Archive for September, 2011

نیویارک: افتتاحی اجلاس سے خطاب میں امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے خطاب میں کہا رکن ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا وعدہ کریں۔ ترکی اور امریکا فورم کے رابطہ کمیٹی کے شریک چیئرمین ہوں گے تاہم امریکی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے دوران دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔  دنیا کے طاقتور ممالک نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے نیا فورم تشکیل دے دیا۔ دنیا کے تیس ممالک اور یورپی یونین نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے گلوبل کاوٴنٹر ٹیررزم فورم تشکیل دیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے خطاب میں کہا رکن ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا وعدہ کریں۔ ترکی اور امریکا فورم کے رابطہ کمیٹی کے شریک چیئرمین ہوں گے تاہم امریکی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے دوران دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فورم گزشتہ اقدامات کی ناکامی کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔ جس میں بہت سے ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر فورم میں پانچ گروپ بنائے گئے ہیں۔ جو انصاف و قانون کی حکمرانی، انتہا پسندی، انسداد دہشت گردی اورافریقہ کے قحط کے خاتمے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ فورم میں برطانیہ، بھارت، انڈونیشیا، سعودی عرب، اردن، مراکش، روس، چین، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

Advertisements

مستونگ: زائرین کی بس جب مستونگ کے علاقہ غنجہ ڈوری پہنچی تو چھ سے آٹھ نقاب پوش دہشتگردوں نے بس رکوا لی، مسلح افراد نے مسافروں کو بس سے اتروا کر پاسپورٹس اور شناختی کارڈز چیک کیے، جس کے بعد اندھا دھند فائرنگ کر کے 30 زائرین کو جاں بحق اور دس کو زخمی کر دیا، زخمیوں اور لاشوں کو بولان میڈیکل کالج کوئٹہ منتقل کیا گیا، چار زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔  کوئٹہ سے ایران روانہ ہونے والی بس پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 30 افراد جاں بحق ہو گئے، امداد کیلئے جانیوالی ایک کار پر بھی اختر آباد بائی پاس کے قریب فائرنگ کی گئی جس سے تین افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق ہونیوالوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کالعدم لشکر جھنگوی نے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ کوئٹہ سے بس کے ذریعے روانہ ہونے والے اڑتیس زائرین جب مستونگ کے علاقہ غنجہ ڈوری تک پہنچے تو چھ سے آٹھ نقاب پوش دہشتگردوں نے بس رکوا لی، مسلح افراد نے مسافروں کو بس سے اتروا کر پاسپورٹس اور شناختی کارڈز چیک کیے، جس کے بعد اندھا دھند فائرنگ کرکے 26 زائرین کو ہلاک اور دس کو زخمی کر دیا، زخمیوں اور لاشوں کو بولان میڈیکل کالج کوئٹہ منتقل کیا گیا، چار زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔  لیویز فورسز دہشتگردی کے واقعہ کے آدھے گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعہ میں جاں بحق ہونے والے زائرین کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔ دوسری جانب مغربی بائی پاس اخترآباد کے قریب زائرین کی امداد کیلئے جانیوالی ایک کار پر بھی فائرنگ کی گئی، اس واقعے میں تین افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ دونوں واقعات میں زخمیوں کو سرکاری ایمبولینسز کی ناکافی تعداد کے سبب نجی ایمبولینسز کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتالوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کر کے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔  دیگر ذرائع کے مطابق مستونگ کے علاقے لک پاس کے قریب کوئٹہ سے ایران جانے والی بس سے زائرین کو اتار کر فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی جبکہ چھ زخمی ہیں، واقعہ کے بعد میتیں لینے کیلئے جانے والی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی گئی جس میں مزید دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے۔ تحفظ عزاداری کونسل نے واقعہ کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔ بس ڈرائیور کے مطابق 50 سے 60 زائرین کو ایران لے جانے والی بس جب لک پاس کے پاس پہنچی تو ایک پیک اپ بس کے سامنے کھڑی ہو گئی اور دوسری گاڑی بس کے برابر میں لگا دی گئی، آٹھ سے دس مسلح افراد نے مسافروں کو بس سے اترنے کو کہا، مسلح افراد کے پاس جدید اسلحہ تھا جس میں راکٹ لانچر، کلاشنکوف اور دستی بم بھی شامل تھے۔ جس کے بعد جیسے ہی بس پر سوار لوگ نیچے اترنے لگے تو مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس میں 28 افراد موقع پر ہی جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے، جبکہ کچھ لوگ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ لک پاس ایک دور افتادہ علاقہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک گھنٹے کے بعد وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور امدادی ٹیمیں پہنچ سکیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد نہ مل سکی۔ زخمیوں کو مستونگ کے ڈسٹرکٹ اسپتال اور کوئٹہ کے سول اور بولان اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ واقعہ کے بعد کوئٹہ سے لک پاس جانے والے جاں بحق افراد کے لواحقین کی گاڑیوں پر اختر آباد کے علاقے میں فائرنگ کی گئی جس میں دو افراد جاں بحق اور سات ہو گئے۔ دوسری جانب تحفظ عزاری کونسل نے واقعہ کی شدید مذمت کی اور تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔  بعض دیگر ذرائع  سے حاصل ہونیوالی اطلاعات کے مطابق بس ڈرائیور نے بتایا ہے کہ بس میں 50 سے 60 افراد سوار تھے جو زیارت کے غرض سے ایران جا رہے تھے زائرین میں خواتین اور بچے بھی سوار تھے۔ ذرائع کے مطابق مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار تھے انہوں نے زائرین کو بس سے اتار کر ایک لائن میں کھڑا کیا اور پھر ان پر فائرنگ کر دی، مسلح افراد 5سے دس منٹ تک فائرنگ کی۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ نے 26 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور ہلاک شدگان میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔ زخمی اور ہلاک شدگان کو بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا جا رہا ہے۔ زائرین کی بس کوئٹہ سے تفتان جا رہی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران زائرین کی بس پر فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے، اس سے قبل مغربی بائی پاس اور سیراب روڈ پر بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انتظاميہ کی جانب سے زائرين کی بس کو کوئی سکيورٹی فراہم نہيں کی گئی تھی۔ مجلس وحدت مسلمين کي جانب سے اس واقع کي مذمت کی گئی ہے اور صوبائي حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کيا گيا ہے۔

کابل:  ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ سابق افغان صدر کی رہائشگاہ پر اسوقت کیا گیا جب وہ امن کوششوں کے سلسلے میں طالبان کے دو رکنی وفد سے ملاقات کر رہے تھے، یہ بھی احتمال دیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں خود امریکہ اور طالبان بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔  افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خودکش حملے میں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی جاں بحق ہو گئے، برہان الدین ربانی امن کونسل کے سربراہ بھی تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ سابق افغان صدر کی رہائشگاہ پر اسوقت کیا گیا جب وہ امن کوششوں کے سلسلے میں طالبان کے دو رکنی وفد سے ملاقات کر رہے تھے، یہ بھی احتمال دیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں خود امریکہ اور طالبان بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ برہان الدین ربانی 1992ء سے 1996ء تک افغانستان کے صدر رہے، وہ آج کل افغان امن کونسل کی سربراہی کر رہے تھے۔ پاکستانی تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق اس واقعے سے پاکستان کی طرف سے افغانستان میں ہونے والی امن کوششوں کو بہت نقصان پہنچے گا اور پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔  دیگر ذرائع کے مطابق سابق افغان صدر اور افغانستان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کو آج کابل کے علاقہ وزیر اکبر خان میں امریکی سفارتخانے سے چند قدم کے فاصلے پر ان کی اقامت گاہ پر بم حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ صدر حامد کرزئی کے سینئر مشیر معصوم ستکنزئی بھی حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔ صدر حامد کرزئی نے اقوام متحدہ کا دورہ منسوخ کر دیا۔
اکہتر سالہ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی آج کابل کے علاقہ وزیر اکبر خان میں اپنی اقامت گاہ پر دو طالبان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے، ان کے ہمراہ دیگر ساتھی بھی موجود تھے، افغان پولیس کے مطابق اس دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، حملہ آور نے بارودی مواد پگڑی میں چھپا رکھا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات میں موجود طالبان رہنما حملے میں ملوث ہیں یا نہیں، اس بات کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کہ دھماکا خودکش تھا یا نصب شدہ تھا۔ برہان الدین ربانی کی اقامت گاہ امریکی سفارتخانے سے چند قدموں کے فاصلہ پر ہے۔ حملے میں افغان صدر حامد کرزئی کے سینئر مشیر معصوم ستکنزئی بھی شدید زخمی ہوئے۔

فرانسیسی حکومت نے سڑکوں پر مذہبی اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد جمعے کے دن سے شروع ہو گیا۔فرانسیسی حکومت کے اس فیصلے کے باعث ہزاروں کی تعداد میں فرانسیسی مسلمانوں نے جمعے کی نماز مختلف عمارتوں کے اندر ادا کی۔ فرانس کی وزارت داخلہ نے مسلمان شہریوں کو نماز ادا کرنے کے لیے عارضی عمارات فراہم کی ہیں اور کہا ہے کہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی برتی جائے گی۔ خیال رہے کہ فرانس میں چہرے کے نقاب پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ بعض مسلمان اور بائیں بازو کے حلقے حکومت کے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں۔ فرانس میں قریب پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں اور وہاں نماز ادا کرنے اور مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے لیے عوامی جگہوں کی خاصی کمی ہے۔ اسی باعث فرانس کے بڑے شہروں میں مسلمان سڑک پر یا کھلے مقامات پر جائے نماز بچھا کر بھی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ تاہم شدت پسند کرسچین حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ عمل ’فرانس کی اسلامائزیشن‘ کی وجہ بن رہا ہے۔ عورتوں کے نقاب کے حوالے سے بھی ایسے حلقوں کو شدید اعتراضات تھے۔ اس کے باوجود فرانس کے بعض حلقے، بالخصوص سیکولر اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ افراد یہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ دوسری جانب بہت سے مسلم حلقوں نے حکومت کے تازہ فیصلے کو پسند بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق نماز اور مذہبی اجتماعات کے لیے سڑک جیسی جگہ ویسے بھی مناسب نہیں ہوتی اور عمارتوں کے اندر اس نوعیت کے اجتماعات احسن ہیں۔

کوئٹہ…مستونگ کے قریب لک پاس کے مقام پر مسلح افراد نے زائرین کو بس سے اتار کر ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں ہلاک شدگان کی تعداد30ہو گئی اور ہلاک شدگان میں اضافے کا خدشہ ہے ،بس ڈرائیور کے مطابق بس میں50سے60افراد سوار تھے جو زیارت کے غرض سے ایران جا رہے تھے زائرین میں خواتین اور بچے بھی سوار تھے ۔ذرائع کے مطابق مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار تھے انہوں نے زائرین کو بس سے اتار کر ایک لائن میں کھڑا کیا اور پھر ان پر فائرنگ کردی مسلح افراد5سے دس منٹ تک فائرنگ کی۔اسسٹنٹ کمشنر مستونگ نے30افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے اور ہلاک شدگان میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے ۔زخمی اور ہلاک شدگان کو بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا جارہا ہے ۔زائرین کی بس کوئٹہ سے تفتان جارہی تھی۔ڈپٹی کمشنرکوئٹہ کے مطابق ریسکیوٹیمیں جائے وقوع پرپہنچ گئی ہیں۔پولیس اوردیگرقانون نافذکرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا ہے۔ زائرین کی بس ڈرائیور نے کہا ہے کہ مسلح افراد کی تعداد8سے دس تھی فائرنگ کے بعد وہ واپس کوئٹہ کی جانب روانہ ہو گئے۔ڈرائیور خوش حال خان کا کہنا ہے کہ پہلے بس کو ایک پک اپ نے راستہ روکا اورپک اپ میں سوار افراد کے ہاتھوں میں کلاشنکوفیں تھیں اور دیگر بھاری ہتھیار موجود تھے انہوں نے بس میں سوار افراد کو اتارا اس دوران وہ خود وہاں سے بھاگ گیا جب واپس آیا تو بہت سے لوگ مر چکے تھے اور کچھ زخمی تھے ۔ سیکیورٹی اہلکارواقعے کے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد آئے جس کے بعد امدادی کارکنان پہنچے انہوں نے زخمی اور ہلاک شدگان کو اسپتال پہنچایا….ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں  فائرنگ سے 30 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، لک پاس دور افتادہ علاقہ ہے جہاں امدادی ٹیمیں پہنچنے میں کافی وقت درکار تھا جس سے زخمیوں کو فوری طبی امداد نہ مل سکی۔  مستونگ کے علاقے لک پاس قریب کوئٹہ سے ایران جانے والی زائرین کی بس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی اور متعدد زخمی ہو گئے، ۔واقعہ کے بعد میتیں لینے کیلئے جانے والی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی گئی جس میں مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ تحفظ عزاداری کونسل نے واقعہ کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔ میڈیا کے مطابق  زائرین کی بس  میں  بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، فائرنگ سے 28 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، لک پاس دور افتادہ علاقہ ہے جہاں امدادی ٹیمیں پہنچنے میں کافی وقت درکار تھا جس سے زخمیوں کو فوری طبی امداد نہ مل سکی۔ زخمیوں کو مستونگ کے ڈسٹرکٹ اسپتال اور کوئٹہ کے سول اور بولان اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ واقعہ کے بعد کوئٹہ سے لک پاس جانے والے جاں بحق افراد کے لواحقین کی گاڑیوں پر اختر آباد کے علاقے میں فائرنگ کی گئی جس میں دو افراد جاں بحق ہو گئے، فائرنگ میں جاں بحق افراد کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے بتایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران زائرین کی بس پر فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے اس سے قبل مغربی بائی پاس اور سیراب روڈ پر بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔  گذشتہ کئی مہینوں سےملک میں ملت جعفریہ کےغیور، مخلص، محنت کش اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے محب وطن، خالص اسلام محمدی پر عمل کرنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں کالعمد دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندے ملوث ہیں ،تاہم حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے اور ملک ان دہشت گردوں کے لئے ایک جنت کی مانند بنا ہوا ہے دہشت گرد ناصبی اور وہابی طالبان دہشت گرد جہاں چاہتے ہیں معصوم اور نہتے  شیعہ مسلمانوں کا خون بہا دیتے ہیں. پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ  میں جاری شیعہ مسلمان زائرین کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ میں کالعمد دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندے ملوث ہیں۔ شیعہ علماء کونسل جعفریہ الائنس اور مجلس وحدت مسلمین معصوم اور بے گناہ شیعہ مسلمان زائرین کی شہادتوں پر دہشت گرد اور متعصب گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندوں کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان کے  صوبہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں دن دیہاڑے بے گناہ اور معصوم30  شیعہ زائرین کی شہادتیں, دہشت گرد گروہوں کی بربریت پر حکومت کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہیں؟ حکومت سے مطالبہ  ہے کہ وہ اپنی صفوں کے اندر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ عناصر اور ان کے معاون ارکان کو نکال باہر کریں کہ جن کا مقصد ملک میں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینا اور اپنے غیر ملکی آقاؤں امریکا و اسرائیل کی ایماء پر مملکت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ ۔جبکہ شیعہ علماء کونسل جعفریہ الائنس اور مجلس وحدت مسلمین اور ان سے منسلک تمام ذمہ داروں  سمیت دیگر ملی تنطیموں نے دہشتگردوں کی اس بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت اور معصوم زائرین کی  مظلومانہ شہادتوں پرشہداء کے ورثاء سے اظہار تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور شہداء کے قاتل ضرور بے نقاب ہوں گے خدا شہداء کو جوار معصومیں ّ سے ملحق کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاکرے.آمین

