا: ’’آئی فون فور ایس کے لیے لوگوں کے رد عمل سے ہم حیران رہ گئے ہیں۔ ایپل آئی فون فور ایس خریدنے کے لیے آرڈرز کی تعداد آج تک کسی بھی ایسی پراڈکٹ کے ایک دن میں موصول ہونے والے آرڈرز سے زیادہ ہے جو ایپل کی طرف سے پیش کی گئی ہو۔ ہم اس بات پر انتہائی پرجوش ہیں کہ لوگ بھی آئی فون فور ایس کو اسی حد تک پسند کر رہے ہیں جتنا ہم خود۔‘‘

انھوں نے پاکستان کے علماء کو مشورہ دیا کہ وہ سنجیدہ اقدام کریں اور تکفیری گروہوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی مذمت کریں اور عالمی سیکورٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچائیں۔رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید «حضرت آیت‌الله العظمی سید محمد علی حسینی علوی گرگانی» نے کل بروز منگل ملاقات کے لئے آنے والے حوزہ علمیہ قم کے علماء اور فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے ائمہ اہل بیت (ع)، خاص طور پر امام زمانہ (عج) اور شیعیان اہل بیت (ع) کی شان میں مسجد النبی (ص) کے خطیب الحذیفی کی بے ادبی اور گستاخی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ افراد امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ وہابیت کے کٹھ پتلی ہیں۔ عراق اور پاکستان میں وہابیت اور تکفیری ٹولوں کے جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ شیعہ جن کا خون اسلامی ممالک میں وہابیت کے ہاتھوں بہایا جاتا ہے، امام زمانہ (عج) کے لائے دلی صدمے کا سبب ہے، کیونکہ وہ آنحضرت (عج) کے پیروکاروں کو نہایت مظلومیت میں شہید کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: جب پاکستان، عراق اور دوسرے علاقوں میں شیعیان اہل بیت (ع) کو تکلیف ہو اور وہ مصائب اور مشکلات میں مبتلا ہوں تو گویا ایران کے شیعہ بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا ہیں کیونکہ انسان سارے ایک ہی جسم کے اعضاء کی مانند ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے علماء کو مشورہ دیا کہ وہ سنجیدہ اقدام کریں اور تکفیری گروہوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی مذمت کریں اور عالمی سیکورٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچائیں۔ آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے پاکستان میں اہل تشیع کی عظیم آبادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم میں زیر تعلیم طلاب اور فضلاء کو ہدایت کی کہ وہ جاکر اپنے ملک کے حکام اور اعلی اہلکاروں سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا: ان تکفیری ٹولوں کی باگ ڈور امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے اور عالمی استکبار کی جانب سے اس ٹولے کی حمایت اس لئے نہیں ہے کہ اس کو اسلام عزیز ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اہل تشیع کو مسلمانوں کے ہاتھوں نابود کروادے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور انتشار ڈال دے۔ آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے کہا: استکبار کو معلوم ہے کہ اگر شیعیان اہل بیت (ع) کا خاتمہ ہوجائے تو اس کے بعد مسلمانان عالم متحرک نہیں رہیں گے اور استکباری طاقتیں آسانی سے اپنے مفادات حاصل کرسکیں گے۔ حوزہ علمیہ کے خارج فقہ و اصول کے اس استاد نے کہا: “تشیع اسلام کی قوت محرکہ ہے” اسی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کی سازش یہ ہے کہ وہ دوسرے مسلم مکاتب کے پیروکاروں کے توسط سے اہل تشیع کے خلاف لڑیں اسی بنا پر وہ وہابیت کی حمایت کررہے ہیں چنانچہ ہماری اصل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اس سلسلے کی اصل جڑوں کو سوکھا دیں۔ حضرت آیت‌الله العظمی حسینی علوی گرگانی نے ائمہ اہل بیت (ع)، خاص طور پر امام زمانہ (عج) اور شیعیان اہل بیت (ع) کی شان میں مسجد النبی (ص) کے خطیب الحذیفی کی بے ادبی اور گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ وہابیت کے کٹھ پتلی ہیں۔ انھوں نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای اور تمام مراجع تقلید کی جانب سے وہابیت کی بجائے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد پر زور اس لئے دیتے ہیں کہ وہ وہابیت کی جڑیں سوکھانے کے درپے ہیں کیونکہ اسرائیل اور امریکہ اس فرقے کو تقویت پہنچارہے ہیں اور یہی قوتیں وہابیت کی اصل جڑیں ہیں ورنہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رہبر انقلاب اور دوسرے مراجع تقلید دنیا کے تمام علاقوں کے شیعیان اہل بیت (ع) کی صورت حال پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد علی حسینی علوی گرگانی نے بین الاقوامی سطح کے موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: رہبر معظم کو تمام مسلمانوں کی فکر ہے اور بعض اسلامی ممالک میں رونما ہونے والے ناگوار حادثات رہبر انقلاب اور مراجع عظام کے لئے صدمے کا باعث بنتے ہیں

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے بی جا امید ، باطل فکر ، مغربی ثقافت ، نئی تلاش ، غلط فہمی و بد بینی کو شادی کی کمی اور طلاق میں اضافہ کی علت جانا ہے اور اس بیان کے ساتھ کہ تحقیق ہونی چاہیئے کہ جوان شادی سے کیوں دوری اختیار کر رہے ہیں اور طلاق زیادہ ہو رہا ہے ، علماء و اخلاق کے استاد اور تحقیقدانوں سے ان مشکلات کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے ۔آیت ‌الله مکارم شیرازی نے آج صبح مسجد اعظم قم ایران میں اپنے فقہ کے درس خارج کے درمیان شادی سے دوری اور طلاق میں اضافہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : طلاق میں اضافہ اور شادی میں کمی معاشریے و خانوادہ میں خلل کی وجہ ہے اس سلسلہ میں اچھی طرح تحقیقی ضروری ہے ۔انہوں نے اپنی تقیریر میں اخلاقی مطالب بیان کرتے ہوئے مومنین کے صفت بیان کی اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : کچھ لوگ اس سے پہلے کہ ھدایت حاصل کریں اس دنیا سے چلے گئے حالانکہ وہ فکر کرتے تھے کہ ایمان لا چکے ہیں لیکن وہ گمراہ اور مشرک تھے یہ وہ گروہ ہیں جو قرآن و اھل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازہ سے داخل نہی ہوئے ہیں ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی اس اشارہ کے ساتھ کہ بیداری کی لہر یورپ کے دوسرے ممالک میں سرایت کر رہی ہے تاکید کی : امریکا و مغرب ممالک کی عوام سرمایہ داروں کے ذریعہ پایمال ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں ۔حضرت آیت الله حسین نوری همدانی مرجع تقلید نے سپاہ پاسدار اسلامی انقلاب ایران کے ممبر سے ملاقات میں اسلامی بیداری لہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس تبدیلی کو امام خمینی (ره) کی رھبری میں اسلامی ایران کے انقلاب سے متاثر جانا ہے ۔ حضرت آیت الله نوری همدانی نے تاکید کی : اس وقت ایران کی نقش آفرین برکت سے دنیا کے مختلف گوشہ میں مسلمان بیدار ہو گئے ہیں اور آمیروں اور اس کی پیروی کرنے والی حکومتوں کے مقابلہ میں قیام کی ہے ۔ مرجع تقلید نے یاد دہانی کرتے ہوئے بیان کیا : علاقہ کی قوم ایران کی پیروی کرتے ہوئے «آل» حکاموں اور مغرب و سامراج کے نوکر حکومتوں کے مقابلہ میں کھڑی ہو گئی ہیں اور ایک کے بعد دوسرے کا تختہ الٹ رہی ہیں ۔ انہوں نے اس بیان کے ساتھ : اسلامی بیداری کی لہر اس بھی زیادہ وسیع ہو گی اور ھم لوگ آج اس بیداری کے نمونہ کو یورپ کے مختلف ممالک میں دیکھ رہے ہیں جنہوں نے سرمایہ داری نظام کے مقابلہ میں قیام کیا ہے اور اس کے اعتراض میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں

آل سعود کی حکومت نے مشرقی علاقوں میں اپنی پالیسیوں اور جرائم پر تنقید و احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افراد کو دہشت گرد قرار دیا اور ان پر یہی الزام لگا کر مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک سعودی جج نے انکشاف کیا ہے کہ الشرقیہ کے صوبہ القطیف کے شہر العوامیہ میں مظاہرے کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افراد پر “القاعدہ کے ضالین (گمراہوں) کی مانند” کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
روزنامہ المدینہ نے لکھا: مکہ کے اپیل کورٹ کے جج عبداللہ العیثم نے کہا ہے کہ العوامیہ کے واقعات کے دوران حراست میں لئے گئے افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ مکمل ہونے کے ساتھ ہی ان دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ العیثم کے اعلان سے ظآہر ہوتا ہے کہ تفتیش کے دوران ان پرکوئی جرم ثابت ہوگا تو ان پر مقدمہ چلایا جائے گا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود نے پہلے ہی ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لئے جرم ثابت ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ العیثم نے کہا: ان افراد کا اقدام “دہشت گردی کی ایک قسم ہے کیونکہ انھوں نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا ہے، «ولی امر» (یعنی آل سعود کے بادشاہ) کے حکم سے خارج ہوگئے ہیں اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں”۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ ـ جو بحرین پر سعودی جارحیت کی بھی ذمہ دار ہے ـ کے ایک ذریعے نے تین روز قبل دعوی کیا کہ مظاہرین نے سیکورٹی والوں پر دیسی ساخت کے آتشی بموں سے حملہ کیا اور ان پر گولی چلائی جس سے 11 سیکورٹی اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے؛ اور ایک بیرونی ملک ان واقعات میں ملوث ہے۔ سعودی حکمران عوامی مطالبات منظور کرنے اور عوامی احتجاج کے اصلی اسباب پر غور کرنے کی بجائے ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کی غرض سے بیرونی ممالک پر الزام لگا لگا کر اپنی جگ ہنسائی کے اسباب فراہم کررہے ہیں اور بعض دیگر ممالک اپنی کمزوریاں چھپانے کی نیت سے اپنی کمزوریوں کا الزام بیرونی ممالک پر لگا رہے ہیں جبکہ الزام لگانے والے بھی جانتے ہیں کہ “نجد و حجاز” وہابیت کے آہنی پنجروں میں قید ہے۔ غیرجانبدار ذرائع کے مطابق جو سعودی فورسز کے بعض اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں ان کو اپنےساتھیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں کیونکہ انہیں فوجی چھاؤنی کے اندر ہی گولیاں لگی ہیں۔

چین کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود امریکی سینیٹ نے سامراجی ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے چین پر پابندیاں لگانے کی قرار داد منظور کر لی ہے۔امریکی سنیٹ نے دعوی کیا ہے کہ چين کے خلاف قرارداد چین کی مالیاتی پالیسیوں کی بنا پر منظور کی گئي ہے۔ دوسری طرف امریکی کانگریس نے فی الحال اس قرارداد کا جائزہ لینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس سے امریکہ اور چین کے درمیاں تجارت کی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق چين کے خلاف پابندیوں کے طرفدار امریکی سینیٹروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی بیشتر اقتصادی مشکلات چین کی مالیاتی پالیسیوں کی بنا پر ہیں۔امریکی سینیٹ اس قرارداد کو منظوری دے کر وزارت خزانہ کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ چین پر دباو ڈالے اور چین کو اپنی کرنسی یوان کی قدر میں کمی لانے پر مجبور کرے۔ادھر چین نے امریکی کانگریس سے کہا ہے کہ وہ سینیٹ کی اس قرارداد کو مسترد کردے۔ چین کی وزات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ نہيں دینا چاہیے اور واشنگٹن اور بیجنگ کے صحت مند اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔دوسری جانب چین کی وزارت اقتصاد کے ترجمان نے بھی امریکی سینیٹ میں چین کےخلاف قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یہ قرارداد منظور کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ چین کےخلاف امریکی سینیٹ میں قرارداد کی منظوری سے اسلامی جمہوریہ ایران کی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے لئے اپنے دوستوں کو بھی قربان کر دیتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح کرمانشاہ کے آزادی اسٹیڈیم میں عوام کے ایک عظیم الشان اور ولولہ انگیزاجتماع میں فرمایا: وال اسٹریٹ تحریک مغربی