قائد انقلاب اسلامی ایران نے خطے کی اقوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، نیٹو، برطانیہ، فرانس اور اٹلی جیسی مجرم حکومتوں پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران میں پہلی بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کی افتتاحیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی مسلمان انقلابی اقوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہرگز امریکہ، نیٹو، برطانیہ، فرانس اور اٹلی جیسی مجرم حکومتوں پر اعتماد نہ کریں، ہمیشہ انکے بارے میں بدگمان رہیں اور انکی مسکراہٹوں اور وعدوں پر یقین نہ کریں کیونکہ یہ بظاہر تو مسکراتے نظر آتے ہیں لیکن پس پردہ سازشوں اور خیانتوں میں مصروف ہیں۔
خطے میں رونما ہونے والی تحریکیں حقیقی معنوں میں عوامی اور اسلامی ہیں:
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ خطے میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکیں حقیقی معنوں میں عوامی اور اسلامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تحریکوں میں عوام نے دل و جان سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی ایران نے کہا کہ خطے میں انقلابی تحریکوں کے درج ذیل اصول بیان کئے جا سکتے ہیں:
۱۔ قومی عزت و وقار کا احیاء جو کرپٹ آمر حکمرانوں کی طویل دورہ حکومت اور امریکہ و مغربی دنیا کے سیاسی تسلط کی وجہ سے پامال ہو چکی تھی،
۲۔ اسلام کے پرچم کو بلند کرنا جس کے ساتھ عوام کا دیرینہ قلبی رابطہ اور عقیدہ ہے، امن و امان اور عدالت کا حصول اور ایسی ترقی و پیشرفت جو صرف اسلامی شریعت کے زیر سایہ ہی امکان پذیر ہے۔
۳۔ گذشتہ دو صدیوں سے جاری امریکہ اور یورپ کے تسلط و نفوذ کے خلاف قیام جنہوں نے عوام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور انکی تحقیر کی ہے،
۴۔ اسرائیل کی غاصب رژیم اور بوگس ریاست کا مقابلہ جسے عالمی استعمار نے خنجر کی مانند خطے کی کمر میں گھونپ رکھا ہے اور اپنے شیطانی تسلط کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور ایک قوم کو اپنی تاریخی سرزمین سے جلاوطن کر رکھا ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ یقینا یہ اصول امریکہ اور اسرائیل کیلئے نامطلوب ہیں لہذا وہ انکو انکار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ حقائق کسی کے انکار کرنے سے تبدیل نہیں ہوتے۔
خطے کی انقلابی اقوام آنے والے خطرات سے ہوشیار رہیں:اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطے کی انقلابی اقوام کو خبردار کیا کہ انکے راستے میں بہت زیادہ خطرات موجود ہیں لیکن انہیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان سے بچنے کا راستہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک کو دو قسم کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اندرونی اور بیرونی۔ قائد انقلاب اسلامی ایران نے ابتدائی کامیابی کے بعد سست پڑ جانے اور یہ سمجھنے کہ کرپٹ حکمران کی سرنگونی کے بعد مکمل کامیابی حاصل ہو چکی ہے اور کام ختم ہو چکا ہے کو پہلا خطرہ قرار دیا اور تاکید کی کہ جنگ احد کی مثال ہمارے سامنے ہے جس میں درے کی حفاظت پر مامور سپاہی غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہو گئے اور خدا کی جانب سے سزا کے مستحق قرار پائے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا خطرہ عالمی استعماری قوتوں کے ظاہری دبدبے سے مرعوب ہو جانا اور امریکہ سے خوفزدہ ہو جانا ہے، انقلابی جوانوں اور شجاع رہنماوں کو دل سے ہر قسم کا خوف نکال دینا چاہئے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دشمن کی جانب سے بظاہر دوستانہ رویے اور حمایت اور اسکے وعدوں کے فریب میں آنے کو ایک اور اہم خطرہ قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ دشمن کو ہر روپ میں پہچاننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن سے غافل بھی نہیں ہونا چاہئے اور تمام انسانی و جنی شیاطین کے مقابلے میں اپنے اندر موجود الہی طاقت کا سہارا لیں۔  اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے اسلامی بیداری کی تحریک کو درپیش بیرونی خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا خطرہ امریکہ اور مغرب کے پٹھو حکمرانوں کا برسراقتدار آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی قوتیں محض چہروں کی تبدیلی کے ذریعے پرانے استعماری نظام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
خداوند متعال پر توکل اور اسکی نصرت کی امید تمام مشکلات کا حل ہے:آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطے کی انقلابی اقوام کو تاکید کی کہ خداوند متعال کی ذات پر توکل اور قرآن کریم میں اسکی جانب سے نصرت کے وعدوں سے امیدوار رہتے ہوئے تمام مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے، آپ نے بڑے کام کا آغاز کیا ہے لہذا اسکی خاطر بڑی مشکلات کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ قائد انقلاب اسلامی ایران نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ خداوند کو اپنا حامی اور مددگار سمجھیں اور حاصل ہونے والی کامیابیوں سے غرور کا شکار نہ ہوں، ہمیشہ انقلابی اصولوں کو اپنے سامنے رکھیں اور ان سے غافل نہ ہوں، اپنے اصول اور نعروں کو اسلامی اصولوں کے ساتھ منطبق کریں۔ انہوں نے خودمختاری، آزادی، عدالت خواہی، آمریت اور استعماری قوتوں کے مقابلے میں نہ جھکنے، قومی، نسلی اور مذہبی تبعیض کی نفی اور صہیونیزم کی کھلی مخالفت کو اسلامی ممالک کی انقلابی تحریکوں کے بنیادی اصول قرار دیئے جو سب کے سب اسلام اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں۔ ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہر قسم کے مذہبی، قومی، نسلی، قبائلی اور سرحدی اختلافات سے پرہیز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپس میں پائے جانے والے فرق کو اچھے انداز میں ہینڈل کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو تکفیری فتووں کے ذریعے مذہبی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں شیطان کے چیلے ہیں۔
جدید اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کو اپنا اصلی ہدف قرار دیں: قائد انقلاب اسلامی ایران نے خطے سے آئے 700 محققین، سیاستدانوں، مذہبی رہنماوں اور برجستہ شخصیات کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپکی اصلی ذمہ داری سیاسی نظام کی تشکیل ہے جو انتہائی عظیم اور مشکل کام ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ لادین، سکولر، مغربی لبرل ڈموکریٹک، نیشنلسٹ شدت پسند یا بائیں بازو کے مارکسسٹی سیاسی نظاموں کو اپنے اوپر مسلط کئے جانے کی اجازت نہ دیں اور امت واحد مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کو اپنا اصلی مقصد قرار دیں۔  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کے قبضے سے فلسطین کی آزادی بھی ایک اور بڑا ھدف ہے جس کیلئے تمام مسلم ممالک کو مل کر اقدام کرنا چاہئے۔ انہوں نے آج کی جوان نسل کو گذشتہ نسلوں کیلئے باعث افتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کی نئی نسل فلسطین کو آزاد کروانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یاد رہے کل ہفتے سے تہران میں پہلی دو روزہ بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کا آغاز ہو چکا ہے جس میں مختلف اسلامی ممالک سے 700 سیاستدانوں، محققین، مذہبی رہنماوں اور برجستہ شخصیات نے شرکت کر رکھی ہے۔

سعودی عرب کی معروف تجزیہ نگار نے اپنے مقالے میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے خطے میں انقلابی تحریکوں کے خلاف خفیہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔  العالم نیوز چینل کے مطابق سعودی عرب کی معروف خاتون تجزیہ نگار اور مصنف مضاوی الرشید نے القدس العربی میں شائع کئے گئے اپنے مقالے میں تاکید کی ہے کہ سعودی عرب نے خطے میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک کے خلاف خفیہ جنگ کا آغاز کر رکھا ہے جسکی وجہ سے وہ اسرائیل کی طرح عرب ممالک کے انقلابی جوانوں کی نفرت کا شکار ہو چکا ہے۔
مضاوی الرشید نے لکھا کہ عرب ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے بگڑتے ہوئے تعلقات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت آل سعود روز بروز انزوا کا شکار ہوتی جائے گی، عرب ممالک میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکوں کے خلاف سعودی عرب کی خفیہ سازشیں خود اسکے اپنے کمزور ہو جانے کا باعث بنی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ کاش سعودی عرب اپنے اثر و رسوخ کو آمر حکمرانوں کے ساتھ خاندانی تعلقات مضبوط کرنے کی بجائے خطے میں رونما ہونے والی جمہوریت خواہ تحریکوں کی حمایت کیلئے استعمال کرتا۔  مضاوی الرشید نے تاکید کی کہ خطے میں انقلابی تحریکوں کی کامیابی کے بعد سعودی عرب اور مصر کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے جو عرب ممالک کی خارجہ سیاست میں انتہائی اہم کردار کا حامل تھا۔ انہوں نے لکھا کہ سعودی حکومت عرب دنیا اور خطے میں کمزور ہو جائے گی اور تیل کے ذخائر بھی عرب اقوام خاص طور پر ملت فلسطین کا اعتماد حاصل کرنے میں اسکی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔  سعودی تجزیہ نگار نے اپنے مقالے میں لکھا کہ سعودی حکومت جب تک صرف اپنی اور خاندان آل سعود کی نمائندگی کرتی رہے گی درپیش خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مضاوی الرشید نے تاکید کی کہ آزادی اور خودمختاری کے حصول کیلئے قوموں کے ارادے ہی حکام کی جانب سے آزاد فیصلوں کے اتخاذ کا زمینہ فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ صرف وہ حکومتیں امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہیں جو اپنی قوموں کی حقیقی نمائندگی کرتی ہیں۔

اپنے بیان میں او آئی سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک خود مختار ملک کے وزیراعظم کی جانب سے اس قسم کے گمراہ کن بیانات سے بدامنی پھیلے گی اسلام دہشتگردی کی اصطلاع اس طرح غلط ہے جس طرح کہ کرسچن دہشتگردی یا یہودی دہشتگردی، اسلام امن اور رحم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔  او آئی سی نے کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر کی جانب سے حالیہ اسلام مخالف ہرزہ سرائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کینیڈین وزیراعظم جو اسرائیل کے حامی ہیں نے کہا تھا کہ اسلام دہشتگردی عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس کے ردعمل میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو نے کینیڈا کے وزیراعظم کے بیان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے بیان سے صرف مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان غلط فہمیاں اور شکوک و شہبات جنم لیں گے جبکہ اس سے مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان نفرت اور دوریوں کو مٹانے کی عالمی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اپنے بیان میں او آئی سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک خود مختار ملک کے وزیراعظم کی جانب سے اس قسم کے گمراہ کن بیانات سے بدامنی پھیلے گی اسلام دہشتگردی کی اصطلاح اسی طرح غلط ہے جس طرح کہ کرسچن دہشتگردی یا یہودی دہشتگردی، اسلام امن اور رحم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ او آئی سی ہر قسم کی دہشتگردی انتہا پسندی کیخلاف ہے اور ہمارا موقف اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ہے جو کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کو مسترد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی کے رکن ملک دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ہم نے بھاری مالی و جانی نقصان برداشت کیا ہے۔

صنعا: گزشتہ روز کی تازہ جھڑپوں میں یمنی حکومت نے سعودی عرب کے فوجی تعاون سے دارالحکومت صنعا میں سینکڑوں افراد کو خاک و خون میں نہلا دیا۔ یمنی ڈکٹیٹر کے فوجی دستوں کی تازہ فائرنگ سے لگ بھگ 50 مظاہرین جاں بحق جبکہ مزید 700 افراد زخمی ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر بندوقوں سے فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر راکٹوں کے گولے بھی برسا دئے  یمن کے دارالحکومت صنعا میں صدر عبداللہ صالح کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ روزنامہ کیہان کے مطابق گزشتہ روز یمنی حکومت نے سعودی عرب کی فوجی تعاون سے دارالحکومت صنعا میں سینکڑوں افراد کو خاک و خون میں نہلا دیا۔ یمنی ڈکٹیٹر کے فوجی دستوں کی فائرنگ سے لگ بھگ 50 مظاہرین جاں بحق جبکہ مزید 700 افراد زخمی ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے گولیاں چلانے کے ساتھ ساتھ ان پر راکٹوں کے گولے بھی برسادئے۔  ایک اور اطلاع کے مطابق صنعاء میں تازہ مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، اس دوران جھڑپ میں سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں درجنوں انقلابی جاں بحق جبکہ سینکڑوں مزید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اکثر کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ فائرنگ کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں اور علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔

ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے سے اسرائیل کا ’’قبضہ ختم نہیں ہو گا‘‘ مگر اس سے فلسطینیوں کا ہاتھ ضرور مضبوط ہو گا۔ واشنگٹن نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔  فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کا مطالبہ ضرور پیش کریں گے۔ فلسطینی صدر نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقوام متحدہ سے اپنے جائز حق کی درخواست کریں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے سے اسرائیل کا ’’قبضہ ختم نہیں ہو گا‘‘ مگر اس سے فلسطینیوں کا ہاتھ ضرور مضبوط ہو گا۔ واشنگٹن نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔ بعض امریکی سیاست دانوں نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی انتظامیہ نے اپنی یہ کوشش جاری رکھی، تو امریکہ اس کی امداد بند کر دے گا، جو اس وقت سالانہ 500 ملین ڈالر کے قریب بنتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے پر کاربند ہے، تاکہ ان کی کامیابی کے بعد دو ایسی ریاستیں قائم ہوں، جو ایک دوسرے کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں۔  ادھر یورپی یونین کی جانب سے بھی فلسطینیوں کو اس ارادے سے باز رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور وہ فلسطینی انتظامیہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ میں آزاد ریاست کی قرارداد پیش نہ کرے۔ اس میں ناکام رہنے پر یورپی یونین فلسطینیوں کو اس بات پر بھی مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ مکمل آزاد ریاست کی بجائے اقوام متحدہ میں اپنا درجہ بڑھا لیں۔ اگر سلامتی کونسل میں امریکہ نے فلسطینیوں کی درخواست کو ویٹو کر دیا، تو وہ پھر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا کر اسے پیش کر سکتے ہیں جس کے پاس انہیں مکمل رکنیت دینے کا اختیار تو نہیں ہے مگر وہ فلسطین کو ایک غیر رکن ریاست کے طور پر تسلیم کر سکتے ہیں۔ اس حیثیت سے فلسطینیوں کو مختلف عالمی اداروں تک رسائی کا موقع مل جائے گا جن میں بین الاقوامی فوجداری عدالت بھی شامل ہے جہاں غرب اردن پر اسرائیل کے طویل عرصے سے قبضے کے خلاف وہ اس پر ہرجانے کا دعوٰی بھی کر سکتے ہیں۔ادھر اسلامی تنظیم حماس نے اس منصوبے کو نمائشی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو عرب لیگ نے محمود عباس کے منصوبے کی حمایت کی۔ عرب وزرائے خارجہ نے ایک ٹیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں لیگ کے سربراہ اور چھ اراکین شامل ہوں گے اور وہ متنازعہ ریاست کی درخواست کو آگے بڑھائے گی۔ محمود عباس جنہیں بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور تصور کیا جاتا ہے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسرائیل کے نزدیک فلسطینیوں کی اقوام متحدہ میں جانے کی کوشش مذاکرات سے گریز اور یہودی ریاست کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے سے انکار ہے۔

نیویارک: میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے جون کی توں والی حالت ہمارے لئے قابل قبول ہے اور نہ ہی پائیدار، امن عمل کا دوبارہ آغاز وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔   فرانس نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطین کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو مشرق وسطٰی میں تشدد کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہاں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ ایلن جوف نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے جون کی توں والی حالت ہمارے لئے قابل قبول ہے اور نہ ہی پائیدار، امن عمل کا دوبارہ آغاز وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ قبل ازیں فلسطینی صدر محمود عباس نے تسلیم کیا کہ اقوام متحدہ کی رکنیت کیلئے فلسطین کی ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے درخواست پر وہ عالمی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کوشش کی امریکا، اسرائیل سمیت مختلف ممالک سخت مخالفت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد:  وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سویلین اور فوج کے خفیہ اداروں کی طرف سے کچھ رپورٹس بھیجی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران قبائلی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدت پسندی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کے احکامات جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں کے اہم عہدوں پر فائض افراد نے دیے تھے پاکستان کے خفیہ اداروں نے ملک بھر کی 4 جیلوں کے حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ان حکام پر الزام ہے کہ ان جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد جیل کے اندر سے ہی شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے احکامات جاری کر ر ہے ہیں۔ جبکہ جیل خانہ جات کا عملہ اس سے لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سویلین اور فوج کے خفیہ اداروں کی طرف سے کچھ رپورٹس بھیجی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران قبائلی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدت پسندی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کے احکامات جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں کے اہم عہدوں پر فائض افراد نے دیے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس میں چند روز قبل قبائلی علاقے میں ایک جنازے پر ہونے والے خودکش حملے کے علاوہ پشاور میں ہونے والے بم دھماکے اور کوئٹہ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ڈی آئی جی پر ہونے والے خودکش حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جن جیلوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں پشاور، راولپنڈی، بہاولپور اور کوئٹہ کی سینٹرل جیلیں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نہ صرف جیل حکام کو مبینہ طور پر پیسے کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ انہیں اور انکے اہلخانہ کو ڈارنے دھمکانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ذرائع کے مطابق تحریک طالبان، غازی فورس اور لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مبینہ طور پر جیل کے اندر اپنا ایک گروہ بنایا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب لشکر طیبہ اور جماعت الدعوة کے لوگ ہیں ان گروہوں کے درمیاں شدید اختلافات ہیں جو کسی بھی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں۔ خفیہ اداروں کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹس سے متعلق صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات کے عملے سے رابطہ کرکے پوچھا گیا تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

مینگورہ: تقسیم شدہ پمفلیٹ میں طالبان اور القاعدہ کو شیطان کے پیروکار لکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں طالبان کی طرف سے مساجد میں دھماکوں، بے گناہ مسلمانوں پر خود کش حملوں، اسلامی تعلیمات کے خلاف فتوے، بچوں کو گمراہ کرنا، لاشوں کی بیحرمتی، اسلامی شریعت سے انکار، تعلیمی اداروں کی تباہی، سرکاری اور لوگوں کے املاک تباہ کرنا اور دیگر غیر شرعی اور غیر انسانی افعال کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے  سوات میں نامعلوم افراد کی جانب سے مختلف مقامات پر پمفلیٹ تقسیم کئے گئے ہیں جس میں عوام کو طالبان کے غیر شرعی سرگرمیوں سے خبردار کرایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع سوات کے مختلف جگہوں پر نامعلوم افراد نے چار صفحوں پر مشتمل پمفلیٹ تقسیم کئے ہیں جس میں طالبان اور القاعدہ میں شمولیت کو اسلام کے منافی قراردیا گیا ہے۔ پمفلیٹ میں طالبان کو شیطان کے پیروکار لکھا گیا ہے۔ اور اس میں طالبان کے مسجد میں دھماکوں، بے گناہ مسلمانوں پر خود کش حملے، اسلامی تعلیمات کے خلاف فتوے، بچوں کو گمراہ کرنا، لاشوں کی بیحرمتی، اسلامی شریعت سے انکار، تعلیمی اداروں کی تباہی، سرکاری اور لوگوں کے املاک تباہ کرنا اور دیگر غیر شرعی اور غیر انسانی افعال کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔  پمفلیٹ میں طالبان کے انہی کاموں پر ان کے خلاف مختلف ممالک کے علماء کے فتوے بھی درج ہیں۔ سعودی عرب کے عالم دین شیخ عبد المحسن الابیکان کے علاوہ دیگر علماء کے فتوے پمفلیٹ میں درج کئے گئے ہیں۔ پمفلیٹ میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سوچیں کہ اسلام کے دشمن کون ہیں، مسلمانوں اور وطن عزیز کے دشمن کون ہیں اور دوست کون؟؟

اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم کے مطابق ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے ایک جرمن کمپنی نے سروے شروع کر دیا ہے۔ سروے پر اخراجات کو پورا کرنے کے لئے گیس کے صنعتی و تجارتی صارفین پر سرجارچ عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔  امریکا نے تجویز کیا ہے کہ پاکستان توانائی کی بڑھتی طلب پورا کرنے کیلئے ایل این جی درآمد کرنے کے بجائے گیس کے نئے ذخائر دریافت کرے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد نے وزارت خزانہ میں پاکستانی حکام سے ملاقات میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت میں تکنیکی معاونت کی پیشکش کی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں امریکی وفد سے ملاقات میں حکومت نے نیپرا کے مقررہ نرخ، حکومتی سبسڈی اور روپے کی گرتی قدر کے تناظر میں توانائی کے بحران کا جائزہ لیا۔ امریکی وفد کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں ایل این جی درآمد کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس موقع پر وزارت خزانہ نے بحران کے خاتمے کیلئے بڑے ہائیڈل پاور پلانٹس کی تعمیر اور انرجی مکس میں بہتری پر زور دیا۔
ادھر وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ پاک ایران گیس لائن دو ہزار بارہ میں آپریشنل ہو جائے گی۔ پیٹرولیم پالیسی دو ہزار گیارہ بھی آئندہ چند روز میں تیار ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے مطابق ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے ایک جرمن کمپنی نے سروے شروع کر دیا ہے۔ سروے پر اخراجات کو پورا کرنے کے لئے گیس کے صنعتی و تجارتی صارفین پر سرجارچ عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عاصم کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم پالیسی دو ہزار گیارہ آئندہ چند روز میں مکمل ہو جائے گی۔ جسے بعد میں اقتصادی رابطہ کمیٹی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائیگا۔ پیٹرولیم پالیسی کے تحت توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو زیادہ مراعات دی جائیں گی۔ نئی پالیسی کے مطابق گیس فیلڈز سے پائپ لائن اب ان کمپنیوں کے بجائے سوئی سدرن اور سوئی نادرن گیس کمپنیاں بچھائیں گی۔

نیویارک: فلسطین کے مذاکراتکار صاب ارکات نے کہا ہے کہ فلسطین اپنی مؤقف پر قائم ہے اور رکنیت کیلئے درخواست لازمی دی جائے گی۔ صدر محمود عباس تئیس ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کی اس درخواست کو ویٹو کر دے گا۔  فلسطین کے صدر محمود عباس اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے ہیں جہاں وہ فلسطین کو بطور آزاد ریاست رکنیت دینے کی درخواست کریں گے۔ محمود عباس پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ہر صورت میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت دینے کیلئے درخواست دیں گے۔ دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کی اس درخواست کو ویٹو کر دے گا۔ فلسطین کے مذاکراتکار صاب ارکات نے کہا ہے کہ فلسطین اپنی مؤقف پر قائم ہے اور رکنیت کیلئے درخواست لازمی دی جائے گی۔ صدر محمود عباس تئیس ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے امن مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔

نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری مصالحت کی حمایت کرتے ہیں اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات میں پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے مفاد میں کر رہا ہے۔ نیویارک میں برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد حنا ربانی کھر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں جاری مصالحت کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان ہمسایہ ملک کے حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے گا، ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیوں کو سمجھنا ہو گا، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جو کچھ بھی کر رہا ہے اپنے مفاد کے لیے کر رہا ہے۔حنا ربانی کھر  نے ہلیری کلنٹن کے ساتھ ملاقات کے بارے میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ بند کمرے میں کھل کر ہر پہلو پر بات ہوئی اور ملاقات بہت مفید رہی۔ ملاقات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، انہوں نے کہا کہ اٹلی سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے متاثرین سیلاب کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشتگردی میں تعاون اہم پہلو ہے، امریکہ کے ساتھ انسداد دہشتگردی کیلئے تعاون کو فروغ دیں گے، دہشتگرد گروپ جہاں کہیں بھی ہیں وہ پاک افغان اور امریکی مفاد کے خلاف ہیں۔
دیگر ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں مصالحت کے عمل کی حمایت کرتا ہے اور دہشتگردی جہاں بھی ہے پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے۔ نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ اپنے مفاد میں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہلیری کلنٹن سے ملاقات بہت مفید رہی ہے، جس میں دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان میں جاری مصالحت کی حمایت کرتے ہیں اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیر خارجہ نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات میں پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔  ادھر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کو کارروائیاں کرنی ہوں گی۔ پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے ملا قات کے بعد بات چیت کے دوران امریکی رزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہمیت کے حامل ہیں۔  کسی بھی جگہ دہشت گردی کی مذمت کرتےہیں:حنا ربانی کھر

صدر اسلامی جمہوریہ ایران جو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے نیویارک پنچے ہیں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ قوموں کے حقیقی مطالبات پر توجہ دے۔ ارنا نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب محمود احمدی نژاد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 66 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے آج صبح نیویارک پہنچے۔ انہوں نے جان اف کینڈی ائرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ قوموں کی عزت، احترام، تشخص اور مفادات کی حفاظت کرے۔ جناب محمود احمدی نژاد نے کہا کہ اقوام متحدہ پر اس وقت دوسری جنگ عظیم کے چند فاتح ممالک کا قبضہ ہے اور دوسرے ممالک کو اس بین الاقوامی ادارے میں آمدورفت کیلئے امریکہ کا ویزا لینا پڑتا ہے جبکہ امریکہ بھی باقی ممالک کی طرح اقوام متحدہ کا رکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امکان فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی تمام حکومتیں مکمل آزادی کے ساتھ اقوام متحدہ میں آمدورفت انجام دے سکیں اور اپنے عوام کے مطالبات کو مطرح کر سکیں۔ ایرانی صدر اپنے 5 روزہ دورے کے دوران جنرل اسمبلی میں خطاب، امریکہ میں مقیم ایرانیوں کے ساتھ ملاقات اور امریکی یونیورسٹیوں کے اساتید اور طلبا سے ملاقات انجام دیں گے۔ اس دوران وہ مختلف نیوز چینلز کے ساتھ انٹرویو بھی انجام دیں گے۔ جناب محمود احمدی نژاد جمعرات کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں اہم عالمی ایشوز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بیان کیا جائے گا۔

کراچی: تاجر برادری کے نمائندوں اور میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عسکری ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس یا آئین میں ترمیم کے ذریعے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جانی چاہئے اور سپریم کورٹ کو عسکری ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف فیصلہ دینا چاہئے، سیاسی پارٹیوں کو عسکری ونگ ختم کرکے سیاست کرنی چاہئے۔   مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ عسکری ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس یا آئین میں ترمیم کے ذریعے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جانی چاہئے، کراچی کے مقامی ہوٹل میں میاں نوازشریف اور مسلم لیگ کے دیگر عہدیداروں نے صنعتکاروں سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ کراچی ساری قوموں کا شہر ہے، جس میں سندھی پٹھان، پنجابی سب رہتے ہیں، ایسے شہر پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ نواز شریف نے کہا کہ جب بھی ہماری حکومت آئی ہے ہم نے معیشت کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے یہ ہمارے منشور کی ترجیحات میں شامل ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ آئندہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ بزنس کمیونیٹی سے ملاقات کریں گے، اکنامی پالیسی ہمارے منشور میں پہلی ترجیح ہے، نواز شریف نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ختم کئے جانے چاہئیں، انھوں نے کہا کہ عسکری ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس یا آئین میں ترمیم کے ذریعے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جانی چاہئے اور سپریم کورٹ کو عسکری ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف فیصلہ دینا چاہئے، سیاسی پارٹیوں کو عسکری ونگ ختم کرکے سیاست کرنی چاہئے، کراچی میں آپریشن سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ رینجرز کو پولیس کے اختیارات دینے چاہئیں۔ 
دیگر ذرائع کے مطابق کراچی میں تاجر برادری کے نمائندوں اور میڈیا سے گفتگو میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ 2008ء کے الیکشن کے بعد حکومت سے بہت امیدیں تھیں لیکن مایوسی ہوئی۔ حکومت نے کئے گئے وعدوں میں کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا، ان کا کہنا تھا کہ پرائیوٹائزیشن کے لئے اداروں کی صحت پہلے بہتر بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری سے معاشی و اقتصادی پالیسی پر مشورہ کروں گا۔ ہم نے ایسی ٹیم تیار کی ہے جو اقتصادی پالیسی پر عملدرآمد کی صلاحیت رکھتی ہے، ہمیں پاکستان کا مفاد زیادہ عزیز ہے۔ ہم نے سندھ میں ڈاکو راج ختم کیا اور امن بحال کیا تھا۔

مستونگ: ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں 60 سے 65 مسافر سوار تھے جس میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، فائرنگ سے 26 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، لک پاس دور افتادہ علاقہ ہے جہاں امدادی ٹیمیں پہنچنے میں کافی وقت درکار تھا جس سے زخمیوں کو فوری طبی امداد نہ مل سکی۔  مستونگ کے علاقے لک پاس قریب کوئٹہ سے ایران جانے والی زائرین کی بس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہو گئی اور متعدد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک جس سے جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے ۔واقعہ کے بعد میتیں لینے کیلئے جانے والی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی گئی جس میں مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ تحفظ عزاداری کونسل نے واقعہ کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔ میڈیا کے مطابق آٹھ سے دس نامعلوم مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور انہوں نے آٹھ سے دس منٹ تک زائرین کی بس پر مسلسل فائرنگ کی۔ بس میں 60 سے 65 مسافر سوار تھے جس میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، فائرنگ سے 26 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، لک پاس دور افتادہ علاقہ ہے جہاں امدادی ٹیمیں پہنچنے میں کافی وقت درکار تھا جس سے زخمیوں کو فوری طبی امداد نہ مل سکی۔ زخمیوں کو مستونگ کے ڈسٹرکٹ اسپتال اور کوئٹہ کے سول اور بولان اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ واقعہ کے بعد کوئٹہ سے لک پاس جانے والے جاں بحق افراد کے لواحقین کی گاڑیوں پر اختر آباد کے علاقے میں فائرنگ کی گئی جس میں دو افراد جاں بحق ہو گئے، دوسری جانب تحفظ عزاری کونسل نے واقعہ کی شدید مذمت کی اور تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر سعید عمرانی کے مطابق کوئٹہ سے ایران جانے والی زائرین کی بس پر مستونگ روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، فائرنگ کا یہ سلسلہ آٹھ سے دس منٹ تک جاری رہا، جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 26 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، فائرنگ میں جاں بحق افراد کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے بتایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران زائرین کی بس پر فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے اس سے قبل مغربی بائی پاس اور سیراب روڈ پر بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن حکومت افغانستان میں تعینات اپنی افواج کے خلاف پاکستان کی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ وزیر دفاع پنیٹا نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ  پیر کے روز کابل میں واقع امریکی سفارتخانے پر کیے گئے حملے میں پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک کے جنگجو ملوث تھے۔ پیر کو کابل کے انتہائی حساس علاقے میں واقع امریکی سفارتخانے اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ افغانستان میں تعینات امریکی سفیر رائن سی کروکر نے بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملے میں حقانی نیٹ ورک ملوث ہے۔ اسی طرح افغان صوبے وردک میں بھی ہفتہ کے دن کیے گئے بم دھماکے کا ذمہ دار اسی نیٹ ورک کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس حملے میں 77 امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ ان واقعات کے تناظر میں بدھ کو امریکی وزیر دفاع نے کہا، ’ہم نے بارہا پاکستانی حکومت کو کہا ہے کہ وہ اس طرح کے حملے روکنے کے لیے حقانی گروپ کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی خاص پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی‘۔لیون پنیٹا نے کہا، ’میرے خیال میں پاکستان کو جو پیغام دیا جانا چاہیے، وہ یہ ہے کہ ہم افغانستان میں تعینات اپنی افواج کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا سکتے ہیں‘۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ واشنگٹن حکومت اس طرح کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتی ہے۔لیون پنیٹا نے کہا کہ وہ حقانی گروپ کی اس اہلیت پر شدید تحفظات رکھتے ہیں کہ اس کے ارکان سرحد پار افغانستان میں امریکی افواج  کے خلاف کارروائی کر کے واپس پاکستان میں واقع اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔لیون پنیٹا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ ان حملوں کے جواب میں ہمارا ردعمل کیا ہو گا۔ میں آپ کو صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ ہم اس طرح کے حملوں کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے‘۔پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ  افغانستان کی سرحد سے ملحقہ  پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے۔ جنگجوؤں کا یہ گروہ پاکستان میں حملے نہیں کرتا اور کہا جاتا ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لیے یہ گروہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیر اعظم لیبیا کی نئی حکومت کو مبارکباد دینے کے لیے طرابلس اور بن غازی کا دورہ کر رہے ہیں۔ تاہم قذافی کی فورسز کی مزاحمت سے معلوم ہوتا ہے کہ لیبیا میں قیام امن مستقبل قریب میں بظاہر ممکن نہیں۔ لیبیا میں قذافی کے 42 سالہ دور اقتدار کو ختم کرنے میں فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کردار کلیدی رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ممالک میں نیٹوکے اس آپریشن کی کامیابی کے بارے میں شکوک کے باوجود قذافی کی افواج کے خلاف حملوں کی تائید جاری رکھی۔ قذافی کے اقتدار سے الگ  ہونے کے بعد یہ دونوں رہنما لیبیا کےعوام میں بہت زیادہ مقبول ہو چکے ہیں۔ ان کے دورہء لیبیا سے قبل ہی طرابلس اور بن غازی کے عوام نے دیواروں پر استقبالیہ کلمات تحریر کرنا شروع کر دیے تھے۔ دونوں رہنما آج جمعرات کو طرابلس پہنچ رہے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کے اس دورے سے قبل قومی عبوری کونسل نے خبردار کیا ہےکہ قذافی کے حامی سپاہیوں کی طرف سے ہتھیار نہ ڈالنے کے فیصلے کے باعث یہ لڑائی طول پکڑ سکتی ہے اس کے ساتھ ہی لیبیا کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری طرابلس حکومت کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے سلسلے میں سست روی کا شکار ہے۔ لیبیا کے مرکزی بینک کے ترجمان عبداللہ سعودی نے بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرب وزرائے خزانہ کی ایک میٹنگ سے قبل خبر ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہم پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی برداری 170بلین امریکی ڈالر کے اثاثے بحال کر دے ، جو لیبیا کے مرکزی بینک کے ہیں‘۔ اقوام متحدہ کے سفارتکاروں نے بتایا ہے کہ برطانیہ نے سلامتی کونسل کو ایک قرارداد جمع کرا دی ہے، جس کی منظوری کے بعد لیبیا پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی تاکہ یہ رقوم لیبیا تک باآسانی پہنچ سکیں۔ بتایا گیا ہے کہ سلامتی کونسل نے لیبیا کے 16بلین ڈالر کے اثاثے پہلے ہی بحال کر دیے ہیں۔ دریں اثناء قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہےکہ قذافی کی افواج کو پسپا کرنے کے لیے انہیں جدید ہتھیار مہیا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قذافی اس وقت جنوبی لیبیا میں روپوش ہیں اور ان کے سپاہی جوابی حملوں کی تیاریوں میں ہیں مصطفیٰ عبدالجلیل کے مطابق قذافی کےحامی بنی ولید، سرت، جعفرہ اور سابا نامی شہروں میں طاقت جمع کر رہے ہیں اور ان کے پاس ایسے ہتھیار نہیں ہیں کہ وہ ان علاقوں پر قذافی کا قبضہ ختم کروا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قذافی اپنے ساتھ تمام تر سونا لے گئے ہیں اور وہ شہروں، پاور پلانٹس اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ مصطفٰی عبدالجلیل فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے دورہء لیبیا کے دوران ہتھیاروں کے حصول اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے موضوع پر بھی بات کریں گے۔ دریں اثناء  لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی نے اقوام متحدہ کو ارسال کیے گئے ایک خط میں اپیل کی ہے کہ وہ  ان کے آبائی شہر سرت میں جنگی جرائم کو رکوانے کے لیے اقدامات کرے۔ قذافی نے کہا ہے کہ وہ لیبیا میں ہی رہیں گے اور اپنی آخری سانسوں تک مزاحمت جاری رکھیں گے۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانس کے صدر نکولا سارکوزی لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پہنچ گئے ہیں۔ معمر القذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد قومی عبوری کونسل کی قیادت سے ملاقات کے لیے جانے والے یہ پہلے غیر ملکی رہنما ہیں۔ قومی عبوری کونسل کے ایک ترجمان کے مطابق یہ دونوں رہنما باغیوں کے گڑھ بن غازی کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے آج طرابلس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قذافی مفرور ہیں، لیبیا کی شہری آبادی کے تحفظ کے لیے اِس ملک میں نیٹو کی کارروائی ابھی جاری رہے گی۔ ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کے روز کی پریس کانفرنس میں لیبیا کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا انقلاب تھا، ان کا نہیں۔ یہ مصراتہ، بن غازی، بریقہ، زلنتان اور طرابلس کے بہادر عوام تھے، جنہوں نے قذافی کی ہولناک آمریت کو سر سے اُتار پھینکا اور وہ اُنہیں خراج تحسین پیش کرتا ہیں۔اِس پریس کانفرنس میں قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبد الجلیل کے ساتھ ساتھ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی بھی شریک تھے۔ فرانسیسی ریزرو پولیس کے 160 اہلکار گزشتہ شام ہی پیرس سے طرابلس پہنچ گئے تھے۔ اِن اہلکاروں کو نہ صرف اپنی شناختی دستاویزات فرانس ہی میں چھوڑنا پڑیں بلکہ جیسا کہ اُن میں سے چند ایک نے بتا دیا کہ اُنہیں کوئی کیمرہ یا موبائل فون بھی ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم یہ لوگ بلٹ پروف جیکٹیں پہنے ہوئے تھے اور اِن   کے طرابلس پہنچنے کا مقصد وہاں اپنے صدر نکولا سارکوزی کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ایلی زے پیلس سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے اِس دورے کی تیاریاں عمل میں لائی جا رہی تھیں۔یہ بات یقینی تصور کی جا رہی تھی کہ سارکوزی معمر القذافی کی معزولی کے بعد پہلی فرصت میں طرابلس پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ وہ خود کو قذافی کے خلاف نیٹو کی جنگ کا اصل محرک سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فرانس کے بغیر لیبیا اپوزیشن کی ایک خونی قبر کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ سارکوزی نے کہا کہ  ان کی کارروائیوں کی بدولت دَسیوں ہزار لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا ہے، اور  یہ چند دنوں کی نہیں بلکہ چند گھنٹوں کی بات تھی اور اِس کی کوئی تردید نہیں کر سکتا۔اپنے آج کے تاریخی دورے کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیمرون اور سارکوزی نے ایک بار پھر یقین دلایا کہ لیبیا کے اربوں ڈالر کے مزید منجمد اثاثے بحال کر دیے جائیں گے۔ اس دورے کا مقصد قومی عبوری کونسل کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اُس کی پوزیشن کو مستحکم بنانا ہے۔