ممالک کے سرمایہ دارانہ نظام کی مکمل شکست و ناکامی کا مظہر اور بحران کا آغاز ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) کرمانشاہ کے آزادی اسٹیڈیم میں عوام کے ایک عظیم الشان اور ولولہ انگیزاجتماع میں اپنے اہم خطاب میں اسلامی نظام میں عوام کے عزم و ارادہ ،عوام کے مقام و منزلت اور عوام کے نقش و کردار کی اصلی اور مؤثر معیار کے عنوان سےتشریح کی اور دشمنوں کی ظاہری و باطنی سازشوں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کی ممتاز و عمدہ توانائیوں اور علمی ، اقتصادی، صنعتی اور زرعی ترقی و پیشرفت میں سرعت کے ساتھ حرکت کرنے پر تاکید کی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےحالات کی وسعت و کامیابی اور گوناگوں سماجی تحریکوں کو عوام سے قریب اور عوام سے وابستہ و منسلک قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران کی معاصر تاریخ میں تیل کی صنعت کے قومی ہونے اور مشروطیت کے دو تجربے موجود ہیں اور ان دونوں تجربات و واقعات کی ابتدائی کامیابی میں عوام کا نقش و کردار بہت ہی مؤثر اور بے نظیر تھا لیکن چونکہ ان دونوں حرکتوں کا عوام سےفاصلہ ہوگيا جس کی وجہ سے ان دونوں واقعات  و تجربات کاسرانجام رضاخان کے استبداد اور 28 مرداد کے کودتا پر منتج ہوا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایران کی تاریخ میں انقلاب اسلامی ہی وہ واحد واقعہ ہےجس میں عوام نے اس کی کامیابی اور اس کو جاری رکھنے میں براہ راست اور بنیادی نقش ایفا کیا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی اور اس میں پیہم عوامی نقش کو انقلاب اسلامی کی سب سے اہم خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد عوام کی موجودگی اور عوام کا نقش حضرت امام (خمینی رہ) کی حکمت ، تدبیر اور گہری نگاہ کا مظہر تھا انھوں نے ایرانی قوم کو اچھی طرح پہچان اور درک کرلیا تھا اور ان کا ایرانی عوام کی توانائیوں اور ان کے پختہ عزم پر پکا ایمان اور پختہ یقین تھا

اکتوبر12کی تاریخ کرمانشاہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی کیونکہ آج کی تاریخ میں ولایت کی خوشبو سے یہ شہر معطر ہوا ہے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کرمان شاہ پہنچ گئے ہیں جہاں عوام نے ان کا عظیم ،شاندار ، تاریخی اور والہانہ استقبال کیاہے۔ رپورٹ کے مطابق کرمانشاہ کے عوام کی انتظار کے لمحات ختم ہوگئے ہیں،   20 مہر مطابق 12 اکتوبر کی تاریخ کرمانشاہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی کیونکہ آج کی تاریخ میں ولایت کی خوشبو سے یہ شہر معطر ہوا ہے  رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت  آیت اللہ العظمی خامنہ ای کرمان شاہ پہنچ گئے ہیں جہاں عوام نے ان کا  عظیم ،شاندار ، تاریخی اور والہانہ استقبال کیاہے۔ کرمان شاہ کے میدان آزادی سے لیکر آزادی اسٹیڈیم اوراس کے اطراف میں عوام کی کثیر تعداد موجود ہے جو اپنے محبوب رہبراور قائد کا والہانہ استقبال کررہے ہیں عوام  رہبر معظم انقلاب اسلامی پر اپنی محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور کررہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ اور مغربی ممالک کی غلط اوردوگانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ اس وقت بدترین شرائط میں گرفتار ہوگیا ہے اور علاقہ کا مستقبل علاقائی قوموں کے ہاتھ میں ہوگا۔نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمانپرست نے ماسکو میں حکومتی یونیورسٹی کے حقوق کے شعبہ میں اپنے خطاب میں امریکہ اور مغربی ممالک کی غلط اوردوگانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ اس وقت بدترین اور سخت شرائط میں گرفتار ہوگیا ہے اور علاقہ کا مستقبل علاقائی قوموں کے ہاتھ میں ہے۔ مہمانپرست نے روس و ایران کے تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں۔انھوں نے علاقہ میں ایران کے اہم نقش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے نقش کو محدود کرنے کے لئے مغربی ممالک کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور ایران سیاسی ، اقتصادی ، فوجی اور انرجی کے شعبوں میں پیشرفت کی سمت بڑھ رہا ہے انھوں نے کہا کہ ایران کی پیشرفت و ترقی پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تشویش لاحق ہے کیونکہ وہ دیگر ممالک کی پیشرفت کے خواہاں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک انسانی حقوق اور جمہوریت سے اپنے مفادات کے لئے استفادہ کرتے ہیں جبکہ مغربی ممالک کو نہ جمہوریت سے کوئي لگاؤ ہے اور نہ ہی وہ انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے آج تک امریکہ نواز ڈکٹیٹروں کی حمایت کی ہے اور آج علاقائی عوام جمہوریت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن پھر بھی مغربی ممالک ڈکٹیٹروں کی حمایت کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطی میں اپنے عرب ڈکٹیٹروں کے ذریعہ علاقہ کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ مہمانپرست نے کہا کہ علاقہ میں عوامی بیداری پیدا ہوچکی ہے اور علاقائي عوام امریکی ڈکٹیٹروں کو نابود کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔

شام کے صدر بشار اسد کی حمایت میں دمشق میں کئی ملین افراد نے مظاہرہ کیا ہے جس سے امریکہ اور اس کے اتحادی مبہوت ہوکر رہ گئے ہیں بشار اسد کی اصلاحات پر شامی عوام نے اپنے صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ شام کی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کی حمایت میں دمشق میں کئی ملین افراد نے السبع بحرات میدان میں مظاہرہ کیا ہے جس سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک مبہوت ہوکر رہ گئے ہیں بشار اسد کی اصلاحات پر شامی عوام نے اپنے صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مظاہرین نے قومی اتحاد و یکجہتی ، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور شام کے بارے میں روس اور چین کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا ہے۔مظاہرین نے استنبول میں عبوری کونسل کی تشکیل کو امریکی سازشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مظاہرین نے شامی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے شام کے قائد و رہنما ، شام کے عوام اور فوج تیرے ساتھ ہیں۔ اسد ہمارا رہبر ہے، امریکہ و اسرائيل اور ان کے اتحادی ہمارے دشمن ہیں۔ مظاہرین نے ترکی کے حکام  کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی منصوبہ کے تحت شام کے معاملات میں مداخلت بند کردیں

افغانستان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ امراللہ صالح نے کہا ہے کہ اعتدال پسند طالبان نام کی کوئی چیز نہیں، سبھی طالبان دہشت گرد اور شدت پسند ہیںاور یہ شوشہ محض اتحادی افواج میں کمی لانے کیلئے چھوڑا گیا۔ نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق  برطانوی ریڈیوسے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ امراللہ صالح نے کہا ہے کہ اعتدال پسند طالبان نام کی کوئی چیز نہیں، سبھی طالبان دہشت گرد اور شدت پسند ہیںاور یہ شوشہ محض اتحادی افواج میں کمی لانے کیلئے چھوڑا گیا۔افغان خفیہ ادارے کے سابق سربراہ نے کہا کہ طالبان میں اعتدال پسند عناصر کا کوئی وجود نہیں، یہ خودساختہ مفروضہ ہے جس کا مغربی ممالک پروپیگنڈاکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروپیگنڈے کا مقصدافغانستان میں اتحادی فوج میں کمی لاناہے۔ امراللہ صالح نے کہا کہ اعتدال پسند طالبان اور القاعدہ کے فلسفے میں کوئی خاص فرق نہیں دونوں کے نظریا ت یکساں ہیں۔اعتدال پسند طالبان کا مفروضہ باقاعدہ تخلیق کیاگیااور یہ شوشہ مغربی ممالک نے چھوڑاہے ایسے طالبان کا کوئی وجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ اعتدال پسند طالبان کی اصطلاح ایک نئی ایجاد ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے اور اس شوشے کا مقصد افغانستان میں فوج کی تعدادمیں کمی لاناہے۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر ربانی کوطالبان نے قتل کیا