اسرائیل نے عارضی طور پر اردن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق اِس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اردن کے دارالحکومت عمان میں واقع اسرائیلی سفارت خانے پر بھی ویسا ہی حملہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ گزشتہ ہفتے مصری دارالحکومت قاہرہ میں ہوا تھا۔ اُردن میں سیاسی کارکنوں نے آج جمعرات کو اسرائیلی سفارت خانے کی جانب ’ملین مارچ‘ کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ دارالحکومت عمان کے اسرائیلی سفارت خانے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے والا عملہ بدستور موجود رہے گا۔ اِس طرح اِس وقت کسی بھی ہمسایہ عرب ملک میں کوئی اسرائیلی سفیر موجود نہیں ہے۔

شیخ الازہر مصر نے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو مستقل حیثیت دیئے جانے کی درخواست کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی جانب سے ویٹو پاور استعمال کرنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔  فارس نیوز ایجنسی کے مطابق شیخ الازہر مصر جناب احمد الطیب نے تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو مستقل حیثیت دلوانے میں اسکی حمایت کریں اور امریکہ کی جانب سے ویٹو کا اختیار استعمال کرنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے یہ بات فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ جناب محمود عباس سے اپنی ملاقات میں کہی۔ جناب احمد الطیب نے فلسطینی ریاست کو مستقل حیثیت دلوانے کیلئے اقوام متحدہ سے درخواست کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی جانب سے یہ درخواست ویٹو کئے جانے کا مقابلہ کریں۔  شیخ الازہر مصر نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک اور اسی طرح وہ ممالک جو اقوام متحدہ میں اثر و رسوخ کے حامل ہیں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ابومازن کی مدد کریں اور امریکہ کے خلاف جو ہمیشہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کی حمایت کرتا آیا ہے اٹھ کھڑے ہوں۔ جناب احمد الطیب نے فلسطین اور بیت المقدس کی ھمہ جہت حمایت کو تمام مسلمانوں کا شرعی وظیفہ قرار دیتے ہوئے دولتمند اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصی کی حفاظت اور حمایت کیلئے موثر اقدامات انجام دیں۔

تہران:  عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں وہابیت کی مخالفت نہ صرف ہماری طرف سے ہے بلکہ وہاں کے تمام مکاتب فکر اور مذاہب اسلامیہ بھی اس نام نہاد اور جعلی فرقہ کے مخالف ہیں، جبکہ ہمارے اہل سنت کی تمام تر سیاسی مذہبی جماعتوں سے مضبوط رابطے اور اچھے تعلقات ہیں۔ اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے تہران میں منعقدہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے پانچویں اجلاس کے دوران اپنے اہم خطاب میں پاکستان کے شیعوں کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام میں اہل تشیع کی آبادی 15 سے 20 فیصد ہے اور وہ تمام مکاتب فکر کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کر رہے ہیں اور پاکستان میں کسی قسم کا شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم شیعان پاکستان کم و بیش ہمیشہ مشکلات سے دوچار رہے ہیں اور وہابیت کی طرف سے شیعہ مخالف گروہوں کی حمایت کی وجہ سے مختلف انداز میں اہل تشیع کیخلاف سیاسی و مذہبی سازشیں بھی ہوتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ دشمن کی سازش تھی کہ ہمیں اپنے حقوق سے محروم کر کے دوسرے درجے کا شہری قرار دے، یہاں تک کہ ہمارے خلاف ہونے والی ان سازشوں کا سلسلہ ایوان بالا میں پارلیمنٹ اور سینٹ تک لے جایا گیا، تاکہ وہاں پر اہل تشیع کیخلاف قانوں پاس کرائیں مگر ہم نے سختی سے ان کا مقابلہ کیا اور انہیں اس قسم کی کوئی کارروائی اور قانون پاس نہیں کرانے دیا۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں وہابیت کی مخالفت نہ صرف ہماری طرف سے ہے بلکہ وہاں کے تمام مکاتب فکر اور مذاہب اسلامیہ بھی اس نام نہاد اور جعلی فرقہ کے مخالف ہیں، جبکہ ہمارے اہل سنت کی تمام تر سیاسی مذہبی جماعتوں سے مضبوط رابطے اور اچھے تعلقات ہیں۔ لہذا پاکستان کے اندر کسی قسم کی کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے بلکہ وہاں پر مذہبی دہشت گردی اور آج کل ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ چلا ہوا ہے، جس کے نتیجہ میں ہماری قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور اس ٹارگٹ کلنگ و مذہبی دہشت گردی کے پیچھے خفیہ طاقتیں ہیں، جو ان شیعہ مخالف گروہوں کو سپورٹ کرتیں ہیں اور ان خفیہ طاقتوں کے پنجے اتنے مضبوط ہیں کہ حکمران انکے سامنے بے بس اور بے چارے دکھائی دیتے ہیں۔

انجمن علمائے فلسطین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی اسرائیل کی جانب سے اسکے نیچے کھدائی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔  فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انجمن علمائے فلسطین کے سربراہ شیخ حامد البیتاوی نے فلسطینی قوم، مسلمانان عالم اور عرب ممالک سے مسجد اقصی کو درپیش خطرات کا بھرپور انداز میں مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کرانہ باختری میں فلسطینی اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کے ساتھ امن مذاکرات اور سکورٹی ہمکاری کو ختم کرے اور اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے میں آزاد چھوڑے۔ شیخ حامد البیتاوی نے تاکید کی کہ اسرائیل نے 1967 میں فلسطین پر قبضہ کرنے کے بعد سے لیکر اب تک منصوبہ بندی کے ذریعے بیت المقدس کو یہودیانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور مسجد اقصی کے نیچے کھدائی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کے نیچے کھدائی کے باعث مسجد کی دیواروں اور ستونوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور شہید ہونے کے قریب ہے۔ انجمن علمائے فلسطین کے سربراہ نے کہا کہ غاصب صہیونیستی رژیم مصنوعی زلزلے کے ذریعے مسجد اقصی کو مسمار کرنے اور اسکی جگہ یہودیوں کا معبد تعمیر کرنے کی مذموم سازش بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے کرانہ باختری میں دیوار بنا کر قدس شریف کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور اس طرح اس مقدس شہر کو عرب مسلمانوں سے خالی کروا رہا ہے۔ شیخ حامد بیتاوی نے کہا کہ اسرائیل کرانہ باختری کے مسلمانوں کو مسجد اقصی جا کر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ صہیونیست بستی نشینوں کو مسجد اقصی کے صحن تک جانے اور مسجد کی توہین کرنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔ شیخ حامد البیتاوی نے ملت فلسطین اور عرب و اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ سب متحد ہو کر مسجد اقصی کے حق میں مظاہرے کریں اور اپنی حکومتوں کو اسرائیل کے خلاف شجاعانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک میں اسرائیلی سفارتخانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

سابق امریکی وزیر خزانہ لارنس سمرز نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ٹوٹ رہا ہے اور اگر حکومت نے بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے بہتری کیلئے موثر اقدامات نہ کئے تو یہ زوال جاری رہے گا۔  فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کے سابق وزیر خزانہ لارنس سمرز نے امریکی اخبار نیوزویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں شدید معاشی بحران کے باعث ملک ٹوٹ رہا ہے اور اس بحران کے خاتمے کیلئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جناب لارنس سمرز جو سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں امریکی وزیر خزانہ تھے نے کہا کہ امریکہ میں اس وقت کروڑوں افراد بے روزگاری کا شکار ہیں۔ انہوں نے صدر براک اوباما کی جانب سے اقتصادی بحران پر قابو پانے کیلئے شارٹ ٹرم منصوبہ بندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو 1 سالہ منصوبہ بندی کی بجائے 10 سالہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ سابق امریکی وزیر خزانہ نے صدر اوباما کی جانب سے تازہ ترین تقریر میں ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے عزم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایسی باتیں بیان کی ہیں جو سب جانتے ہیں اور سب پر واضح ہیں اور وہ یہ کہ جب تک محصولات کی طلب میں اضافہ نہیں ہو گا کمپنیز نئے افراد بھرتی نہیں کریں گی۔ جناب لارنس سمرز نے کہا کہ محصولات کی طلب میں اضافے کیلئے ضروری ہے کہ ملک کے ٹوٹتے ہوئے انفرا اسٹکچر کی تعمیر نو کی جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایسی صورتحال میں جب حکومت 2 فیصد سے کم سود پر 10 سال تک قرض لے سکتی ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح بھی 10 سے اوپر ہے انفرا اسٹرکچر کیلئے سرمایہ کاری ممکن نہیں اور یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ اس سرمایہ کاری کا وقت کب آئے گا۔ امریکہ کے سابق وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے موثر اقدامات انجام نہیں دیتی تو امریکہ کی معاشی صورتحال نہ فقط سال جاری بلکہ آئندہ سالوں میں بھی بد سے بدتر ہوتی جائے گی۔

قائد انقلاب اسلامی ایران نے خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک کو بڑی سیاسی تبدیلی کا آغاز اور دنیا پر اسلام کی حاکمیت کا مقدمہ قرار دیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مشہد مقدس میں عالمی اہلبیت ع اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک بڑی سیاسی تبدیلی اور اسلامی کی حکمرانی کا مقدمہ ہے اور پیروان اہلبیت علیھم السلام کا موقف اس اسلامی بیداری کی تحریک کی حمایت ہے۔ قائد انقلاب اسلامی ایران نے مکتب اہلبیت علیھم السلام کی صلاحیتوں اور برتری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم اور ملک جو دنیا میں پہلی بار اسلام اور قرآن کی بنیاد پر سیاسی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے پیروان اہلبیت علیھم السلام میں سے ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ آج مسلم ممالک کے نوجوان اپنی آرزووں کی تکمیل کیلئے مغربی فکری نظام کی بجائے اسلامی تعلیمات کا سہارا لے رہے ہیں اور یہ افتخار ملت ایران کی جانب سے اسلامی انقلاب برپا کرنے کی برکت سے معرض وجود میں آیا ہے۔ ولی امر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مصر، تیونس، لیبیا، بحرین اور یمن میں حالیہ اسلامی بیداری کی تحریکوں کو الطاف خداوندی کا نمونہ قرار دیا اور تاکید کی کہ ہمارا موقف ان تحریکوں کی حمایت اور انہیں مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلامی بیداری کی یہ تحریکیں حقیقی دشمن قوتوں یعنی اسرائیل اور امریکہ کے تسلط کے مکمل خاتمے کا باعث بنیں گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کو درپیش خطرات سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک مختلف اسلامی فرقوں جیسے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شیعہ سنی اختلافات بین الاقوامی سیاسی مقاصد کی خاطر ایجاد کئے جاتے ہِیں کہا کہ عالمی استکباری قوتیں اسلام فوبیا کے ساتھ ساتھ شیعہ فوبیا کی مہم بھی چلا رہی ہیں اور ان سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے کہ پیروان اہلبیت علیھم السلام امت مسلمہ کے درمیان وحدت اور اتحاد کا عقیدہ رکھتے ہیں کہا کہ امت مسلمہ کی خوشبختی اسکے اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مغربی مکاتب فکر کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اور غیرمسلم معاشروں تک جدید ضروریات کے مطابق دینی تعلیمات اور معارف اہلبیت علیھم السلام پہنچانے کی ضرورت ہے۔  قائد انقلاب اسلامی ایران نے کہا کہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیاں روشن مستقبل کی نوید دلاتی ہیں اور اس روشن مستقبل کی علامات واضح ہو چکی ہیں۔

لاہور: امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے پاکستان کو ناقابل اعتماد اتحادی قرار دئیے جانے پر ردعمل میں پاک فوج کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم پر ناقابل اعتماد ہونے کا الزام وہ لگا رہے ہیں جن کی سرشت میں بے وفائی ہے۔ ہم نے امریکہ کی ناراضگی کی پروا کئے بغیر روس، چین اور ایران سے تعلقات بہتر بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ امریکہ کے لئے ناقابل برداشت ہے۔  پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ امریکی لفظ وفا سے آشنا ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے آج تک کبھی کسی دوست سے وفا کی ہی نہیں۔ اب پاکستان کے فیصلہ سازوں کی بھی سوچ بدل گئی ہے۔ ہم نے امریکہ کی ناراضگی کی پروا کئے بغیر روس، چین اور ایران سے تعلقات بہتر بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ امریکہ کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے پاکستان کو ناقابل اعتماد اتحادی قرار دئیے جانے پر ردعمل میں اسلم بیگ نے کہا کہ ہم پر ناقابل اعتماد ہونے کا الزام وہ لگا رہے ہیں جن کی سرشت میں بے وفائی ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے روس کی واپسی کے بعد ہمیں اور افغانیوں کو پس پشت ڈالا۔ روس کے خلاف لڑنے والے جہادیوں کو انتقال اقتدار میں حصہ بھی نہیں دیا اور اقلیت کو جہادیوں کے اوپر لا کر بٹھا دیا۔ روس سے لڑنے اور قربانیاں دینے والوں کی جگہ احمد شاہ مسعود اور ربانی کو بٹھا دیا گیا۔ جس کے بعد امریکہ نے آپس میں لڑائی کرا دی۔ پھر بغیر کسی جرم کے افغانستان میں چڑھ دوڑا۔ سابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ آج جب امریکہ ہار چکا ہے اور افغانستان سے بھاگ رہا ہے تو چاہتا ہے کہ جیتنے والوں کو اقتدار میں پھر حصہ نہ ملے۔ امریکہ نے افغانستان اور ہمارے ساتھ دھوکے پر دھوکہ کیا ہے۔ ہماری تمام قربانیاں نظرانداز کر دی ہیں۔ ہمارے 30 ہزار معصوم بے گناہ مرد، عورتیں، بچے مارے گئے اور 3 ہزار سے زائد فوجی شہید ہوئے ہیں۔ پھر بھی کہتا ہے کہ ہم نے حق دوستی ادا نہیں کیا۔ جنرل مشرف نے امریکی دباو پر افغانستان کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر جو بدترین فیصلہ کیا اس سے بڑی قربانی کیا ہو گی، مگر امریکہ نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا۔ اسی وجہ سے آج افغانستان کے طالبان ہم پر اعتماد نہیں کرتے اور ہم نتائج بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیں دھونس، دباو سے اپنی جنگ میں شریک کیا اب امریکی مر رہے ہیں تو خود بھگتیں۔  اسلم بیگ نے کہا کہ امریکہ کا برا وقت آ چکا ہے جسے وہ اب بھگتے گا۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں طالبان کے ہیڈ کوارٹر کی بات غلط ہے، انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے لئے کراچی میں بدامنی پیدا کی، مگر وہ ناکام ہو گیا ہے۔ ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی حکومت سے جدا کر کے مسلم لیگ (ن) کو پیغام دیا گیا تھا کہ اکٹھے ہو کر زرداری کی حکومت گرا دو۔ امریکیوں کا مقصد یہ تھا کہ مرضی کی حکومت لا کر جنرل کیانی کو گھر بھیجا جائے، مگر سازش ناکام ہو گئی کیونکہ اب جنرل کیانی اور آصف زرداری دونوں امریکہ کی بات ماننے پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم مواقع پر امریکہ لیڈروں کو مروا بھی دیا کرتا ہے، جیسے ذوالفقار بھٹو، شاہ فیصل اور ضیاءالحق کو مروایا تھا۔ اب بھی ہمارے لیڈر خطرے میں ہیں۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ ہم اس کی مقرر کردہ حدود سے باہر نکلیں۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری شعبہ فلاح و بہبود نثار فیضی کا کہنا ہے کہ کراچی میں فنڈ ریزنگ تحریک شروع کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ کراچی کی مخیر شخصیات اپنی سابقہ شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبودو انچارج خیر العمل فائونڈیشن نثار فیضی نے کراچی ڈویژن کا ایک روزہ تنظیمی دورہ کیا، اس دوران انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنوں اور عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ فلاح وو بہبود کی فعالیت اور دیگر تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں دہشت گردوں کے مظالم کا نشانہ بننے والے محصورین پارا چنار کی امداد خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ الحمدللہ اس ضمن میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا اور قوم کے سامنے سرخرو ہوئی، انہوں نے کہا کہ اب ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے سندھ اور بلوچستان کے شدید بارشوں سے متاثرہ افراد کھلے آسمان تلے ہماری مدد کے منتظر ہیں، انشاء اللہ ایم ڈبلیو ایم امتحان کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ نثار فیضی کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے بیس کیمپ کراچی میں تھا اور زندہ دلان کراچی نے اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے فلاحی خدمات کی نئی تاریخ رقم کی۔ نثار فیضی نے بتایا کہ امسال بھی طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کراچی میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے اور انشاء اللہ اس ضمن میں بھر پور اور موثر مہم چلائی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں تسلسل کے ساتھ امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے ریلیف کیمپ قائم کیے جارہے ہیں جہاں آئندہ چند دنوں میں ایک ہزار خاندانوں کو خوراک کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کراچی میں فنڈ ریزنگ تحریک شروع کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ کراچی کی مخیر شخصیات اپنی سابقہ شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری فلاح و بہبود نے اپنے اس دورہ کے دوران کراچی کی ممتاز سماجی شخصیات، اور جید علمائے کرام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

اسلام آباد: آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نیٹو دفاع سے متعلق سربراہان کے اجلاس میں شریک ہونگے اس موقع پر وہ اسپین اور نیٹو ممالک کے عسکری حکام سے ملاقاتیں کریں گے آرمی چیف پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ سے متعلق نیٹو دفاعی سربراہان کو بریفنگ دیں گے۔  چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نیٹو کی ڈیفنس فورسز کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے سپین چلے گئے۔ دو روزہ دور میں وہ سپین کی افواج کی قیادت اور نیٹو کمانڈروں سے ملاقاتیں کریں گے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار سے آگاہ کریں گے۔ ان کے نقطہ نظر کو اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ دی نیشن کے مطابق افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں ایساف فورسز نے افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا یہ عزم جنرل کیانی کے دورہ سپین سے پہلے ظاہر کیا گیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے افراد عموماً کنٹر اور نورستان سے سرحد پار کر کے پاکستان آتے ہیں، وہاں ان کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔

واشنگٹن: ستمبر 2008ء میں ریاست مہاراشٹر کے مالیگاوں دھماکوں پر پولیس نے ہندو دہشتگرد سیل کے 9 ارکان کو ان حملوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا۔ رواں سال ہندو پنڈت سوامی اسیم آنند نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ یہ اعتراف نہ صرف بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پریشانی کا باعث تھا بلکہ اس سے اس تجزیے کو تقویت ملی کہ ہندو دہشتگردی بھارت کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے امریکی کانگریس نے پاکستان سے دہشت گردی کے فروغ پانے کا واویلا کرنے والے بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہا پسند ہندو قوم پرست گروہ ملک کے اندر دہشتگردی کے حملوں کے عزائم رکھتے ہیں۔ امریکی کانگریس کی 94 صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے اندر سے اسلامی دہشتگردی کا خطرہ پروان چڑھ رہا ہے اگرچہ نئی دہلی کھلے عام اس کو تسلیم کرنے سے کترا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت انتہا پسند ہندو قوم پرست گروپوں کا گڑھ ہے جہاں وہ دہشت گرد حملے شروع کررہے ہیں۔  رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر 2008ء میں ریاست مہاراشٹر کے مالیگاوں دھماکوں پر پولیس نے ہندو دہشتگرد سیل کے 9 ارکان کو ان حملوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا۔ رواں سال ہندو پنڈت سوامی اسیم آنند نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ یہ اعتراف نہ صرف بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پریشانی کا باعث تھا بلکہ اس سے اس تجزیے کو تقویت ملی کہ ہندو دہشتگردی بھارت کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ ہندو انتہا پسندی ایک نیا معاملہ ہے جو بھارت میں زیر بحث ہے اور بہت سے بھارتی مبصرین کے مطابق ہندو قوم پرست سیکولر قوم کیلئے خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں نکسل اور ماو نواز باغیوں کی پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹ میں میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت کے رہنما دہشتگردی کے واقعات میں تواتر کے ساتھ پاکستان کا نام لیے جارہے ہیں تاہم بھارت کے اندر سے اسلامی دہشتگردی کا خطرہ پروان چڑھ رہا ہے اگرچہ نئی دہلی کھلے عام اس کو تسلیم کرنے سے کترا رہی ہے۔ ان میں سرکردہ گروپ انڈین مجاہدین اور بھارتی طلبہ کی تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا متعدد حالیہ بم حملوں میں ملوث ہیں۔ سی آر ایس کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلم اقلیت مسلسل سماجی نا ہمواریوںٍ کا شکار ہے جس کا خطرہ ہے کہ اس کے بعض لوگ انڈین مجاہدین یا پھر کسی اور گروپ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

لاہور:   خصوصی ذرائع کے مطابق جیش محمد کے چیف مسعود اظہر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے بھارت کو مطلوب ہیں، بھارت کے مطالبے کے بعد کہ مولانا مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کیا جائے، مولانا مسعود اظہر نے بہاولپور میں ماڈل ٹاؤن کے ہیڈ کوارٹر کو بند کرکے جنوبی وزیرستان میں عارضی طور پر اپنی سرگرمیوں کے لئے منتقل کر دیا تھا پاکستان اور بھارت کے مابین امن مذاکرات میں پیش رفت کے عین موقع پر جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نمودار ہوئے ہیں اور چندہ جمع کرنے سے لے کر نئی بھرتیوں کے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ دسمبر 2008ء میں مولانا مسعود اظہر کی نقل وحرکت کو محدود کرتے ہوئے انہیں بہاولپور کے ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ان کے کثیر المنزلہ کمپاؤنڈ جس میں سینکڑوں مسلح افراد پناہ گزیں ہیں میں نظر بند کر دیا گیا تھا، حکومت پاکستان کو یہ اقدام اس لئے کرنا پڑا کہ بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ مسعود اظہر، داؤد ابراہیم اور حافظ محمد سعید کو حوالے کیا جائے۔ اپریل 2009ء میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے اعلان کیا کہ مولانا مسعود اظہر لاپتہ ہیں اور اسلام آباد کسی مجرم کو پناہ نہیں دے گا۔ بھارت کے سابق وزیر خارجہ پرتاب مکھر جی نے پاکستانی دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان سے متضاد اطلاعات موصول ہوتی ہیں اور جن سے بھارتی حکومت متفق نہیں ۔’’اسلام ٹائمز‘‘ کے باخبر عسکری ذرائع کے مطابق مولانا مسعود اظہر وزیرستان سے واپس اپنے بہاولپور ہیڈ کوارٹر پہنچ کر اپنی سرگرمیاں شروع کر چکے ہیں، جیش محمد کے سربراہ کھلے عام اپنے مدارس میں سینکڑوں بچوں کو اسلام کی نئی تشریحات کا درس دیتے ہیں۔  ذرائع کے مطابق جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر اور مدرسہ میں ایسے بنکرز اور سرنگیں تیار کی گئی ہیں جیسے بنکرز اور سرنگیں اسلام آباد کی لال مسجد کے مدرسہ فریدیا اور جامعہ حفضہ میں موجود تھیں اور جنہیں جولائی2007ء میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے تباہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مسعود اظہر کو بہاولپور واپسی اور جہادی سرگرمیوں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مولانا مسعود اظہر کے قریبی عزیز رشید رؤف کو بھول گئی جو عدالت سے ٹرائل کے دوران فرار ہو گیا تھا اور اس نے اگست 2006ء میں لندن ائیر پورٹ سے پرواز کے بعد ٹرانس ایٹلانٹک طیارہ کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، رشید رؤف 22 نومبر 2008ء کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔  پاکستان کے سینئر سیکورٹی اہلکار تسلیم کرتے ہیں جیش محمد کے تعلقات القاعدہ، طالبان اور شمالی وزیرستان کے حقانی نیٹ ورک سے ہیں اور ان جہادی قوتوں کیساتھ مل کر جیش محمد کی جنگ افغانستان سرحد کے آر پار ’’کافروں‘‘ کے خلاف جاری ہے۔ مولانا اظہر مسعود نے 2000ء میں بھارتی جیل سے رہائی کے بعد جیش محمد قائم کی تھی اور ان کی یہ رہائی کشمیری مجاہدین کی جانب سے ایک بھارتی طیارے کے اغواء کے بعد ہونے والے سودے باز ی کے نتیجہ میں عمل میں آئی تھی، اس طیارے کو ہائی جیک کرنے والوں کی قیادت مولانا مسود اظہر کے چھوٹے بھائی نے کی تھی، رہائی کے بعد مولانا مسعود اظہر نے کراچی میں دس ہزار افراد کا جلسہ کیا اور بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ مسعود اظہر نے کہا کہ مسلمانوں کو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک وہ بھارت اور امریکہ کو تباہ وبرباد نہ کر دیں۔ مولانا مسعود ایک اور تنظیم دیوبند حرکت انصار کا بھی مقلد تھا، جس پر 1999ء میں امریکہ نے القاعدہ سے تعلق ہونے کے باعث پابندی عائد کر دی تھی، بعد ازاں اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کرکے حرکت المجاہدین کر لیا۔  جیش محمد کو پاکستان میں بڑے بڑے دیوبندی عالموں کی حمایت حاصل رہی ہے، خاص طور پر کراچی کے جامعہ بنوری کے مفتی نظام الدین شاستری اور سپاہ صحابہ کے چیف کمانڈر یوسف لدھیانوی جیش کے مدد گار ہیں۔ 2005ء میں لندن میں ہونے والے خود کش حملوں کی تحقیقات کرنے والے برطانوی خفیہ اداروں نے حکومت پاکستان کو بتایا کہ چار خودکش بمباروں میں سے دو شہزاد تنویر اور صدیق خان نے فیصل آباد میں جیش محمد کے خود کش ٹرینر اسامہ نذیر سے ملاقات کی تھی، 2007ء میں جب پاک بھارت بات چیت کا عمل سست پڑ گیا تو مسعود اظہر کے چھوٹے بھائی مفتی عبدالرؤف کی قیادت میں جیش محمد کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں بہت سے کامیاب حملے کیے اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کو تربیت دینے کیلئے راولپنڈی میں مفتی عبدالرؤف کو سہولتیں فراہم کی گئیں۔

بھکر:  جامع مسجد دریا خان میں احتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ شیعیان حیدر کرار کا امتحان نہ لیا جائے، بد نام زمانہ دہشتگرد ملک اسحاق کی رہائی کے بعد سندھ اور جنوبی پنجاب میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازشیں زور پکڑ چکی ہیں۔  مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر ضلع بھکر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے در پے ہیں، ان کی سازشوں کا راستہ روکنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، حکومت پنجاب شیعیان حیدر کرار کا امتحان لینے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، انہوں نے ان خیالات اظہار مرکزی جامع مسجد دریا خان میں اجتماع سے خطاب کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ دریا خان میں گزشتہ چند مہینوں سے کالعدم تنظیم کے شرپسند اپنی مذموم کاروائیوں میں مصروف ہیں، گزشتہ چھ ہفتوں میں دو شیعہ نوجوانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا اور قانوں پر عملداری کے ذمہ داران ٹس سے مس نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے شرپسندوں کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں اور علاقہ میں آئے روز جلسے اور ریلیاں منعقد کر کے شیعیان حیدر کرار کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ بازی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بدنام زمانہ دہشتگرد ملک اسحاق کی رہائی کے بعد سندھ اور جنوبی پنجاب میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازشیں زور پکڑ چکی ہیں، ملک اسحاق کا 25 ستمبر کا دورہ بھکر بھی انہی سازشوں کا حصہ ہے اس لیے ضلعی پولیس و انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لے۔

بھکر: مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے اسلام ٹائمز کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ چہلم کی تقریب میں انتظامیہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ضلع کا امن خراب ہونے سے بچائے، شہید کی رسم چہلم میں بھکر کے کونے کونے سے مومنین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ کالعدم تنظیم نے بھکر میں 25 ستمبر کو جلسہ کا پروگرام بنایا ہے جس کے تناظر میں ملت تشیع نے دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مہدی رضا کے چہلم کی تقریب بھی اسی روز منعقد کرنے کا اہتمام کیا ہے، مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے اسلام ٹائمز کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 25 ستمبر کو بھکر میں کالعدم جماعت کا جلسہ ہے جس میں دہشتگرد ملک اسحاق بھی شرکت کرے گا، اسی روز ہم نے دریا خان میں شہید مہدی رضا کا چہلم رکھا ہے، جس میں انشاء اللہ ضلع بھکر کے تمام علاقوں سے مومنین کی ایک بڑی تعداد شرکت کرے گی، اس اجتماع میں ہم انتظامیہ کو یہ پیغام دیں گے کہ بھکر کا امن خراب ہونے سے بچایا جائے اور اگر 25 ستمبر تک شرانگیز ریلی کے ملزموں کی گرفتاری نہ ہوئی تو ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

اسلام آباد: پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ وہ ٹرائبل یونین جرنلسٹ پاراچنار کے صحافیوں پر تشدد، زدکوبی اور ان کی گرفتاری پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور یہ حکومت کی میڈیا پر قدغن کے مترادف ہے۔ ہم تمام ہیومن رائٹس کے اداروں اور پاکستان کے تمام صحافی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیں  نیشنل پریس اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسیلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری، سیکر ٹری جوانان علامہ اعجاز حسین بہشتی، نثار فیضی، یوتھ آف پارچنار کے رہنماء شبیر ساجدی، ڈویژنل صدر آئی ایس او راولپنڈی تقی حیدر اور دیگر کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کو اس وقت کئی سنگین مسائل درپیش ہیں جہاں ایک طرف اندرونی انتشار، خلفشار، انارکی، معاشی ابتری اور سندھ میں بارشوں کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والے ان گنت مسائل شامل ہیں وہاں دوسری طرف بیرونی سطح پر بھی کئی دشمن طاقتیں پاکستان کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں، وطن عزیز ہر طرف سے داخلی اور خارجی محاذ پر وطن فروش افراد کے ہاتھوں گھرا ہوا ہے۔ ان حالات میں حکمران اور سیاسی جماعتوں کی صرف اپنے مفادات کے گرد گھومتی حکمرانی اور سیاست نے دشمنوں کا کام اور آسان کر دیا ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ ملک کے مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے سیاسی قائدین اور حکمران عوام کو مسائل کے دلدل سے نکالنے کی بھرپور کوشش کرتے اور اجتماعی سوچ کو اپناتے ہوئے ملک کو درپیش مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے اپنے اختلافات اور مفادات کو پس پشت ڈال دیتی لیکن یہاں ہر کوئی مفادات کی گنگا میں اشنان کرنے کیلئے لنگوٹ کسے نظر آرہا ہے اور اس وقت جس طرح کی آفات کا پاکستانی قوم کو سامنا ہے اس کے لیے خدا کی بارگاہ میں اجتماعی توبہ کرتے ہوئے اپنے اجتماعی رویوں میں جوہری تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سالوں سے پاراچنار کی واحد شاہراہ (ٹل پاراچنارروڈ)مکمل طور پر غیر محفوظ اور بند ہے۔ یہ وہ واحد زمینی راستہ ہے جو پاراچنار کو پشاور سے ملاتا ہے۔ اس کی بندش کی وجہ سے پورا علاقہ پاکستان سے کٹ گیا ہے اور پانچ لاکھ سے زائد کی آبادی محصور ہوکر رہ گئی ہے۔ پاراچنار اس وقت ایک انسانی المیے کا شکار ہے وہاں عوام کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے لوگوں کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ لاکھوں معصوم طالبعلموں کا تعلیمی کیرئیر داؤ پر لگا ہوا ہے۔ روزمرہ ضروریات زندگی ناپید ہو چکی ہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمیں آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ہے۔ معصوم بچے اور مریض ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ لوگ فاقوں پر مجبور ہے۔ آئے روز لوگوں کو نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر طرح سے ان کا استحصال ہو رہا ہے۔ ان تمام مشکلات کی بنیادی وجہ ٹل پاراچنار روڈ کی بندش اور غیر محفوظ ہونا ہیں۔ عوامی احتجاج پر سیکورٹی فورسز نے کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا اور کرم ایجنسی کے تمام قبائل بالخصوص طوری و بنگش قبیلے نے ان کی حمایت کا بھرپور اعلان کیا۔ کورکمانڈر پشاور نے کرم ایجنسی کا دورہ کیا اور آپریشن کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن کا بنیادی مقصد ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بنا کر کھولنا، دہشت گرد طالبان کا علاقہ سے مکمل خاتمہ، دہشت گرد طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا، اغوائے برائے تاوان کی وارداتوں کے سلسلے کو روکنا اور علاقے میں مکمل امن و امان قائم رکھنا شامل تھا۔ فوجی آپریشن ہوا۔ آرمی چیف نے دورہ کیا اور کامیاب آپریشن کے مکمل ہونے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ عیدالفطر سے پہلے پہلے ٹل پاراچنار روڈ کو آرمی کی چیک پوسٹیں قائم کر کے کھولا جائے گا۔ ان تمام تر اعلانات اور برائے نام اقدامات کے باوجود پاراچنار کے حالات وہی ہیں جو 5 برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔ نہ ٹل پاراچنار روڈ کھلا اور نہ ہی کانواؤں پر حملے رُکے، نہ لوگوں کی قتل و غارت میں کمی آئی اور نہ ہی اغوائے برائے تاوان کا سلسلہ رکا۔ لوئر اور سنٹرل کرم پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے اور حکومتی عملدآری کا نام و نشان ہی نہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاراچنار کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس عید کے موقع پر پاراچنار کے رہائشی جو عید کی چھٹیاں منانے پاراچنار گئے تھے جن میں ہزاروں طلباء، ملازمت پیشہ افراد اور تارکین وطن شامل ہیں، آمدورفت کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کے باعث پاراچنار میں پھنس گئے ہیں۔ لوئرکرم کے علاقہ بگن میں موجود طالبان کمانڈر فضل سعید نے کھلے عام کانوائے کو چیلنج کر دیا ہے کہ وہ اس راستے سے کسی کو بھی نہیں گزرنے دیں گے۔ جس سے مسافروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ پانچ روز سے علاقہ مکین مسلسل احتجاج کر رہے ہیں کہ ان کو ’’محفوظ سفر‘‘ کا ذریعہ فراہم کیا جائے اور ہیلی کاپٹر یا C-130 سروس ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائے۔ اس عوامی احتجاج میں طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے لیکن پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ نے بجائے اس کے کہ وہ اس عوامی مطالبے پر غور کرے۔ پولیٹیکل ایجنٹ موصوف اور اس کے سٹاف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 6 کروڑ روپے سے زیادہ متاثرین کی رقم کو راتوں رات جعلی دستخط لے کر غبن پر پردہ ڈالنے کی خاطر نہ صرف یہ کہ پاراچنار پوسٹ آفس کو جلا دیا بلکہ نہتے طلباء پر لیوی فورس اور F.C کے ذریعے مسلسل ایک گھنٹے تک گولیاں برسائیں جس کے باعث تین طلباء زخمی ہوئے اور بعداز کل طلباء کے رہنماء اس واقعہ کی مذمت میں پاراچنار پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ پولیٹیکل انتظامیہ نے ان پر ہلہ بول دیا، ان پر تشدد کر کے انہیں زدوکوب کیا۔ 6 طلباء رہنماء سمیت ٹرائبل یونین جرنلسٹ کے 7 صحافیوں کو بھی گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ لہٰذا ہم صدر پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیں کیونکہ F.C کا یہ اقدام حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عوام کو احتجاج کا پورا حق حاصل ہے لہٰذا پولیٹیکل انتظامیہ سے فوری طور پر اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرکے ان کو برطرف کرے اور ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاراچنار کے مسئلے کو انسانی بنیادوں پر حل کیا جائے اور طالبان کے خلاف موثر آپریشن کرکے ٹل پاراچنار روڈ کو کھول دیا جائے اور وہاں پر محصور طلباء، ملازم پیشہ افراد اور تارکین وطن کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ہیلی کاپٹر  C-130 سروس شروع کی جائے۔ علامہ اصغر عسکری کا کہنا تھا کہ ہم ٹرائبل یونین جرنلسٹ پاراچنار کے صحافیوں پر تشدد، زدکوبی اور ان کی گرفتاری پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور یہ حکومت کی میڈیا پر قدغن ہے۔ ہم تمام ہیومن رائٹس کے اداروں اور پاکستان کے تمام صحافی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیں۔

دریا خان: پارٹی وفود کیساتھ بات چیت کے دوران جے یو آئی کے مرکزی امیر کا کہنا تھا کہ لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام خطرناک ہو گا، حکومت نے آمریت دور کی پالیسیوں پر عمل کر کے ملک کو نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔  جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی اور بلوچستان کے تناظر میں پاکستان کیخلاف سازش کی بو آ رہی ہے، لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام خطرناک ہو گا، حکومت نے آمریت دور کی پالیسیوں پر عمل کر کے ملک کو نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے مختلف وفود کیساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی اور بلوچستان کے حالات پر پوری قوم کو تشویش ہے، حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مسلسل تکلیف دہ فیصلے کر رہے ہیں، مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، صرف آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے غریب عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، حکومتی ایوانوں میں بیٹھنے والوں میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ اپنی ہی پارٹی کے رہنمائوں کے الزامات کا جواب دیں، آئندہ الیکشن کیلئے فرضی نعروں کی مہم چلائی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ میں بارشوں کے باعث متاثر ہونے والے افراد کی امداد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔

لندن: دارالامراء کے ممبران لارڈ نذیر احمد، لارڈ قربان حسین، لارڈ میئر ریاض بٹ اور برطانیہ میں کشمیری تنظیموں کے رہنماﺅں اور کونسلرز نے مسئلہ کشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں پہنچانے پر محبوب حسین بھٹی اور ممبر پارلیمنٹ سٹیو بیکر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے  مسئلہ کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ (آج) جمعرات کو بحث ہوگی۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ پر ہائی ویکمب کے رکن پارلیمنٹ اسٹیو بیکر اور سابق چیئرمین ہائی ویکمب کونسل محبوب حسین بھٹی نے باہم مشاورت سے اسے پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسٹیوبیکر اور کونسلر محبوب حسین بھٹی کی طرف سے کونسل سے قرار داد کے بعد دیگر ممبران پارلیمنٹ کی مدد سے اس رپورٹ پر بحث کیلئے جمعرات کو دوپہر 2 بجے سے 5 بجے تک (پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 تا 8 بجے ) کا وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ مسئلہ کشمیر پر برطانوی ہاﺅس آف کامنز (دارلعوام ) کے مرکزی چیمبر میں اسپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں بحث ہوگی۔ میر واعظ عمر فاروق، ممبر یورپی پارلیمنٹ جیمز ایلس سمتھ، مقبوضہ کشمیر، برطانیہ، یورپ اور دنیا بھر سے انسانی حقوق کے علمبردار اس تاریخی سیشن میں شرکت کریں گے۔ دنیا بھر کے کشمیری انٹر نیٹ کے ذریعے ویب سائیٹ http://www.bbc.co.uk/parliament پر یہ تاریخی بحث دیکھ سکیں گے۔  دارالامراء (ہاوس آف لارڈز) کے ممبران لارڈ نذیر احمد، لارڈ قربان حسین، لارڈ میئر ریاض بٹ اور برطانیہ میں کشمیری تنظیموں کے رہنماﺅں اور کونسلرز نے مسئلہ کشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں پہنچانے پر محبوب حسین بھٹی اور ممبر پارلیمنٹ سٹیو بیکر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ یاد رہے کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ جو ایک بھارتی باشندے کی تیار کردہ ہے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بھارتی حکومت بیس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کر چکی ہے جن پر کوئی فرد جرم عائد کی گئی اور نہ کسی عدالت میں کوئی مقدمہ چلایا گیا۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کی آڑ میں جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی دل ہلا دینے والی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے مقبوضہ علاقے میں دریافت ہونے والی اجتماعی گمنام قبروں، حریت رہنماﺅں کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی اور پابندیوں کے خلاف (کل) جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد پر امن مظاہروں کی کال دی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سری نگر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت اور قابض انتظامیہ نے میڈیا کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھا ہے اور اسے ریاستی دہشت گردی کا پردہ چاک کرنے والی خبروں کو شائع کرنے سے روکا جاتا ہے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ اوچھے ہتھکنڈوں کے نتیجے میں پکنے والا لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ وہ اجتماعی قبروں کے معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

لوئر دیر:  شہری اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جنازے میں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔  لویر دیر کے علاقے ثمر باغ میں سدبر کلے گاؤں کے قبائلی رہنما کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا خودکش تھا۔ دھماکے میں 35 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق لوئر دیر کے علاقے جندال ثمر باغ میں نماز جنازے کے دوران خودکش حملے کے دوران 35 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جنازے میں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد :  وکی لیکس نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں صدر آصف علی زداری کی ذاتی اور سیاسی شخصیت، ان کی کچن کیبنٹ اور سیاست کے انداز کا تفصیلی خاکہ بیان کیا گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق صدر زرداری کا تعلیمی پس منظر معمولی نوعیت کا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق 90ء کی دہائی میں تحقیرانہ انداز میں ”مسٹر 10 پرسنٹ“ کے طور پر جاننے والے آصف علی زرداری کو 11 سالہ اسیری نے ذہنی طور پر پختہ کر دیا۔ پرویز مشرف کے مشیروں کا کہنا ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں زرداری کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ زرداری سیدھے اور عملی سودے باز ہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہیں پاکستانی سیاست کی بازنطینی بھول بھلیوں پر عبور حاصل نہیں۔ مراسلے کے مطابق زرداری نے ابتداء میں بے نظیر بھٹو کے عملے اور مشیروں کو ساتھ رکھا تاہم آہستہ آہستہ ان میں سے چند کو اپنے دوستوں، بچپن اور جیل کے ساتھیوں کے لئے دور کرنا شروع کر دیا۔ زرداری تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بے نظیر نہیں ہیں اور پارٹی حلقوں میں زرداری کی پی پی پی کے سربراہ ہونے کی اہلیت سے متعلق مسلسل ابہام پایا جاتا ہے۔ مراسلے کے مطابق زرداری قانونی مشورے فاروق نائیک اور سینیٹر لطیف کھوسہ سے لیتے ہیں، زرداری انتظامی مشورے حسین حقانی سے لیتے ہیں جو امریکہ میں ان کے معاملات سنبھالتے ہیں، حسین حقانی زرداری کو خارجہ امور پر رہنمائی بھی دیتے ہیں، زرداری معاشی رہنمائی سید نوید قمر اور احمد مختار سے لیتے ہیں۔ زرداری قبیلہ کی تاریخ بتاتے ہوئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ زرداری قبیلہ کا تعلق ایرانی بلوچستان سے ہے جوکئی صدیاں قبل نواب شاہ میں آباد ہوگیا، آصف علی زرداری کا خاندان چھوٹی زمینوں کا ملک ہے۔ سفارت خانے کے ذرائع تجویز کرتے ہیں کہ سندھی اشرافیہ کے ساتھ زرداری قبیلہ کی سماجی حیثیت کم ہے۔ سندھیوں کو بچپن میں کہانی سنائی جاتی ہے کہ اگر کوئی چیز گم ہوگئی ہے تو وہ کسی زرداری نے چوری کی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ زرداری نے جیسے گیلانی کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے منتخب کیا اس سے ان کا موجودہ قیادت کا انداز ظاہر ہوتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے تین روز بعد ایک پریس کانفرنس میں زرداری نے عوامی سطح پر یہ اشارہ دیا تھا کہ وزیراعظم کے عہدے کے لئے امین فہیم پی پی کے امیدوار ہوں گے تاہم پارٹی مشاورت کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ امین فہیم برا انتخاب ہیں۔ انہوں نے سفیر کو بتایا کہ امین فہیم نے مہم کا زیادہ وقت دبئی میں گزارا اور وہ وزیراعظم کے عہدے کے لئے سست ہیں۔ دیگر کا کہنا ہے کہ امین فہیم کا خاندان سماجی اور روحانی طور پر زرداری کے خاندان سے برتری رکھتا ہے اور ان کے درمیان سماجی فرق نے بھی اس ضمن میں کردار ادا کیا۔ زرداری 1997ء سے 2004ء تک بدعنوانی سے لے کر قتل تک کے الزامات میں جیل رہے تاہم ان کا موقف ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے۔ مراسلے میں سوئس اکاؤنٹس کا بھی ذکر ہے۔

جمعرات آٹھ ستمبر کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ کے مشرقی علاقوں میں آنے والے ریکارڈ زلزلے نے ایک نیوکلیئر پلانٹ کو دو بار اُتنی شدت سے ہلا کر رکھ دیا، جتنی شدت کو برداشت کرنے کے لیے اُسے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ یہ بات امریکہ میں جوہری سلامتی کے ادارے NRC کے ایک ترجمان نے بتائی ہے۔ تاہم امریکہ میں گیس اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے ڈومینین ریسورسز نے اِس جوہری ریگولیٹری کمیشن کو بتایا ہے کہ اُس کے زیر انتظام ری ایکٹرز محفوظ ہیں اور وہ اگلے مہینے اِس بات کے شواہد پیش کر دے گی۔امریکہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک جوہری پلانٹ کو اُس کے ڈیزائن میں دیے گئے پیمانوں سے زیادہ کے زلزلے کے جھٹکے برداشت کرنا پڑ ے ہیں۔ڈومینین ریسورسز عنقریب ریاست ورجینیا میں واقع اپنا یہ نارتھ اینا پلانٹ دوبارہ چالو کرنا چاہتی ہے، جو زلزلے کے مرکز سے صرف بارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ لیکن اِسے چالُو کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ NRC اُسے اِس کی اجازت دے۔ گزشتہ ماہ کے زلزلے میں اِس جوہری پلانٹ کو لگنے والے زور دار جھٹکوں کے بعد NRC  اِسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دینے کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنا چاہتا ہے۔ اِسی سلسلے میں دونوں اداروں کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا جو تین گھنٹوں تک جاری رہا اور جس میں دونوں اداروں کے ایک ایک درجن سرکردہ نمائندے شریک ہوئے۔دونوں اداروں نے نارتھ اینا جوہری پلانٹ کے مفصل معائنے کیے ہیں لیکن اُنہیں ایسے کوئی آثار نہیں ملے ہیں، جن سے پتہ چلتا ہو کہ زلزلے کے جھٹکوں سے اِس جوہری پلانٹ کو کوئی بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ابھی ان دونوں اداروں نے یہی کہا ہے کہ وہ اس پلانٹ کی جانچ پڑتال کا سلسلہ بدستور جاری رکھیں گے۔ ڈومینین ریسورسز نے زلزلے کے کچھ ماہرین کی آراء پر مبنی ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اِس پاور پلانٹ کو بلا خوف و خطر دوبارہ چالُو کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اِس پلانٹ کے ایک ری ایکٹر میں تمام تیاریاں بائیس ستمبر تک مکمل ہو جائیں گی اور پھر اُسے کسی بھی وقت دوبارہ چلایا جا سکے گا۔واضح رہے کہ چھ ماہ قبل جاپان میں زلزلے اور سُونامی کے نتیجے میں فوکوشیما کے جوہری پاور پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کے بعد پوری دُنیا میں ایٹمی بجلی گھروں کو درپیش خطرات کو ترجیحی اہمیت دی جانے لگی ہے۔NRC کا کہنا ہے کہ وہ اِس سال کے اواخر میں تمام 104 امریکی جوہری پاور پلانٹس کو یہ ہدایات جاری کرنے والی ہے کہ وہ زلزلے کی صورت میں اپنے پلانٹس کی سلامتی کے نظاموں کی ایک بار پھر اچھی طرح سے جانچ پڑتال کریں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہو گا، جس میں دو سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے

ایران کا دورہ کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور تہران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپس میں اور زیادہ تعاون کرنا چاہیے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی نے تہران سے اپنی رپورٹوں میں ایرانی صدر کی سرکاری ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم ان دنوں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران میں ہیں، جہاں صدر احمدی نژاد کے ساتھ ایک ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اور بھی قریبی تعاون پر زور دیا۔ اس دوران پیر کے روز ہونے والی ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تقاضا ہے کہ قوموں کے درمیان حکومتی سطح پر اور زیادہ اشتراک عمل دیکھنے میں آئے۔ محمود احمدی نژاد کے مطابق، ’ہمارے ملکوں کے دشمن اور خطے کی چند ریاستیں ایسے عدم استحکام کو ہوا دینا چاہتے ہیں، جو علاقے کی ریاستوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو‘۔ ایرانی صدر کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس ملاقات کے موقع پر کہا کہ پاکستان اور ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زیادہ مربوط اور گہرے تعاون کے ذریعے اس بارے میں اپنی کاوشوں کی کامیابی کو یقینی بنا سکتے ہیں، ’پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اسلام آباد کے تہران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو کسی بھی طرح کوئی نقصان پہنچا سکے۔‘ فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی کے ‌خلاف جنگ میں قریبی تعاون دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے دوروں کا تبادلہ بھی کافی تواتر سے ہو رہا ہے۔ گزشتہ جون میں تہران میں انسداد دہشت گردی کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی ہوئی تھی، جس میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی نے بھی شرکت کی تھی اور تب اسلام آباد، کابل اور تہران کے مابین یہ اتفاق رائے بھی ہو گیا تھا کہ یہ تینوں ملک مل کر دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا مقابلہ کریں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے موجودہ دورہء ایران سے قبل پاکستانی صدر آصف زرداری نے بھی جون اور جولائی میں دو مرتبہ ایران کا دورہ کیا تھا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی بھی دو روز کے لیے ابھی گزشتہ ہفتے ہی پاکستان گئے تھے تاکہ اسلام آباد حکومت کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی موضوعات پر تبادلہ خیال کر سکیں اور دو طرفہ بنیادوں پر مزید تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔

افغانستان سے غير ملکی افواج سن 2014 تک واپس چلی جائيں گی۔ تاہم اب بھی اس ملک ميں امن کے آثار نظر نہيں آتے۔ افغان حکومت بات چيت کے ذريعے طالبان کو ہتھيار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
يہ پلان بہت معقول نظر آتا تھا: نيٹو نے افغانستان ميں اپنی فوج ميں مزيد اضافہ کر ديا اور اس طرح طالبان پر فوجی دباؤ بڑھا ديا۔ اس کے ساتھ ہی يہ طے کيا گيا کہ افغان حکومت طالبان سے امن مذاکرات شروع کرے گی۔ افغان صدر حامد کرزئی نے جون سن 2010 ميں اپيل کی تھی: ’’عزيز برادر طالبان، ہم سب افغان ہيں، آئيے ہم مل جل کر افغانستان کی تعمير نو کريں۔‘‘ ليکن ايسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ايک سال گذرنے کے بعد بھی طالبان کے چوٹی کے رہنماؤں اور افغان حکومت کے درميان بات چيت تو کجا براہ راست روابط تک بھی نہيں ہيں۔ طالبان کے ايک سابق عہديدار عبدالسلام سيف نے کہا: ’’ہم افغان حکومت سے نہيں بلکہ زيادہ سے زيادہ صرف نيٹو سے بات چيت کرنا چاہتے ہيں۔ اصل مسئلہ تو يہ غير ملکی فوجی ہی ہيں، جو طالبان کے مخالفين ہيں۔اس ليے بات تو انہی سے ہونا چاہيے۔‘‘ ليکن کرزئی حکومت اور اُس کے ساتھيوں کے ليے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ افغان صحافی فہيم دشتی کا کہنا ہے کہ باغی طالبان بھی اسے اچھی طرح جانتے ہيں: ’’طالبان کو يقين ہے کہ وہ سن 2014  کے بعد دو تين برسوں ميں افغانستان پر قبضہ کر ليں گے۔ تو پھر وہ بات چيت کيوں کريں، جب تک اُن کی پوزيشن طاقتور ہے؟‘‘ دشتی نے کہا کہ طالبان کو جمہوريت سے کوئی دلچسپی نہيں اور وہ اپنے پرانے اسلامی نظام ہی کو واپس لانے کے ليے کوشاں ہيں۔ طالبان کو مذاکرات کی ميز پر لانے کے ليے غير ملکی دباؤ کے بغير کوئی اور چارہ نظر نہيں آتا۔ برطانيہ کے سابق سفير برائے افغانستان شيرارڈ کاؤپر نے کہا: ’’پاکستان کو اس عمل ميں شامل کرنا ضروری ہے کيونکہ طالبان کو فوج کی اجازت سے پاکستان ميں پناہ ملی ہے اور پاکستان طالبان پر دباؤ ميں اضافہ کر سکتا ہے۔‘‘ تاہم پاکستان کی حربی دفاعی حکمت عملی کا انحصار داخلی سياسی جوڑ توڑ اور اُس کے مخالف بھارت کے ساتھ تعلقات پر ہے۔ اس طرح طالبان کے قائد ملا عمر کو مزيد مہلت ملتی جا رہی ہے۔ امريکہ کی رضامندی سے اس سال کے آخر تک خليجی رياست قطر ميں طالبان کا ايک سياسی دفترکھلنے کی اطلاعات بھی ہيں۔

نائجر کے وزیر اعظم نے تصدیق کر دی ہے کہ لیبیا کے سابق رہنما معمر القذافی کے ایک بیٹے سعدی القذافی سمیت کئی دنو‌ں سے روپوش قذافی کے 31 قریبی ساتھی دو ستمبرسے نائجر میں موجود ہیں۔ پیرکو نائجر کے وزیر اعظم رافینی نے کہا، ’قذافی کے 32 قریبی ساتھی نائجر میں موجود ہیں اور ان میں معمر قذافی کے بیٹے سعدی کے علاوہ قذافی کی افواج کے تین جنرل بھی شامل ہیں‘۔ دارالحکومت نیامی میں غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقات میں رافینی نے مزید کہا کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران یہ لوگ چار مختلف قافلوں کی صورت میں نائجر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ قذافی کے ان ساتھیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ وزیر اعظم رافینی نے یہ بھی کہا کہ نائجر پہنچنے والے ان تمام افراد میں سے کوئی بھی عالمی فوجداری عدالت کو مطلوب نہیں ہے، ’جہاں تک ہماری معلومات ہیں، تمام 32 افراد میں سے کوئی بھی جنگی جرائم کا مرتکب نہیں ہوا اور نہ ہی ان میں سے کوئی دی ہیگ کی جنگی جرائم کی خصوصی عدالت کو مطلوب ہے‘۔ نیامی حکام کے بقول جو اعلیٰ فوجی اہلکار نائجر پہنچے ہیں، ان میں لیبیا کی ایئر فورس کے سابق سربراہ الرفیع علی الشریف کے علاوہ معمر القذافی کے خصوصی محافظ علی خانا بھی شامل ہیں۔ ادھر لیبیا میں بنی ولید پر مکمل کنٹرول کے لیے باغی سپاہی اپنی چڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق انہیں قذافی کے حامی دستوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ دریں اثناء سابق لیکن اس وقت روپوش رہنما معمر قذافی نے اپنے ایک نئے آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ اور ان کے سپاہی اپنی جیت تک لڑائی جاری رکھیں گے۔ایک اور پیشرفت میں قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے قذافی کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد طرابلس میں اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا کہ وہ لیبیا میں معتدل اسلام کے نظریات کی طرز پر مضبوط اور پائیدار جمہوریت کا راستہ ہموار کریں گے۔ دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لیبیا کی قومی عبوری کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ ایمنسٹی نے اپنی تازہ رپورٹ شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا میں خانہ جنگی کے دوران جہاں قذافی کی افواج نے انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھا وہیں پر قذافی مخالف جنگجو بھی تشدد اور قتل جیسی کارروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک اہم ملاقات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی مخالفت کے باوجود فلسطینیوں کے خود مختار علاقوں کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی درخواست کی حمایت کی جائے گی۔ قاہرہ میں منعقد ہو رہے عرب لیگ کے ایک اجلاس کے دوران سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے کہا کہ آئندہ ہفتہ بیس ستمبر کو شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی درخواست کو مؤثر بنانے کے لیے مشاورت کا کام جاری رہے گا۔ عرب لیگ کے اس اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اس اجلاس سے قبل محمود عباس نے قاہرہ میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے بھی ملاقات کی۔ کیتھرین ایشٹن نے بھی عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کی اور اس دوران مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل اور اقوم متحدہ میں فلسطینی درخواست کے حوالے سے یورپی یونین کا مؤقف واضح کیا۔ قاہرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے یورپی یونین مذاکرات کی حمایت کرتی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھی کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس احتیاط سے کام لیں کیونکہ جلد بازی میں معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ برلن میں وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ویسٹر ویلے نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ امن عمل کی کامیابی کی ضمانت صرف مذاکرات ہی ہیں۔ عرب لیگ کے اجلاس کے بعد فلسطینی مذاکرات کار صائب ایرکات نے نبیل العربی کے ساتھ منعقد کی گئی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اقوام متحدہ کی رکنیت کی درخواست سے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ اسرائیلی پالیسیاں ہیں۔اس موقع پر محمود عباس نے بھی کہا کہ تمام خطرات اور رکاوٹوں کے باوجود وہ اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست ضرور جمع کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے شاید امریکہ فلسطینی علاقوں کے لیے اپنی مالی امداد بھی روک دے لیکن وہ اصولی فیصلہ کر چکے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھائیں گے۔ واشنگٹن حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر یہ معاملہ سکیورٹی کونسل میں اٹھایا گیا تو وہ اسے ویٹو کر دے گی۔  پیر کو امریکی صدر باراک اوباما نے بھی فلسطینی اتھارٹی کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملے کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ اوباما نے کہا، ’یہ مسئلہ صرف اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کسی سمجھوتے سے ہی حل ہو سکتا ہے‘۔فی الحال فلسطینیوں کو اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن اگر فلسطینی علاقوں کو اپنے لیے غیر ممبر ملک کا درجہ حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے سادہ اکثریت درکار ہو گی، جس میں کسی رکن کو ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد 193 ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہو گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر داخلہ نے کہا ہےکہ ایران ، پاکستان کے حالیہ سیلاب میں تباہ ہونےوالے علاقوں کی تعمیر نو کے لئے ایک سوملین ڈالر کی امداد دے گا۔ حسن قدمی نے آج ایک بیان میں کہا کہ ہمارے منصوبوں کے مطابق ایک سو ملین ڈالر کی مدد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اسپتال، مساجد اور امام بارگاہیں تعمیر کرنے میں خرج کئےجائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں ایران، پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے لئے ایک سو دس ٹن غذائي امداد روانہ کرے گا۔ یاد رہے پاکستان کےصوبہ سندھ میں حالیہ سیلاب کی صورتحال خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ حالیہ سیلاب سے دسیوں لاکھ ایکٹر پرمشتمل کھڑی فصلیں تباہ اور لاکھوں مویشی ہلاک ہوچکےہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دوسواٹھارہ اور چارسو پچانوے افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں مقامی طالب علموں کی ایک پر امن ریلی پر فوج اور کرم ملیشیا نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے متعدد طالبعلم زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق دو ہزار کے قریب طالبعلموں نے جو عید کی تعطیلات گذارنے اپنے آبائی شہر آئے ہوئے تھے، طالبان کے محاصرے کے خلاف آج ایک ریلی نکالی، تاہم جب ریلی کے شرکا شہید پرک کے قریب پہنچے تو وہاں تعینات فوجیوں اور کرم ملشیا نے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس موقع پر طالبعلوں نے کرم ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ کے خلاف شدید نعرے لگائے اور الزام عائد کیا کہ مقامی انتظامیہ طالبان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے پولٹیکل انتظامیہ لوگوں کو بلاوجہ اشتعال دلاکر طوری اور بنگش قبائل کے خلاف کاروائی کرنے کا ارداہ رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ پاراچنار عرصہ چار سال سے طالبان کے محاصرے میں ہے اور فوج بھاری رقومات لیکر لوگوں کو لانے لے جانے کا کام کرتی رہی ہے تاہم پاراچنار کے شھریوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے یہ کام بھی بند کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ یہ طالبعلم طالبان دہشت گردوں کے محاصرے کی وجہ سے دیگر شہروں میں واقع اپنے تعلیمی مراکز جانے سے قاصر ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے پرتگال کے آر ٹی پی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے علاقے کے مسائل بین الاقوامی حالات اور ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایران کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی۔
صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اس انٹرویو میں لیبیا میں نیٹو کی فوجی مداخلت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی مداخلت سے مسئلہ حل کرنے میں کوئي مدد نہیں ملے گي۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مداخلت کی اصل وجہ یہ ہے کہ بعض مغربی ممالک کہ جن کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے لیبیا کی بنیادی تنصیبات کو تباہ کر کے اس کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس طرح اپنی مشکلات کو دور کر سکیں۔  ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ لیبیا کے بارے میں سلامتی کونسل نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور اس کی وجہ بھی بہت ہی واضح ہے اور وہ یہ کہ یہ استعمار پسندوں کے لیے ایک آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے سلامتی کونسل کے کردار پر تنقید اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ اس وقت سلامتی کونسل قوموں کے حقوق کی حمایت کے بجائے ان کے لیے ایک خطرے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ یہی چیز ایٹمی خطروں کے بارے میں مغرب کے دہرے موقف میں بھی دکھائي دیتی ہے۔ اس وقت دنیا میں تقریبا ستائیس ہزار ایٹمی وار ہیڈز اور ایٹم بم موجود ہیں جو دنیا کے لیے مستقل خطرہ ہیں اور ان میں سے زیادہ تر امریکہ فرانس اور روس کے پاس ہیں۔ صیہونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں نے بھی کہ جو اس نے انہی ممالک کی مدد سے حاصل کیے ہیں، مشرق وسطی کے علاقے کو خطرے سے دوچار کر رکھا ہے اور امریکہ تو وہ ملک ہے جس نے ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے لاکھوں بےگناہ انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا اور آج یہی ممالک انسانی حقوق کے چیمپئن بن کر ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کے جھوٹے الزامات لگا کر سلامتی کونسل کو استعمال کر کے ناجائز پابندیاں لگواتے ہیں۔فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے بھی حال ہی میں ایران کے خلاف بیان دیتے ہوئے اس پر فوجی حملے کی دھمکی دے ڈالی۔ صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اپنے اس انٹرویو میں فرانسیسی صدر کے اسی بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر کا بیان اس وہم کا نتیجہ ہے کہ وہ دنیا کو ایک ایسا جنگل خیال کرتے ہیں کہ جس کے وہ بادشاہ ہیں۔ صدر مملکت نے اس انٹرویو میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا واقعی دنیا ایک ایسا جنگل ہے کہ جس کے بارے میں فرانس کے صدر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس کے بادشاہ ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ بعض بڑی طاقتیں دھمکی جنگ اور زور و زبردستی سے دنیا کا نظام چلانا چاہتی ہیں جبکہ حالات اب بدل چکے ہیں اور اب دنیا کا انتظام فکروسوچ ثقافت دوستی اور انسانیت کی بنیاد پر چلانا چاہیے۔  صدر مملکت نے علاقے کے حالات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف یہ ہے کہ آزادی عدل و انصاف اور احترام تمام قوموں کا حق ہے اور تمام حکومتوں کو اسے تسلیم کرنا چاہیے لیکن ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ ملک کے مسائل کو قوموں اور حکومتوں کو مل کر حل کرنا چاہیے۔ فوجی طاقت کے استعمال اور نیٹو کی مداخلت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا اور بندوق کی نالی سے جمہوریت اور آزادی باہر نہیں آئے گي۔  قوموں اور حکومتوں کو حق اور آزادی کو تسلیم کرنا چاہیے اور گفتگو کے ذریعے اپنی مشکلات کو دور کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی ان کے داخلی امور میں مداخلت کا کوئي حق نہیں ہے۔ البتہ مداخلت سے بھی مسئلے کو حل کرنے میں کوئي مدد نہیں ملے گي۔  صدر مملکت نے ایران کے ایٹمی مسئلے بارے میں کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام غیرفوجی ہے اور ایسی کوئي وجہ بھی موجود نہیں ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کرے۔ ملت ایران اصولی طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی مخالف ہے کیونکہ وہ اسے انسان مخالف اور انسانیت کے خلاف بدترین ہتھیار سمجھتی ہے اس کے علاوہ اب ایٹم بم کارآمد بھی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے پاس دس ہزار ایٹمی ہتھیار موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کیا وہ عراق اور افغانستان میں کامیاب ہو سکا ہے؟ سابق سوویت یونین کے پاس بھی ہزاروں ایٹمی ہتھیار تھے کیا وہ اس کا شیرازہ بکھرنے کو روک سکے؟ صیہونی حکومت کے پاس بھی دو سو سے زائد ایٹمی وارہیڈز ہیں لیکن کیا ان ہتھیاروں نے اسے غزہ اور لبنان میں فتح دلائی؟ صدر مملکت نے کہا کہ کس نے ایٹم بم بنایا اور کس نے اسے استعمال کیا؟ کیا ایران نے ہیروشیما پر ایٹمی بمباری کی اور آج جرمنی اٹلی اور بیلجیم میں ایٹمی ہتھیار ذخیرہ کیے ہوئے ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنہوں نے ایٹم بم بنایا اور اسے استعمال کیا آج وہ ملت ایران کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ صدر مملکت نے پرتگال کے ٹی وی چینل کو دیئے گئے اس انٹرویو میں صیہونی حکومت کے خاتمے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صیہونی منطق کا دور ختم ہو چکا ہے اور آج علاقے کی کوئی بھی قوم صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات رکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ صیہونزم کا دور استعماری اور غلامی کے دور کی مانند ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صیہونی حکومت کی بنیاد ہولوکاسٹ کے بارے میں دو بنیادی سوال اٹھائے تھے۔ ایک یہ کہ اگر اس واقعہ کو صحیح تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ کہاں رونما ہوا تھا؟ یہ یورپ میں رونما ہوا تھا۔ اس کا ہرجانہ فلسطین میں کیوں ادا کیاجائے؟ اور دوسرا سوال یہ کہ اگر یہ ایک تاریخی واقعہ ہے تو اس بات کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی کہ آزاد گروپ اور محققین اس کے بارے میں تحقیق کریں۔ واضح ہے کہ یہ علاقے پر تسلط کے لیے استعماری طاقتوں کا ایک سیاسی کھیل تھا۔  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اپنے اس انٹرویو میں علاقے کے حالات اور ایران کے بارے میں ایران کا موقف کھل کر بیان کیا۔ علاقے کے حالات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اب علاقے کی اقوام بیدار ہو رہی ہیں اور وہ بڑی طاقتوں کے ہاتھوں بکے ہوئے مہروں کو ایک ایک کر کے اقتدار کی مسند سے گھسیٹ کر نیچے گرا رہی ہیں اور اس بات پختہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ اب وہ اپنی تقدیر کے فیصلے خود کریں گی اور اس بات کی اجازت نہیں دیں گی کہ استعماری ممالک اپنے زرخریدوں کے ذریعے ان کے ملک کا انتظام چلائیں اور ان کے قدرتی ذخائر اور تیل کی دولت کو لوٹ کر لے جائيں۔ استعماری قوتیں آج علاقے میں پیش آنے والی اس صورت حال سے تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ بیداری کی ان تحریکوں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن علاقے کی اقوام اب بیدار ہو چکی ہیں اور وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گي کہ استعماری پٹھوؤں کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد ان کا ملک ایک بار پھر استعمار کے قبضے میں چلا جائے۔

ایک زمانہ تھا جب غاصب صہیونی حکومت، جو جی میں آئے کرلیتی تھی اور جو دھمکی دیتی تھی اس پر عمل درآمد کرنے سےنہیں چوکتی تھی لیکن اب اس کی ہر دھمکی کا فور طور پر منہ توڑ جواب دینے والے موجود ہیں اور اس کی دھمکیاں محض گیدڑ بھپکی بن کر رہ گئیں ہیں۔اس کی ایسی ہی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے ایک سینئر رہنما شیخ محمد یزبک نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حزب اللہ پوری طرح تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ محمد یزبک نے پورے لبنان کی حفاظت کے لیۓ حزب اللہ کی مکمل آمادگي کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن، حزب اللہ کو نقصان پہنچا کر لبنانیوں کو ذلت کی زندگي قبول کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں لیکن حزب اللہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گی۔لبنان کے تعلق سے یہ بات سب پر عیاں ہے کہ سن 80 کے ابتدائی عشرے میں لبنان کے دارالحکومت بیروت تک صہیونی فوجی دنداتے پھرتے تھے اور جنوبی لبنان کا پورا سر سبز شاداب خطہ مکمل طور سے صہیونیوں کے قبضے میں تھا اور پورا ملک خانہ جنگی کی آگ میں جل رہاتھا، ایسے میں حزب اللہ کی فکر رکھنے والے جوانوں نے آگے بڑھ کر صہیونیوں کا راستہ روکنے کا اردہ کیا اور سر سے کفن باندھ کر میدان میں نکل آئے۔ بعد ازاں حزب اللہ کے نام سے جب باضابطہ طور پر منظم ہوگئے تو نہ صرف اسرائیلیوں کو پیچھے دھکیل دیا بلکہ اپنے وطن سے بیرونی طاقتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈالدیا۔حزب اللہ کے جوانوں اور جنوبی لبنان کے مومن عوام کی بیش بہا قربانیوں کا ہی یہ نتیجہ کہ آج لبنان، سیاسی اور معاشی لحاظ سے ایک مضبوط ملک شمار ہوتا ہے۔غاصب اسرائیل کے حملوں اور جارحیت کے مقابلے میں یہ حزب اللہ اور اس کے جوان ہیں جو اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کررھے ہیں۔اسرائیل اور اس کی حامی قوتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ جب تک حزب اللہ لبنان میں سیاسی اور فوجی کردار ادا کرتی رہےگی اس وقت تک اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑا رہے گا۔ 33 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور اس عالمی اتحادیوں اور اس کے علاقائی حامیوں کی پوری کوشش یہ تھی کہ جس طرح بھی ممکن ہو حزب اللہ کو ختم کردیا جائے، لیکن حزب اللہ کے جوانوں کو تائید الہی حاصل تھی اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس غیر مساوی جنگ میں اسرائیلیوں کو انتہائی ذلت آمیز طریقے سے شکست ہوئی اور نئے مشرق وسطی کا منصوبہ لیکر امریکہ کی ملکہ جنگ کونڈا لیزا رائیس ناکام و نامراد اپنے دفتر میں جا دبکی۔ اس وقت اسرائیل نواز طاقتیں حزب اللہ کو مختلف طریقوں سے لبنان کے سیاسی میدان سے حذف کرنے اور اس سے ہتیار واپس لینے کے درپے ہیں اور مقصد کے لئے سات سمندر پار سے امریکہ اور مغربی ملکوں کے ساتھ ملک کے اند ان کے داخلی ایجنٹ سازشوں پر سازشیں کررھے ہیں۔البتہ حزب اللہ اتنی آسانی سے میدان چھوڑنے والی نہیں چنانچہ پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ محمد رعد نے کہا ہے کہ جو لوگ لبنانی حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے خواہاں ہیں وہ امریکہ اور صیہونی حکومت کےغلام اور ایجنٹ ہیں۔محمد رعد نے کہا کہ لبنانی حکومت کے مخالفین، جو تخریب کاری کے منصوبے بنارہے ہیں وہ دراصل امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ ان سازشوں کے تناظر میں یہ کہتے رہے ہیں کہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہےکہ امریکہ، صیہونی حکومت اور ان کے علاقائی پٹھوؤں کو لبنان میں فتنہ انگيزی اور فرقہ واریت پیدا کرنے سے فائدہ ہوگا، صرف ان ہی کوفائدہ نہیں ہوگا بلکہ سب سے زیادہ فائدہ صیہونی حکومت کو ہوگا، صیہونی حکومت لبنان کو داخلی جنگ کی آگ میں جلتا دیکھ کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکے گي جو توسیع پسندی اور لبنان کی مقبوضہ زمینوں کو ہڑپنے سے عبارت ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں ایک اوراہم بات کی تھی وہ یہ ہےکہ رفیق حریری ٹریبیونل کے اکثر یا سارے کارکن امریکہ کی بدنام زمانہ انٹلجنس ایجنسی سی آئی سے جڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے سی آئی اے میں برسوں تک خدمات انجام دی ہیں۔ حزب اللہ لبنان کی وہ و.احد سیاسی جماعت ہے جو کھل کر یہ کہتی کہ اس کی کی اسرائیلی حکومت کےسوا کسی سےدشمنی نہيں ہے۔اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کا یہ بیان قابل غور ہے کہ حزب اللہ صرف کوئی مسلح گروہ یا محدود تعداد میں اسلحہ رکھنے والا کوئی گروہ نہيں ہے جسے دشمن ختم کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے جس کا مقصد لبنان کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانا ہے۔یہی وہ سوچ ہے جسے غاصب صہیونی حکومت اور اس کے علاقائی اور عالمی اتحادی اسرائیل کی بقا کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور یہ وہ خطرہ ہے کہ جس نے غاصب حکومت کے حکام اور اس کے حامیوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ علاقے میں آئی اسلامی بیداری کی لہر اور مغرب نواز پٹھو حکمرانوں کی اقتدار کے ایوانوں سے پس زندان منتقلی سے، اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے کے امام خمینی کے تاریخی فرمان پر عمل درامد کا وقت بہت قریب آگیا ہے۔

مصر کے عوام کی جانب سے جمعہ کے روز قاہرہ میں صیہونی سفارت خانے کی تسخیر دونوں ملکوں کے بتیس سالہ تعلقات کی تاریخ میں ایک بہت بڑا واقعہ بن گئی۔ صیہونی حکومت کے حکام نے اس واقعہ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیل اور مصر کے تعلقات پر ایک کاری ضرب قرار دیا۔ صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اپنی تقریر میں کہ جو مصر میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر ان کی وحشت اور تشویش کی عکاسی کر رہی تھی، عرب دنیا میں صیہونیت مخالف عوامی احتجاج کی وسیع لہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرق وسطی میں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا ہے اور اسرائیل کو دوراندیشی سے کام لینا ہو گا۔ اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ مصر میں جو کچھ ہوا ہے وہ اس جارحیت اور ظلم کے خلاف ایک قوم کے غصے کا اظہار تھا کہ جو صیہونی حکومت نے عرب اور فلسطینی بہن بھائیوں پر ڈھا رکھا ہے۔مصر کے عوام نے قاہرہ میں صیہونی حکومت کے سفارت خانے کی حفاظتی دیوار توڑتے وقت نعرے لگائے کہ آج ہم یہ دیوار توڑ رہے ہیں اور کل ہم مقبوضہ فلسطین میں صیہونی دیوار توڑیں گے۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ اس قوم کے عزم کی نشانی ہے کہ جو اس بار اسرائيل کی جعلی حکومت کے خلاف ایک سنجیدہ اقدام انجام دینا چاہتی ہے۔ خصوصا اس لیے کہ علاقے کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ صیہونی حکومت اب کسی بھی زمانے سے زیادہ خوف و وحشت کا شکار ہے۔اس وقت تمام عرب ممالک میں صیہونیت مخالف جذبات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صیہونی حکومت کو داخلی طور پر بھی سنگین بحران کا سامنا ہے۔ ایک طرف اپنے ہی شہریوں کے خلاف صیہونی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف اسرائیل کے اندر اعتراضات وسیع شکل اختیار کر رہے ہیں اور دوسری طرف پروگرام کے مطابق رواں ماہ کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے درخواست پیش کی جائے گي۔ اب تک دنیا کے بہت سے ممالک نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے کہ جو صیہونی حکومت کے حکام کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح بن گيا۔ ان حالات میں مصر میں صیہونی حکومت کے سفارت خانے پر مصری عوام کا حملہ، وہ بھی ایک ایسے ملک میں کہ جو تیس سال سے زائد عرصے تک علاقے میں صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے دائرے میں چلتا رہا، صیہونی حکومت کے لیے ایک اور ضرب کے مترادف ہے۔ مسلمہ بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں مشرق وسطی کے عرب ممالک میں ایک نئي صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ جو علاقے کے بارے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے گزشتہ اندازوں سے بہت مختلف ہے۔ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے نئی صورت حال کو ایک انتہائی زوردار زلزلے سے تعبیر کیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ اگرچہ علاقے کے بہت سے عرب ممالک نے صیہونی حکومت کے قیام کے بعد اس کے ساتھ واضح اور ڈھکے چھپے تعلقات رکھے ہیں لیکن علاقے میں اسلامی بیداری کی لہر پیدا ہونے کے بعد ان ملکوں کے سربراہوں کے پاس اب اس کے سوا کوئي چارہ نہیں ہے کہ وہ صیہونی حکومت سے دوری اختیار کر لیں اور اس کا مطلب اسرائیل کا علاقے میں الگ تھلگ ہو جانا ہے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کے خیال میں قاہرہ میں صیہونی حکومت کے جاسوسی اڈے کی تسخیر کہ جس کے بعد صیہونی حکومت کا سفیر اور سفارت خانے کے ملازمین راتوں رات مصر سے بھاگ گئے، اس پیغام کی حامل ہے کہ صیہونی حکومت کی اپنے دوست عرب ملکوں میں کوئي جگہ نہیں رہ گئی ہے اور بلاشبہ یہ صیہونی حکومت کے لیے بدترین پیغام ہے کہ جس نے علاقے میں عرب اور اسلامی بیداری کی بہار شروع ہونے سے پہلے مغرب سے وابستہ عرب حکمرانوں سے بہت امیدیں لگا رکھی تھیں۔

جرمنی میں امریکہ کے سابق سفیر جان سی کارن بلم نے کہا ہے کہ عراق پر امریکی حملے اور صدام حکومت کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی 9/11 کے واقعہ سے پہلے ہی کرلی گئي تھی۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق جان سی کارن بلم نے ایک انٹرویو میں جارج بش کی صدارت کے دوران امریکی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 9/11 کا واقعہ عراق پر حملے کے لئے امریکی حکومت کا ایک حربہ بن گيا۔جرمنی میں سابق امریکی سفیر نے کہا کہ جارج بش کی جنگ پسندانہ پالیسی کے پیش نظر اگر 9/11 کا واقعہ پیش نہ آتا تو بھی جارج بش عراق پر حملے کے لئے کوئي اور بہانہ تلاش کرلیتے۔ جان سی کارن بلم نے امریکہ کی اقتصادی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہرانہ تجزیہ و تحلیل کے بعد ہمیں یہ پتہ چلا کہ جنگ عراق امریکی اقتصاد کا بتدریج دیوالہ نکلنے کا ایک سبب تھی۔یہ انکشاف ایک ایسے وقت کیا گیا ہے کہ جب گیارہ ستمبر کی تاریخ قریب آرہی ہے اور جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آتی جارہی ہی خصوصیت کے ساتھ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں پر انجانا خوف طاری ہوتا جارہا ہے۔اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں مسجد الاسلام کے امام جماعت عبدالعلیم موسی نے کہا ہے کہ امریکہ میں مسلمان خوف و اضطراب میں زندگي گذار رہے ہیں۔ عبدالعلیم موسی نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف سی آئي اے اور پولیس کی جاسوسی سے مسلمان خوف و اضطراب میں مبتلا ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی مسلمانوں کی جاسوسی کرنا امریکی اداروں کی پرانی روش ہے لیکن گيارہ ستمبر کے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے امریکہ میں مسلمانوں پر دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کےخلاف جاسوسی کرنے کے لئے نیویارک پولیس اور سی آئی اے کے تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پولیس نے اس تعاون کے تحت مسلمانوں کے تمام عام مقامات کو اپنی نگرانی میں لے لیا ہے اور ان مقامات پر جاسوسی کے آلات نصب کر دئے ہیں۔گیارہ ستمبر کی وہ منحوس تاریخ ہے کہ جس دن امریکہ میں بیک وقت چار ہوائی جہازوں کے اغوا کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹرکی عمارتوں کو لوگوں نے زمین بوس ہوتے دیکھا ۔اسی طرح امریکی وزارت جنگ پینٹا گون پر بھی ایک حملے کی خبر نشر ہوئی اور یہ دعوی کیا گیا کہ ایک طیارہ اس سے جا ٹکرایا ہے ۔البتہ جس حصے میں یہ طیارہ ٹکریا ہے وہاں عمارت کے نزدیک لگے بجلی کے پول اور کھمبے بالکل محفوظ رہے ۔ ایک طیارے کو امریکی افواج نے مارگرایا۔لوگوں نے صرف میڈیا پر دیکھا اور سنا اور اس پر یقین بھی کرلیا آور آج امریکہ اور اس کے ہمنوا ممالک کا میڈیا صبح ہی اس ڈرامے سے متعلق خبریں اور تبصرے نشر کرکے ایک بار پھر مسلمانوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھرارہا ہے ۔گذشتہ مارچ کے مہینے میں امریکہ میں ایک ہزار آرکی ٹیکٹ اور انجینیروں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیاتھا کہ وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کےبارےمیں نئے سرے سے تحقیقات کرائے ۔امریکن فری پریس کے مطابق ان آرکیٹیکٹ اور انجینروں نے سان فرانسسکو میں ایک کانفرنس میں 9/11 کے واقعات کے بارےمیں حکومتی تحقیقات پرسوالیہ نشان لگاتےہوئے یہ سوال اٹھایا تھاکہ گيارہ منٹوں میں کس طرح فولاد اور سیمنٹ کا ڈھانچہ تباہ ہوگيا۔امریکن آرکیٹیکٹ ایسوسی ایشن کے رکن رچرڈ گيج نے کہا ہے کہ فیڈرل ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ اور نیشنل اسٹنیڈرڈ اینڈ ٹکنالوجیکل انسٹی ٹیوٹ نے ڈبلیو ٹی سی کے کنارے عمارت کے انھدام کے بارے میں جو دلیلیں پیش کی ہیں وہ ناقابل قبول اور ناقص ہیں اور حقائق سے تضاد رکھتی ہیں۔یادرہے 9/11 دہشت گردانہ حملوں میں نیویارک میں عالمی تجارتی مرکز کی جڑواں عمارتیں تباہ ہوگئيں تھیں ۔ادہر امریکہ کے تحقیقاتی گروہ کی جدید ترین تحقیقات سے صاف ظاہرہوگیا ہےکہ گيارہ ستمبر کے واقعات سفید جھوٹ کا پلنداہے۔ڈیجیٹل جرنل کی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ میں سول انجنیروں اور فن تعمیر کے ماہرین کے ایک گروہ نے وسیع تحقیقات انجام دینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہےکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جڑوان عمارتوں کا انھدام جیسا کہ امریکی اور عالمی میڈیا میں بتایا گيا ہے کسی بھی صورت میں صرف طیاروں کے ٹکرانے اور طیاروں کے ایندھن سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں عمل میں نہیں آسکتا۔جڑواں عمارتوں کے ملبے سے ملنے والے پھگلے ہوئےلوہے اور فولاد کے نمونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جڑواں عمارتوں کی تباہی صرف طیاروں کے ایندھن سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں ممکن نہیں ہوسکتی کیونکہ طیاروں کے ایندھن سے لگنےوالی آگ اتنی شدید نہیں ہوتی کہ لوہے اور فولاد کو پگھلادے۔گیارہ سمتبر کے تحقیقاتی گروہ سے موسوم ان ماہرین کا کہنا ہےکہ صرف طیاروں کے ٹکرانے کے نتیجے میں جڑواں عمارتيں نہیں گری ہیں بلکہ پہلے سے ان عمارتوں میں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مادہ نصب کیا گيا تھا۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جڑواں عمارتوں کے گرنے کے کئي گھنٹوں بعد عمارت نمبر سات کے گرنے سے صاف پتہ چلتا ہےکہ دہشتگردوں کے ہاتھوں طیاروں کے اغوا کا ڈرامہ بڑی مہارت سے رچا گيا تھا کیونکہ عمارت نمبر 7 کسی طیارے کے ٹکرائے بغیر اچانک منہدم ہوگئی۔یادرہے 9/11 کے واقعات کے بعد جس میں امریکہ کے بقول 3000 افراد مارے گئےہیں ان واقعات کو بہانہ بناکر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کردی اور اسی بہانے سے افغانستان اور عراق پرجنگ تھوپ دی جس میں اب تک لاکھوں افراد مارے گئےہیں۔9/11 کی تاریخ جیسے جیسے نزدیک آتی جاتی ہے ان واقعات کا رونا روکر اسلام اور اسلامی دنیا کے خلاف جی بھر کے پروپیگنڈا کیاجاتا ہے اور لگتا یہ ہے کہ ہولو کاسٹ کی طرح اس واقعے پر بھی برسہا برس پردے پڑے رہیں گے ۔